چیف صاحب * زرا ہاتھ ہلکا رکھیں *

کبھی کبھی انسان بہت بے بس ہوجاتا ہے اسے سمجھ نہیں آتی کہ کرے تو کیا کرے ایسی صورتحال میں ایک ہی زات انسان کو راستہ دکھاتی ہے اور وہ زات اللہ پاک کی زات ہے آج جب تحریک کے خلاف فیصلہ آیا تو بے اختیار بے بسی کی انتہاء پر پہنچ کر میری نظریں عرش باری تعالیٰ کی جانب اٹھتی چلی گئیں

مجھے اچھے سے یاد ہے کہ جب میں کراچی میں تھا تو 12 مئی کا واقعہ ہوا اور ہمارے محلے میں جوان لاشیں آئیں تو کہرام مچ گیا ہر طرف ایک ہی صدا تھی کہ چیف جسٹس افتخار چوہدری نہ کراچی آتا نہ سرعام روڈوں پر گولی چلتی اور قتل عام ہوتا اور نہ ہی 44 گھروں کے چراغ گل ہوتے

ہم نے دیکھا کہ ایک شخص جسکی گردن میں گولی لگی تھی چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ خدا کے لیے مجھے ہسپتال لے جاؤ مگر اسے کوئی اٹھانے والا نہ تھا

آج جب ناموس رسالت اور ختم نبوت کی بنیاد پر بننے والی ایک جماعت کے خلاف چیف جسٹس نے قائداعظم کے فرمان کو سامنے رکھ کر یہ کہتے ہوئے موردالزام ٹھہرایا کہ فیض آباد دھرنے میں تحریک لبیک کے سربراہان پر فوجداری مقدمات چلائے جائیں کیونکہ نہ وہ دھرنا دیتے اور نہ ہی 6 لوگ ناموس رسالت پر شہید ہوتے تو میں سوچ میں پڑگیا ان 40 لوگوں کا گناہ کس کے سر پر ہے جو دعتخار حسین چوہدری کے استقبال کے لیے اپنی جانوں کا نزرانہ پیش کرکے عدلیہ کی آزادی کا نعرہ لگا گئے

حالانکہ اس وقت حساس اداروں نے افتخار حسین چوہدری کو منع بھی کیا تھا مگر پھر بھی وہ کراچی گئے اور شاہراہ فیصل پر خون کی ہولی کھیلی گئی جسے کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کیا سانحہ بارہ مئی میں ملوث کئی ملزمان گرفتار بھی ہوئے جنہوں نے بہت سے اہم انکشافات کئے ۔ایم کیو ایم کے رکن سندھ اسمبلی کامران فاروقی نے سانحہ بارہ مئی کی تفتیش کے دوران یہ اعتراف بھی کیا کہ اس سانحہ کی منصوبہ بندی کے لئے نائن زیرو پر اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں فاروق ستار اور دیگر ارکان شامل تھےاور اس اجلاس میں قیادت نے ہر صورت شہر بند کرنے کی ہدایت دی تاکہ وکلاء اور عوام افتخار محمد چوہدری کے استقبال کے لئے ایئرپورٹ نہیں پہنچ سکیں چاہے اسکے لیے ہمیں لاشوں ہی کیوں نہ گرانی پڑیں اور پھر عمران خان صاحب ملک کے موجودہ وزیراعظم نے لندن جاکر عدالت کو ایم کیو ایم کے خلاف ثبوت بھی فراہم کیے لیکن افسوس یہ کیس پاکستان کی عدالت میں دائر تک نہ ہو سکا

اور پھر آج تحریک لبیک کے خلاف کسی اس 12 مئی کے واقع کو بنیاد بنا کر کہتے ہیں کہ اس وقت اس واقع کا نوٹس نہیں لیا گیا جس پر لبیک کو شہہ ملی

اسکے بعد نقصان کا بتاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ 36 کروڑ کا نقصان ہوا جسکے زمہ دار بھی تحریک لبیک ہے کیونکہ انکے ارکان نے غصے میں یہ جلاو گھیراو کیا تو چیف صاحب آپکی توجہ ایک اہم واقع کی جانب مرکوز کرواتا چلوں تاکہ آپکو معلوم ہو سکے کہ اصل نقصان کب کیسے اور کس نے کیا بدقسمتی سے اس نقصان کا ازالہ بھی ابھی باقی ہے

جس میں ایک رات میں 48 افراد موت کے گھاٹ اتر گئے اور اربوں کی مالیت کو آگ لگا دی گئی پاکستان کی مالیت کو جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار اور پیر تک 5 دن خوب لوٹا گیا پورے ملک میں کرفیو کی صورت حال پیدا ہوگئی قرآن پاک سے بھری تاج کمپنی کی گاڑی کو آگ لگا دی گئی اور یہ سب پیپلزپارٹی کے چاہنے والوں نے کیا ان پانچ دنوں میں لوگ گھروں میں محصور رہے عورتوں کی عزتوں کو تار تار کیا گیا اور عیاش عناصر روڈوں پر دندناتے پھرتے نظر آئے لیکن افسوس اس پر کوئی کیس نہ بنا

اور آج جب قادیانیوں کو سرعام پاکستان کا ایک وزیر مسلمان کہہ کر 1973 کے آئین کا مزاق اڑاتا ہے دین کا مزاق اڑاتا ہے اس سے سوال پوچھنے اور آئندہ ایسا نہ کرنے کا وعدہ لینے کے لیے گھر سے نکلے ہوئے مجاھدین کو سرعام تشدد کرنا اور طاقت کا بے دریغ استعمال کرکے 6 بندے شہید کردینے کا قصور وار بھی انھیں کہنا اور پھر کیس بھی انھیں پر چلانے جیسا انصاف دیکھنے میں آئے تو نظریں پھر چیف جسٹس کی طرف نہیں بلکہ خود بخود اس سپر پاور کی جانب اٹھ جاتی ہیں جو جبار اور قہار ہے اور پھر جب اس جبار و قہار کا لاٹھی چارج ہوتا ہے تو بل کس نکال دیتا ہے

چیف صاحب خدا کے لیے اللہ پاک کے عزاب کو دعوت مت دو

تحریر : لئیق احمد دانش