خواجہ معین الدین چشتی قدس اللہ سرہٗ

خواجہ معین الدین چشتی قدس اللہ سرہٗ 

 جہاں گیرحسن مصباحی

سلطان الہند خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ سیستان کے قصبہ سنجر میں۵۳۷ہجری کو پیدا ہوئے۔آپ ایک دین داراور علمی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔آپ نجیب الطرفین سیدہیں۔بچپن ہی سے نرم دل اور شریف طبیعت کے مالک تھے۔آپ کی طبیعت بچوںکی عام عادت اور مزاج سے یکسرجداتھی،بلکہ سچ تو یہ ہے کہ بچپن کے زمانے سے ہی خواجہ غریب نواز کے اندر وہ تمام آثارنمایاں تھے جو ایک مردمومن کی علامت اور پہچان ہوتی ہے۔

تعلیم وتربیت:

حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ کی نشو و نما خراسان میں ہوئی اوروہیںپلے بڑھے۔جب پندرہ سال کے ہوئے تو والد بزرگوار کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ ترکہ میں ایک باغ ملاہواتھا، اسی کی نگہبانی کیا کرتے تھے۔ ایک دن ابراہیم قندوزی نامی بزرگ باغ میں آئے۔ خواجہ رحمۃ اللہ علیہ نے ان کی خدمت میں انگور کے خوشے پیش کیے لیکن انھوں نے انگور نہیں کھایااورکھلی کے ایک ٹکڑے کو دانتوں سے چبا کر خواجہ غریب نوازرحمۃ اللہ علیہ کو دیا۔اس کھلی کا کھانا تھا کہ حضرت کا دل انوار الٰہی سے معمورہو گیا۔ علائق کو چھوڑ کر طلب حق کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے اور سمرقندوبخارا پہنچے۔وہیں کلام مجید حفظ کیا اور علوم ظاہری کی تکمیل فرمائی۔

شرف بیعت : 

تعلیم مکمل کر نے کے بعد عراق پہنچے اور حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللہ علیہ سے شرف بیعت حاصل کی۔کچھ دنوںتک مرشد کی خدمت میں رہے اورطریقت و معرفت کی منزلیں طے کیں۔ پھرجب عشق رسول کی تپش بڑھی تو مدینہ طیبہ کا ارادہ کیا،وہاںکچھ دن گذارنے کے بعدبارگاہ نبوی سے اشارہ ملا کہ ہندوستان جائو اور دین اسلام کی تبلیغ کرو۔

ہندوستان آمد: 

خواجہ رحمۃ اللہ علیہ مختلف مقامات مقدسہ کی زیارت کرتے ہوئے ہندوستان تشریف لائے۔ آپ جس وقت تشریف لائے،اس وقت ہندوستان میں ہر طرف کفر و ضلالت کابازار گرم تھا۔ انسانیت انسانوں کے ہاتھوں پامال ہو رہی تھی۔ لوگ ایک خدا کی پرستش کے بجائے کئی خداؤں کا تصور رکھتے تھے اور طرح طرح کے خرافات میںمبتلا تھے۔ ایسے حالات میں آپ نے توحید و رسالت کی ایسی شمع روشن کی کہ اس کی روشنی سے سرزمین ہندآج تک منورہے اورتاقیامت یوں ہی منور رہے گی۔

ہر دور میں ہندوستان کے حکمرانوں کو خواجہ رحمۃ اللہ علیہ سے بے پناہ عقیدت رہی۔اس کے شواہد تاریخی دستاویزات کے ساتھ ساتھ، درگاہ اجمیر شریف میں ان بادشاہوں کی حاضری، تعمیرات اور نذر و نیاز جیسے اعمال ہیں۔

ازدواجی زندگی:

خواجہ رحمۃ اللہ علیہ کی دو شادیاں ہوئیں، جن میں ایک ’’عصمت بی بی‘‘ جو حاکم اجمیر کی بیٹی تھیں اور دوسری ایک ہندو راجہ کی لڑکی ’’بی بی امۃاللہ‘‘ تھیں جو مشرف بہ اسلام ہو گئی تھیں۔

خواجہ علیہ الرحمہ کے تین لڑکے سید فخرا لدین، سید ضیاء الدین ابو سعید اور سید حسام الدین رحمۃ اللہ علیہم تھے اور ایک بیٹی ’’بی بی حافظہ جمال ‘‘رحمۃ اللہ علیہا تھیں۔

معمولا ت:

ایمان کی اصل یہ ہے کہ مومن کے اندر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ماں ،باپ ، اولاد اور مال، بلکہ ہرچیزسے زیادہ ہو،جس قدر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہوگی اسی قدر ایمان میں مضبوطی آئے گی۔خواجہ رحمۃ اللہ علیہ کے معمولات دیکھنے سے واضح ہوتا ہے کہ ان کی تمام زندگی عشق الٰہی اورعشق رسول میں گزری۔اللہ عز وجل اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر بہت ہی والہانہ انداز سے کرتے اورہمیشہ اس بات کا خوف رہتا کہ کہیں حقوق اللہ اور حقوق العبادمیں کوئی کوتاہی نہ ہوجائے،جس کے سبب کل قیامت میں اللہ عز وجل اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے شرمندہ ہوناپڑے۔

مجاہدے کا یہ عالم تھا کہ بہت ہی کم سوتے۔ اکثر عشا کے وضو سے فجر کی نماز ادا کرتے۔کثرت سے کلام پاک کی تلاوت کیا کرتے۔ کسی شہر میں پہنچتے تو قبرستان میں قیام کرتے اور جب لوگوں کو ان کی خبر ہو جاتی تو وہاں سے چل دیتے۔بدن پر برابرفقیرانہ لباس ہوتا۔ اگر وہ کہیں سے پھٹ جاتا تو جس رنگ کا کپڑا ملتا اسی کا پیوند لگا لیتے۔ کھانا بہت کم کھاتے۔اکثر روزہ رکھاکرتے۔بعض تذکرہ نگاروں نے لکھاہے کہ آپ صائم الدہر تھے۔ سفر میں تیر و کمان، نمکدان اور چقماق ساتھ رکھتے ،تاکہ افطار میں کوئی دقت نہ ہو۔

یوں تو تمام صوفیااوراولیا حلیم وبردباراور عفوودرگذرکاپیکر ہوتے ہیں لیکن خواجہ رحمۃ اللہ علیہ کی یہ درویشانہ صفت کمال کو پہنچی ہوئی تھی۔ ’’ یا رَبِّ حَبْلِیْ اُمَّتِی‘‘ کی طرزپراپنے مریدین ومتوسلین کے لیے دعائیں کرتے اور اپنے ہر عمل سے سنت نبوی کاپیغام دیتے ۔پڑوسیوں کا بھی اچھی طرح خیال رکھتے۔ جب کوئی ہمسایہ انتقال کر جاتا تو اس کے جنازے میں شریک ہوتے۔ لوگ واپس لوٹ جاتے لیکن آپ دیر تک اس کی قبر کے پاس دعائیںکرتے رہتے۔عذاب قبر کا خوف بھی آپ میں حد درجہ تھا، جب کبھی قبر کا ذکر آتا تو چیخیں مار کر رو پڑتے۔

سماع: 

خواجہ رحمۃ اللہ علیہ سماع کا بھی ذوق رکھتے تھے۔ان کی محفل سماع میںبڑے بڑے علماا ور مشائخ شریک ہوتے تھے۔ان کاخیال تھا کہ سماع اسرار حق اور معرفت الہٰی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ سماع میں اللہ اور بندے کے درمیان کے سارے حجابات اٹھتے چلے جاتے ہیں۔ پھرجب بندے پرعشق الہی کا غلبہ ہوتاہے اوراللہ کی ہیبت و خشیت طاری ہوتی ہے تواس کا قلب انواروتجلیات سے بھرجاتاہے اوروہ و جدوسرور کی ایمانی کیفیت سے سرشارنظرآتا ہے۔

تصانیف:

بعض لوگوں نے خواجہ رحمۃ اللہ علیہ کی جانب جن تصانیف کو منسوب کیا ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں:

۱۔انیس الارواح

۲۔ گنج اسرار

۳۔کشف الاسرار

۴۔دلیل العارفین

اول الذکر تصنیف خواجہ عثمان ہارونی کے ملفوظات پر مشتمل ہے ۔اس میں دیوان معین کے علاوہ کئی مختلف رسالے بھی ہیں جبکہ آخرالذکرتصنیف خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات پر مشتمل ہے، جس میں اخلاق، نماز، روزہ، تلاوت،معرفت کی باتیں اور سلوک کے مقامات وغیرہ کا ذکرمختصر اورجامع طورپرہے۔

وصا ل:

خواجہ رحمۃ اللہ علیہ عشا کی نماز پڑھ کر اپنے حجرے میں گئے ، دروازہ بندکرلیااورکچھ دیربعدایسے پاؤں پٹکنے کی آواز آنے لگی جیسے کوئی وجد وکیف کے عالم میں پٹکتاہے اور اسی وجد کے عالم میں آخر شب کو ان کی روح پرواز کر گئی اور یوں ’’حبیب اللہ، حب اللہ‘‘ کی خاطر جاں بحق ہو گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن

درس 028: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)

*درس 028: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(وَأَمَّا) بَيَانُ مَا يُسْتَنْجَى بِهِ فَالسُّنَّةُ هُوَ الِاسْتِنْجَاءُ بِالْأَشْيَاءِ الطَّاهِرَةِ مِنْ الْأَحْجَارِ وَالْأَمْدَارِ، وَالتُّرَابِ، وَالْخِرَقِ الْبَوَالِي.

ان چیزوں کا بیان جن کے ساتھ استنجاء کیا جاسکتا ہے: سنت یہ ہے کہ پاک چیزوں سے استنجاء کیا جائے یعنی پتھروں سے، ڈھیلوں سے، مٹی سے اور بوسیدہ کپڑوں کے ٹکڑوں سے۔

وَيُكْرَهُ بِالرَّوْثِ، وَغَيْرِهِ مِنْ الْأَنْجَاسِ؛ لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ عَنْ أَحْجَارِ الِاسْتِنْجَاءِ أَتَاهُ بِحَجَرَيْنِ وَرَوْثَةٍ، فَأَخَذَ الْحَجَرَيْنِ وَرَمَى بِالرَّوْثَةِ، وَعَلَّلَ بِكَوْنِهَا نَجَسًا، فَقَالَ: إنَّهَا رِجْسٌ أَوْ رِكْسٌ، أَيْ: نَجَسٌ.

اور لید وغیرہ ناپاک چیزوں سے استنجاء کرنا مکروہ ہے، اسلئے کہ ایک دفعہ نبی کریم ﷺ نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے استنجاء کے لئے پتھر طلب فرمائے تو عبد اللہ بن مسعود دو پتھر اور ایک لید کا ٹکڑا لے آئے، توحضور ﷺ نے دو پتھروں کو لے لیا اور لید کے ٹکڑے کو پھینک دیا اور وجہ اسکا ناپاک ہونا بتایا۔ ارشاد فرمایا: یہ *رجس* ہے، راوی کہتے ہیں یا شاید *رکس* فرمایا، یعنی گندگی ہے۔

وَيُكْرَهُ بِالْعَظْمِ لِمَا رُوِيَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الِاسْتِنْجَاءِ بِالرَّوْثِ، وَالرِّمَّةِ وَقَالَ: مَنْ اسْتَنْجَى بِرَوْثٍ، أَوْ رِمَّةٍ فَهُوَ بَرِيءٌ مِمَّا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ.

ہڈی سے استنجاء بھی مکروہ ہے اسلئے کہ نبی رحمت ﷺ نے لید اور پرانی ہڈی سے استنجاء کرنے سے منع فرمایا ہے، ارشاد فرمایا: جس نے لید یا پرانی ہڈی سے استنجاء کیا تو وہ محمد ﷺ پر نازل شدہ شریعت سے بیزار ہے۔

وَرُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: لَا تَسْتَنْجُوا بِالْعَظْمِ وَلَا بِالرَّوْثِ فَإِنَّ الْعَظْمَ زَادُ إخْوَانِكُمْ الْجِنِّ وَالرَّوْثُ عَلَفُ دَوَابِّهِمْ

اسی طرح نبی کریم ﷺ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ہڈی اور لید سے استنجاء نہ کرو اسلئے ہڈی تمہارے جنات بھائیوں کی خوراک ہے اور لید ان کے جانوروں کا چارہ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

*کن چیزوں سے استنجاء کیا جائے*

علامہ کاسانی نے یہاں سے ان چیزوں کابیان شروع کیا جن سے استنجاء کیا جاسکتا ہے اور جن سے استنجاء نہیں کیا جاسکتا۔

آگے جاکر خود اسکی وجہ بیان فرمائیں گے، ہم یہاں وہ اصولی بحث ذکر کر دیتے ہیں جو اس کونسیپٹ کو کلئیر کردے گی کہ کن چیزوں سے استنجاء ہوسکتا ہے اور کن سے نہیں۔۔۔

پچھلے درس سے معلوم ہوا کہ پتھر کو پانی کے قائم مقام قرار دیا گیا ہے اور جس طرح پانی *مزیلِ نجاست* یعنی نجاست کو زائل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اسی طرح پتھر بھی *مزیلِ نجاست* ہے۔

فرق صرف اتنا ہے کہ پانی سے نجاست کو *دھویا* جاتا ہے جبکہ پتھر سے نجاست کو *پونچھا* جاتا ہے۔

لہذا۔۔۔۔

*ہر وہ چیز جس سے نجاست کو پونچھا جاسکتا ہو، اس سے استنجاء ہوجائے گا۔۔ چاہے اس کا استعمال جائز ہو یا ناجائز*

*استنجاء میں کن چیزوں کا استعمال جائز نہیں ہے۔۔!!*

1- جن سے احادیث میں ممانعت آگئی۔۔۔ جیسے ہڈی اور لید

2- ناپاک چیزوں سے۔۔۔جیسے لید کیونکہ ناپاک ہے مگر سوکھی ہوئی ہو تو استنجاء ہوجائے گا مگر گناہگار ہوگا

3- جو قیمت رکھتی ہوں۔۔۔جیسے نیا کپڑا، موزے، کھانے پینے کی اشیاء کیونکہ ان کے استعمال سے مال کا ضائع کرنا لازم آتا ہے

4- جو قابلِ تعظیم ہوں۔۔۔ جیسے کاغذ اسلئے کہ وہ علم سیکھنے سکھانے کا آلہ ہے، اسی سبب سے آبِ زم زم سے استنجاء ناجائز و گناہ ہے

5- دوسرے کی ملکیت ہو۔۔۔جیسے وقف کی دیوار سے

ان سب چیزوں میں غور کریں تو معلوم ہوگا کہ۔۔۔

*جن چیزوں سے استنجاء کی ممانعت ہے ۔۔ اسکی وجہ کوئی خارجی چیز ہے*

مثلا کہیں تعظیم کی خلاف ورزی ہے، کہیں مال کا ضائع کرنا ہے ، کہیں ناپاک شے کا استعمال کرنا ہے وغیرہ وغیرہ

اور جہاں ممانعت کی کوئی وجہ نہ پائی جائے اس سے استنجاء جائز ہے جیسے ڈھیلے، مٹی، پرانا بوسیدہ کپڑا۔

استنجاء کے بعد ٹوائلٹ پیپر /ٹیشو پیپر کا استعمال درست ہے یا نہیں۔۔!

اس میں بعض علماء کرام کی رائے یہ ہے کہ یہ کاغذ ہی ہے اور کاغذ علم سیکھنے کا آلہ ہے تو اس کا استعمال جائز نہیں ہے، اسی کو بنیاد بناکر کھانے کے بعد ٹیشو پیپر کے استعمال سے بھی ممانعت فرماتے ہیں۔

لیکن ہماری ذکر کردہ بحث سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ ٹوائلٹ پیپر کی ہیئت(صورت) اس کاغذ کی نہیں جس کی بنیاد پر اس کا استعمال ممنوع بتایا گیا ہے نہ ہی عُرفا یہ تعظیم کے خلاف سمجھی جاتی ہے لہذا درست موقف یہی ہے کہ اس کا استعمال جائز ہے۔

امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے فتاوی میں رد المحتار کے حوالے سے جو عبارت نقل کی ہے وہ ابھی اسی موقف کی تائید کرتی ہے۔عبارت کا ترجمہ یہ ہے:

"اور جب اس کی علّت یہ ہوکہ وہ آلہ کتابت ہے تو اس کانتیجہ یہ ہوا کہ اگر کاغذ تحریر کی صلاحیت نہ رکھتا ہو اور نجاست کو زائل کرنے والا ہو اور قیمتی بھی نہ ہو تو اسکے استعمال میں کوئی کراہت نہیں جیسا کہ اس سے پہلے ہم نے پُرانے کپڑے کے ٹکڑوں (الْخِرَقِ الْبَوَالِي، جس کا ذکر پہلی عبارت میں ہے۔ عارفین) سے استنجاء کا جواز بیان کیا ہے۔”

ہاں باقاعدہ کاپی، رجسٹر کے صفحات یا اخبار وغیرہ سے استنجاء کرنا ناجائز ہے کیونکہ بالیقین یہ تعظیم کے خلاف ہے۔

*ابو محمد عارفین القادری*

کنز الایمان مع خزائن العرفان پارہ 1 رکوع 2 سورہ البقرہ آیت نمبر8 تا 20

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ مَا هُمْ بِمُؤْمِنِیْنَۘ(۸)

اور کچھ لوگ کہتے ہیں (ف۱۲) کہ ہم اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لائے اور وہ ایمان والے نہیں

(ف12)

اس سے معلوم ہوا کہ ہدایت کی راہیں ان کے لئے اول ہی سے بند نہ تھیں کہ جائے عذر ہوتی بلکہ ان کے کُفر و عناد اور سرکشی و بے دینی اور مخالفتِ حق و عداوتِ انبیاء علیہم السلام کا یہ انجام ہے جیسے کوئی شخص طبیب کی مخالفت کرے اور زہرِ قاتل کھا لے اور اس کے لئے دوا سے اِنتفاع کی صورت نہ رہے تو خود ہی مستحقِ ملامت ہے ۔

یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ۚ-وَ مَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَؕ(۹)

فریب دیا چاہتے ہیں اللہ اور ایمان والوں کو (ف۱۳) اور حقیقت میں فریب نہیں دیتے مگر اپنی جانوں کو اور انہیں شعور نہیں

(ف13)

شانِ نُزول : یہاں سے تیرہ آیتیں منافقین کی شان میں نازل ہوئیں جو باطن میں کافِر تھے اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے تھے ، اللہ تعالٰی نے فرمایا ” مَا ھُمْ بِمُؤْمِنِیْنَ ” وہ ایمان والے نہیں یعنی کلمہ پڑھنا ، اسلام کا مدعی ہونا ، نماز روزہ ادا کرنا ، مومن ہونے کے لئے کافی نہیں جب تک دل میں تصدیق نہ ہو ۔

مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ جتنے فرقے ایمان کا دعوٰی کرتے ہیں اور کُفر کا اعتقاد رکھتے ہیں سب کا یہی حکم ہے کہ کافِر خارج از اسلام ہیں ، شرع میں ایسوں کو منافق کہتے ہیں ، ان کا ضرر کھلے کافِروں سے زیادہ ہے ۔

” مِنَ النَّاسِ ” فرمانے میں لطیف رَمْز یہ ہے کہ یہ گروہ بہتر صفات و انسانی کمالات سے ایسا عاری ہے کہ اس کا ذکر کسی وصف و خوبی کے ساتھ نہیں کیا جاتا ، یوں کہا جاتا ہے کہ وہ بھی آدمی ہیں ۔

مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ کسی کو بشر کہنے میں اس کے فضائل و کمالات کے اِنکار کا پہلو نکلتا ہے اس لئے قرآنِ پاک میں جا بجا انبیاء کرام کے بشر کہنے والوں کو کافِر فرمایا گیا اور درحقیقت انبیاء کی شان میں ایسا لفظ ادب سے دور اور کُفّار کا دستور ہے ۔

بعض مفسِّرین نے فرمایا ” مِنَ النَّاسِ ” سامعین کو تعجب دلانے کے لئے فرمایا گیا کہ ایسے فریبی مکار اور ایسے احمق بھی آدمیوں میں ہیں ۔

فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌۙ-فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًاۚ-وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ ﳔ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ(۱۰)

ان کے دلوں میں بیماری ہے (ف۱۴) تو اللہ نے ان کی بیماری اور بڑھائی اور اُن کے لیے دردناک عذاب ہے بدلہ ان کے جھوٹ کا (ف۱۵)

(ف14)

اللہ تعالٰی اس سے پاک ہے کہ اس کو کوئی دھوکا دے سکے ، وہ اسرار و مخفیات کا جاننے والا ہے ، مراد یہ ہے کہ منافق اپنے گمان میں خدا کو فریب دینا چاہتے ہیں یا یہ کہ خدا کو فریب دینا یہی ہے کہ رسول علیہ السلام کو دھوکا دینا چاہیں کیونکہ وہ اس کے خلیفہ ہیں اور اللہ تعالٰی نے اپنے حبیب کو اَسرار کا علم عطا فرمایا ہے ، وہ ان منافقین کے چُھپے کُفر پر مطلع ہیں اور مسلمان ان کے اطلاع دینے سے باخبر تو ان بے دینوں کا فریب نہ خدا پر چلے ، نہ رسول پر ، نہ مؤمنین پر بلکہ درحقیقت وہ اپنی جانوں کو فریب دے رہے ہیں ۔

مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ تقیہ بڑا عیب ہے جس مذہب کی بنا تقیہ پر ہو وہ باطل ہے ، تقیہ والے کا حال قابلِ اعتماد نہیں ہوتا ، توبہ ناقابلِ اطمینان ہوتی ہے اس لئے عُلَماء نے فرمایا ” لَاتُقْبَلُ تَوْبَۃُ الزِّنْدِیْقِ ”۔

(ف15)

بدعقیدگی کو قلبی مرض فرمایا گیا اس سے معلوم ہوا کہ بدعقیدگی روحانی زندگی کے لئے تباہ کُن ہے مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ جھوٹ حرام ہے اس پر عذابِ اَلیم مرتب ہوتا ہے ۔

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱)

اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو (ف۱۶) تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں

(ف16)

مسئلہ : کُفّار سے میل جول ، ان کی خاطر دین میں مُداہنت اور اہلِ باطل کے ساتھ تَمَلّق و چاپلوسی اور ان کی خوشی کے لئے صُلحِ کُل بن جانا اور اظہارِ حق سے باز رہنا شانِ منافق اور حرام ہے ، اسی کو منافقین کا فساد فرمایا گیا ۔ آج کل بہت لوگوں نے یہ شیوہ کر لیا ہے کہ جس جلسہ میں گئے ویسے ہی ہو گئے ، اسلام میں اس کی ممانعت ہے ظاہر و باطن کا یکساں نہ ہونا بڑا عیب ہے ۔

اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲)

سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا كَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ كَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَهَآءُؕ-اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَآءُ وَ لٰكِنْ لَّا یَعْلَمُوْنَ(۱۳)

اور جب ان سے کہا جائے ایمان لاؤجیسے اور لوگ ایمان لا ئے ہیں (ف۱۷)تو کہیں کیا ہم احمقوں کی طرح ایما ن لے آئیں (ف۱۸)سنتا ہے وہی احمق ہیں مگر جانتے نہیں (ف۱۹)

(ف17)

یہاں ” اَلنَّاسُ ” سے یا صحابہ کرام مراد ہیں یا مومنین کیونکہ خدا شناسی ، فرمانبرداری و عاقبت اندیشی کی بدولت وہی انسان کہلانے کے مستحق ہیں ۔

مسئلہ : ” اٰمِنُوْا کَمَا اٰمَنَ ” سے ثابت ہوا کہ صالحین کا اِتبّاع محمود و مطلوب ہے ۔

مسئلہ : یہ بھی ثابت ہوا کہ مذہبِ اہلِ سنّت حق ہے کیونکہ اس میں صالحین کا اِتّباع ہے ۔

مسئلہ : باقی تمام فرقے صالحین سے مُنحَرِف ہیں لہذا گمراہ ہیں ۔

مسئلہ : بعض عُلَماء نے اس آیت کو زندیق کی توبہ مقبول ہونے کی دلیل قرار دیا ہے ۔ (بیضاوی) زندیق وہ ہے جو نبوّت کا مُقِرّ ہو ، شعائرِ اسلام کا اظہار کرے اور باطن میں ایسے عقیدے رکھے جو بالاتفاق کُفر ہوں ، یہ بھی منافقوں میں داخل ہے ۔

(ف18)

اس سے معلوم ہوا کہ صالحین کو بُرا کہنا اہلِ باطل کا قدیم طریقہ ہے ، آج کل کے باطل فرقے بھی پچھلے بزرگوں کو بُرا کہتے ہیں ، روافض خلفائے راشدین اور بہت صحابہ کو خوارج ، حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ اور ان کے رُفقاء کو ، غیر مقلِّد ائمۂ مجتہدین بالخصوص امامِ اعظم رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کو ، وہابیہ بکثرت اولیاء و مقبولانِ بارگاہ کو ، مرزائی انبیاءِ سابقین تک کو قرآنی (چکڑالی) صحابہ و محدثین کو ، نیچری تمام اکابرِ دین کو برا کہتے اور زبانِ طعن دراز کرتے ہیں ۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ یہ سب گمراہی میں ہیں ، اس میں دیندار عالِموں کے لئے تسلّی ہے کہ وہ گمراہوں کی بدزبانیوں سے بہت رنجیدہ نہ ہوں سمجھ لیں کہ یہ اہلِ باطل کا قدیم دستور ہے ۔ (مدارک)

(ف19)

منافقین کی یہ بدزبانی مسلمانوں کے سامنے نہ تھی ، ان سے تو وہ یہی کہتے تھے کہ ہم باخلاص مومن ہیں جیسا کہ اگلی آیت میں ہے ” اِذَالَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْآ اٰمَنَّا ” یہ تبرّا بازیاں اپنی خاص مجلسوں میں کرتے تھے ، اللہ تعالٰی نے ان کا پردہ فاش کر دیا ۔ (خازن) اسی طرح آج کل کے گمراہ فرقے مسلمانوں سے اپنے خیالاتِ فاسدہ کو چھپاتے ہیں مگر اللہ تعالٰی ان کی کتابوں اور تحریروں سے ان کے راز فاش کر دیتا ہے ۔ اس آیت سے مسلمانوں کو خبردار کیا جاتا ہے کہ بے دینوں کی فریب کاریوں سے ہوشیار رہیں دھوکا نہ کھائیں ۔

وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّاۚۖ-وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰى شَیٰطِیْنِهِمْۙ-قَالُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْۙ-اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُوْنَ(۱۴)

اور جب ایمان والوں سے ملیں تو کہیں ہم ایمان لائے اور جب اپنے شیطانوں کے پاس اکیلے ہوں (ف۲۰) تو کہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں ہم تو یونہی ہنسی کرتے ہیں (ف۲۱)

(ف20)

یہاں شیاطین سے کُفّار کے وہ سردار مراد ہیں جو اغواء میں مصروف رہتے ہیں ۔ (خازن و بیضاوی) یہ منافق جب ان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں اور مسلمانوں سے ملنا مَحض براہِ فریب و استہزاء اس لئے ہے کہ ان کے راز معلوم ہوں اور ان میں فساد انگیزی کے مواقع ملیں ۔ (خازن)

(ف21)

یعنی اظہارِ ایمان تمسخُر کے طور پر کیا یہ اسلام کا انکار ہوا ۔

مسئلہ : انبیاء علیہم السلام اور دین کے ساتھ استہزاء و تمسخُر کُفر ہے ۔

شانِ نُزول : یہ آیت عبداللہ بن اُبَیْ وغیرہ منافقین کے حق میں نازل ہوئی ایک روز انہوں نے صحابۂ کرام کی ایک جماعت کو آتے دیکھا تو اِبْنِ اُبَی نے اپنے یاروں سے کہا دیکھو تو میں انہیں کیسا بناتا ہوں جب وہ حضرات قریب پہنچے تو اِبْنِ اُبَی نے پہلے حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا دستِ مبارک اپنے ہاتھ میں لے کر آپ کی تعریف کی پھر اسی طرح حضرت عمر اور حضرت علی کی تعریف کی (رضی اللہ تعالٰی عنہم) حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا اے اِبْنِ اُبَی خدا سے ڈر ، نفاق سے باز آ کیونکہ منافقین بدترین خَلق ہیں ، اس پر وہ کہنے لگا کہ یہ باتیں نفاق سے نہیں کی گئیں بخدا ہم آپ کی طرح مومنِ صادق ہیں ، جب یہ حضرات تشریف لے گئے تو آپ اپنے یاروں میں اپنی چالبازی پر فخر کرنے لگا ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ منافقین مؤمنین سے ملتے وقت اظہارِ ایمان و اخلاص کرتے ہیں اور ان سے علیحدہ ہو کر اپنی خاص مجلسوں میں ان کی ہنسی اڑاتے اور استہزاء کرتے ہیں ۔ (اخرجہ الثعلبی و الواحدی و ضعفہ ابن حجر و السیوطی فی لباب النقول)

مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام و پیشوایانِ دین کا تمسخُر اُڑانا کُفر ہے ۔

اَللّٰهُ یَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَ یَمُدُّهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ(۱۵)

اللہ ان سے استہزاء فرماتا ہے (ف۲۲) ( جیسا اس کی شان کے لائق ہے) اور انہیں ڈھیل دیتا ہے کہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں

(ف22)

اللہ تعالٰی استہزاء اور تمام نقائص و عیوب سے منزّہ و پاک ہے ۔ یہاں جزاءِ استہزاء کو استہزاء فر مایا گیا تاکہ خوب دلنشین ہو جائے کہ یہ سزا اس ناکردنی فعل کی ہے ، ایسے موقع پر جزاء کو اسی فعل سے تعبیر کرنا آئینِ فصاحت ہے جیسے جَزَاءُ سَیِّئَۃ سَیِّئَۃ میں کمالِ حُسنِ بیان یہ ہے کہ اس جملہ کو جملۂ سابقہ پر معطوف نہ فرمایا کیونکہ وہاں استہزاء حقیقی معنی میں تھا ۔

اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى۪-فَمَا رَبِحَتْ تِّجَارَتُهُمْ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ(۱۶)

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی (ف۲۳) تو ان کا سودا کچھ نفع نہ لایا اور وہ سودے کی راہ جانتے ہی نہ تھے (ف۲۴)

(ف23)

ہدایت کے بدلے گمراہی خریدنا یعنی بجائے ایمان کے کُفر اختیار کرنا نہایت خسارہ اور ٹَوٹے کی بات ہے

شانِ نُزول : یہ آیت یا ان لوگوں کے حق میں نازل ہوئی جو ایمان لانے کے بعد کافِر ہو گئے یا یہود کے حق میں جو پہلے سے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان رکھتے تھے مگر جب حضور کی تشریف آوری ہوئی تو منکِر ہو گئے یا تمام کُفّار کے حق میں کہ اللہ تعالٰی نے انہیں فِطرتِ سلیمہ عطا فرمائی ، حق کے دلائل واضح کئے ، ہدایت کی راہیں کھولیں لیکن انہوں نے عقل و انصاف سے کام نہ لیا اور گمراہی اختیار کی ۔

مسئلہ : اس آیت سے بیع تعاطی کا جواز ثابت ہوا یعنی خرید و فروخت کے الفاظ کہے بغیر مَحض رضا مندی سے ایک چیز کے بدلے دوسری چیز لینا جائز ہے ۔

(ف24)

کیونکہ اگر تجارت کا طریقہ جانتے تو اصل پونجی (ہدایت) نہ کھو بیٹھتے ۔

مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِی اسْتَوْقَدَ نَارًاۚ-فَلَمَّاۤ اَضَآءَتْ مَاحَوْلَهٗ ذَهَبَ اللّٰهُ بِنُوْرِهِمْ وَ تَرَكَهُمْ فِیْ ظُلُمٰتٍ لَّا یُبْصِرُوْنَ(۱۷)

ان کی کہاوت اس کی طرح ہے جس نے آگ روشن کی تو جب اس سے آس پاس سب جگمگا اٹھا اللہ ان کا نور لے گیا اور انہیں اندھیریوں میں چھوڑ دیا کہ کچھ نہیں سوجھتا (ف۲۵)

(ف25)

یہ ان کی مثال ہے جنہیں اللہ تعالٰی نے کچھ ہدایت دی یا اس پر قدرت بخشی پھر انہوں نے اس کو ضائع کر دیا اور ابدی دولت کو حاصل نہ کیا ان کا مال حسرت و افسوس اور حیرت و خوف ہے ۔ اس میں وہ منافق بھی داخل ہیں جنہوں نے اظہارِ ایمان کیا اور دل میں کُفر رکھ کر اقرار کی روشنی کو ضائع کر دیا اور وہ بھی جو مؤمن ہونے کے بعد مرتد ہو گئے اور وہ بھی جنہیں فِطرتِ سلیمہ عطا ہوئی اور دلائل کی روشنی نے حق کو واضح کیا مگر انہوں نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا اور گمراہی اختیار کی اور جب حق سننے ، ماننے ، کہنے ، راہِ حق دیکھنے سے محروم ہوئے تو کان ، زبان ، آنکھ سب بے کار ہیں ۔

صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَرْجِعُوْنَۙ(۱۸)

بہرے گونگے اندھے تو وہ پھر آنے والے نہیں

اَوْ كَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِیْهِ ظُلُمٰتٌ وَّ رَعْدٌ وَّ بَرْقٌۚ-یَجْعَلُوْنَ اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِؕ-وَ اللّٰهُ مُحِیْطٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ(۱۹)

یا جیسے آسمان سے اُترتا پانی کہ اس میں اندھیریاں ہیں اور گرج اور چمک (ف ۲۶) اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس رہے ہیں کڑک کے سبب موت کے ڈر سے (ف ۲۷) اور اللہ کافروں کو گھیرے ہوئے ہے (ف۲۸)

(ف26)

ہدایت کے بدلے گمراہی خریدنے والوں کی یہ دوسری تمثیل ہے کہ جیسے بارش زمین کی حیات کا سبب ہوتی ہے اور اس کے ساتھ خوفناک تاریکیاں اور مُہِیب گرج اور چمک ہوتی ہے اسی طرح قرآن و اسلام قلوب کی حیات کا سبب ہیں اور ذکرِ کُفر و شرک و نفاق ظلمت کے مشابہ جیسے تاریکی رَہْرَو کو منزل تک پہنچنے سے مانع ہوتی ہے ایسے ہی کُفر و نفاق راہ یابی سے مانع ہیں اور وعیدات گرج کے اور حُجَجِ بیِّنہ چمک کے مشابہ ہیں ۔

شانِ نُزول : منافقوں میں سے دو آدمی حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے مشرکین کی طرف بھاگے ، راہ میں یہی بارش آئی جس کا آیت میں ذکر ہے اس میں شدت کی گرج کڑک اور چمک تھی ، جب گرج ہوتی تو کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے کہ کہیں یہ کانوں کو پھاڑ کر مار نہ ڈالے ، جب چمک ہوتی چلنے لگتے ، جب اندھیری ہوتی اندھے رہ جاتے ، آپس میں کہنے لگے خدا خیر سے صبح کرے تو حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے ہاتھ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دستِ اقدس میں دیں چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور اسلام پر ثابت قدم رہے ۔ ان کے حال کو اللہ تعالٰی نے منافقین کے لئے مثل (کہاوت) بنایا جو مجلس شریف میں حاضر ہوتے تو کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے کہ کہیں حضور کا کلام ان میں اثر نہ کرجائے جس سے مر ہی جائیں اور جب ان کے مال و اولاد زیادہ ہوتے اور فتوح و غنیمت ملتی تو بجلی کی چمک والوں کی طرح چلتے اور کہتے کہ اب تو دینِ محمّدی سچا ہے اور جب مال و اولاد ہلاک ہوتے اور کوئی بلا آتی تو بارش کی اندھیریوں میں ٹھٹک رہنے والوں کی طرح کہتے کہ یہ مصیبتیں اسی دین کی وجہ سے ہیں او راسلام سے پلٹ جاتے ۔ (لباب النقول للسیوطی)

(ف27)

جیسے اندھیری رات میں کالی گھٹا چھائی ہو اور بجلی کی گرج و چمک جنگل میں مسافر کو حیران کرتی ہو اور وہ کڑک کی وحشت ناک آواز سے باندیشۂ ہلاک کانوں میں انگلیاں ٹھونستا ہو ، ایسے ہی کُفّار قرآنِ پاک کے سننے سے کان بند کرتے ہیں اور انہیں یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں اس کے دلنشین مضامین اسلام و ایمان کی طرف مائل کر کے باپ دادا کا کُفری دین ترک نہ کرا دیں جو ان کے نزدیک موت کے برابر ہے ۔

(ف28)

لہذا یہ گریز انہیں کچھ فائدہ نہیں دے سکتی کیونکہ وہ کانوں میں انگلیاں ٹھونس کر قہرِ الٰہی سے خلاص نہیں پا سکتے ۔

یَكَادُ الْبَرْقُ یَخْطَفُ اَبْصَارَهُمْؕ-كُلَّمَاۤ اَضَآءَ لَهُمْ مَّشَوْا فِیْهِۗۙ-وَ اِذَاۤ اَظْلَمَ عَلَیْهِمْ قَامُوْاؕ-وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠(۲۰)

بجلی یوں معلوم ہوتی ہے کہ ان کی نگاہیں اُچک لے جائے گی (ف۲۹) جب کچھ چمک ہوئی اس میں چلنے لگے(ف ۳۰) اور جب اندھیرا ہوا کھڑے رہ گئے اور اگر اللہ چاہتا تو ان کے کان اور آنکھیں لے جاتا (ف۳۱) بےشک اللہ سب کچھ کرسکتا ہے (ف۳۲)

(ف29)

جیسے بجلی کی چمک ، معلوم ہوتا ہے کہ بینائی کو زائل کر دے گی ایسے ہی دلائلِ باہرہ کے انوار ان کی بصر وبصیرت کو خیرہ کرتے ہیں ۔

(ف30)

جس طرح اندھیری رات اور ابر و بارش کی تاریکیوں میں مسافر مُتحیَّر ہوتا ہے ، جب بجلی چمکتی ہے توکچھ چل لیتا ہے جب اندھیرا ہوتا ہے تو کھڑا رہ جاتا ہے اسی طرح اسلام کے غلبہ اور معجزات کی روشنی اور آرام کے وقت منافق اسلام کی طرف راغب ہوتے ہیں اور جب کوئی مشقت پیش آتی ہے تو کُفر کی تاریکی میں کھڑے رہ جاتے ہیں اور اسلام سے ہٹنے لگتے ہیں ، اسی مضمون کو دوسری آیت میں اس طرح ارشاد فرمایا ” اِذَا دُعُوْآ اِلیَ اللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ لِیَحْکُمَ بَیْنَھُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ مُّعْرِضُوْنَ وَ اِنْ یَّکُنْ لَّھُمُ الْحَقُّ یَاْتُوْا اِلَیْہِ مُذْعِنِیْنَ ” ۔ (خازن صاوی وغیرہ)

(ف31)

یعنی اگرچہ منافقین کا طرزِ عمل اس کا مقتضی تھا مگر اللہ تعالٰی نے ان کے سمع و بصر کو باطل نہ کیا ۔ مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ اسباب کی تاثیر مشیت الٰہیہ کے ساتھ مشروط ہے بغیر مشیت تنہا اسباب کچھ نہیں کر سکتے ۔

مسئلہ : یہ بھی معلوم ہوا کہ مشیت اسباب کی محتاج نہیں ، وہ بے سبب جو چاہے کر سکتا ہے ۔

(ف32)

شئی اسی کو کہتے ہیں جسے اللہ چاہے اور جو تحتِ مشیت آ سکے ، تمام ممکنات شئی میں داخل ہیں اس لئے وہ تحتِ قدرت ہیں اور جو ممکن نہیں واجب یا ممتنع ہے اس سے قدرت و ارادہ متعلق نہیں ہوتا جیسے اللہ تعالٰی کی ذات و صفات واجب ہیں اس لئے مقدور نہیں ۔

مسئلہ : باری تعالٰی کے لئے جھوٹ اور تمام عیوب محال ہیں اسی لئے قدرت کو ان سے کچھ واسطہ نہیں ۔

حضرت جابر بن عبداللہ کے صحیفے

حضرت جابر بن عبداللہ کے صحیفے

آپکی مرویات بھی کثیر تعداد میں ہیں اورانکی جمع وتدوین کی روداد کچھ اس طرح ہے ۔ امام طحاوی انکے شاگردوں کا قول لکھتے ہیں: ۔

کنانأتی جابر بن عبداللہ لنسألہ عن سنن رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فنکتنبھا۔ (شرح معانی الآثار للطحاوی، ۲/۳۰۴)

ہم لوگ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوتے تاکہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی سنتیں معلوم کرکے قلمبند کریں ۔

آپکی روایتوں کے متعدد مجموعوں کو ذکر ملتاہے ۔

ایک مجموعہ اسمعیل بن عبدالکریم کے پاس تھا۔(تہذیب التہذیب لا بن حجر، ۲/۲۰۶)

دوسرا سلیمان یشکری کے پاس ۔(تہذیب التہذیب لا بن حجر، ۲/۲۱۱)

ابوبکر عیاش نے امام اعمش سے اس زمانہ کے لوگوں کی رائے نقل کی ہے ۔

ان مجاہدایحدث عن صحیفۃ جابر۔ (الطبقات اکبری لا بن سعد، ۵/۲۴۴)

حضرت مجاہد حضرت جابر کے صحیفہ سے روایت بیان کرتے تھے ۔

ایک صحیفہ حضرت جابرکے پاس اورتھا جسکو تابعی جلیل حضرت قتادہ بن دعامہ سدوسی بہت اہمیت دیتے تھے ۔ فرماتے تھے : مجھے سورۃ بقرہ کے مقابلہ میں صحیفہ جابر زیادہ حفظ ہے ۔(التاریخ الکبیر للبخاری)

حضرت سیدنا یحییٰ بن معاذ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کااندازِ دعا

حکایت نمبر149: حضرت سیدنا یحییٰ بن معاذ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کااندازِ دعا

حضرت سیدنا محمد بن محمود سمر قندی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں ،زمانے کے مشہور ولی حضرت سیدنا یحییٰ بن معاذ علیہ رحمۃ اللہ الجباربارگاہِ خداوندی عزوجل میں اس طرح دعاکرتے :” اے میرے پروردگار عزوجل! میں تجھ سے اس زبان کے ذریعے دعا کرتا ہوں جو تُونے مجھے عطا کی ہے ، میرے مولیٰ عزوجل! تُو اپنے فضل وکرم سے میری دعا قبول فرما ۔ اے میرے پروردگار عزوجل! تُومجھے ہر حال میں رزق عطا فرماتا ہے اور ہر مصیبت میں میرامددگار تُو ہی ہے ، اے میرے مولیٰ عزوجل! میں تیری عظمتوں اور رحمتوں کو دل وجان سے ماننے والا ہوں، میں تیری عظمت کا مُعترِف ہوں، میرے پاس یہی دلیل وآسرا ہے کہ میں تجھ سے محبت کرتا ہوں۔ میری تجھ سے محبت تیری بارگاہ میں میرے لئے شفیع ہے ۔ اے رحیم وکریم مولیٰ عز وجل! تُو نے ہمیں بغیرمانگے محض اپنے فضل وکرم سے ایمان کی دولت سے نوازا، دولت ایمان سب سے بڑی دولت ہے۔
اے میرے مولیٰ عزوجل !جب ہم تجھ سے کوئی چیز مانگیں تُو ہمیں ضرور عطا فرما ئے گا ، جب بغیر مانگے تُو اتنی بڑی بڑی نعمتیں عطا فرماتا ہے تو مانگنے پربھی تُو ضرور ہماری حاجتیں پوری کریگا۔ اے میرے مولیٰ عزوجل! تُو ہم سے عفو ودر گزر والا معاملہ فرما ۔ اے میرے پاک پروردگار عزوجل !اگر معاف کرنا تیری صفت نہ ہوتی تواہل معرفت کبھی بھی تیری نافرمانی نہ کرتے۔ جب ایک لمحے کا ایمان پچاس سال کے کفر کو مٹا دیتا ہے اور انسان کو کفر کی پُرانی سے پُرانی گندگی سے پاک کردیتا ہے تو پچا س سال کا ایمان گناہوں کو کیسے نہیں مٹا ئے گا۔
اے میرے مولیٰ عزوجل !مَیں اس با ت کی اُمیدرکھتا ہوں کہ جو ایمان اپنے سے قبل کفر جیسی گندگی کو انسان سے لمحہ بھر میں دور کردیتا ہے اور ایمان کی بدولت انسان کفر جیسی بیماری سے نجات پاجاتا ہے تو یہی ایمان اپنے مابعد گناہوں کو ضرور مٹا دے گا، چاہے گناہ کتنے ہی بڑے ہوں اِیمان کی بدولت ضرور معاف کردیئے جائیں گے ۔
اے الٰہی عزوجل !تیری ذات تو وہ عظیم ذات ہے کہ اگر کوئی تجھ سے نہ مانگے توتجھے اس پر جلال آتا ہے،میں تو تجھ سے مانگ رہا ہوں۔ لہٰذا میری دعا رَدْنہ کرنابلکہ قبول فرمالینا۔ اے میرے پاک پروردگار عزوجل !مجھ پر ہر گھڑی نظرِ رحمت فرما، میرے پاس بس ایک ہی حجت ودلیل ہے کہ میں تیری عظمتوں اور تیری تمام صفات کا معترف ہوں ۔اے اللہ عزوجل! اسی حجت کے سبب میری مغفرت فرمادے ۔ اے میرے مولیٰ عزوجل! میرا اس بات پر یقینِ کامل ہے کہ میرا اور تمام جہاں کا پالنے والاتُو ہی ہے، اے اللہ عزوجل !میں اپنے آپ کو تیری رحمتوں کے سائے میں پاتا ہوں، تیری رحمت کی جلوہ گری ہر طرف ہے ۔ اے میرے پاک پرور دگار عزوجل! میں تجھ سے اس حال میں دعا کر رہا ہوں کہ میرے گناہوں سے لِتھڑے ہوئے ہاتھ دعا کے لئے پھیلے ہوئے ہیں اور آنکھیں تیری رحمت او رتیرے عفو وکر م کی اُمید سے بھیگی ہوئی ہیں ۔
ا ے میرے مولیٰ عزوجل !میری دعا قبول فرمالے کیونکہ تُوتوبُر د بار اور بخشنے والا مالک ہے ، میرے حال پر رحم فرما کیونکہ میں تو ایک کمزور و عاجز بندہ ہوں ۔اے میرے مولیٰ عزوجل !جب تجھ سے ڈرنے میں دل کو سرور و کیف حاصل ہوتا ہے تو جس وقت تُو ہم سے راضی ہوجائے گا اور ہمیں جہنم سے آزادی کا پر وانہ عطا فرمادے گا تو اس وقت ہمیں کتنا کیف وسرورحاصل ہوگا ۔ اے میرے مولیٰ عزوجل !جب دُنیوی زندگی میں تیری تجلیات میں اورتیری رحمتوں کے سائے تلے ہم کسی محفل میں تیرا ذکر کرتے ہیں تو ہمیں کتنا سرور ملتا ہے، توجب ہم اُخروی زندگی میں تیرے جلوؤں اور دیدار سے مشرف ہوں گے اس وقت ہماری خوشی اور کیف وسرور کا کیا عالم ہوگا۔اے اللہ عزوجل !جب ہم دنیاوی زندگی میں عبادات وریاضات کر کے خوش ہوتے ہیں اور مصیبتوں پر صبر کر کے خوش ہوتے ہیں تو جس وقت ہمیں آخرت میں بخششیں، مغفر تیں اور نعمتیں عطا ہوں گی اس وقت ہماری خوشی کا کیا عالم ہوگا ؟ جب ہم دنیا میں تیرے ذِکرکی لذت سے مَسْرور وشاداں ہوتے ہیں تو جس وقت اُخروی زندگی شر وع ہوگی اس وقت ہماری خوشی اور سرور کاعالم کیا ہوگا۔
اے میرے پاک پروردگار عزوجل! مجھے اپنے اَعمال پر بھروسا نہیں کہ میں ان کی وجہ سے بخشاجاؤ ں گا مجھے تو بس تیری رحمت سے اُمید ہے کہ تو مجھے ضروربالضرور بخشے گا مجھے تیری رحمت سے قوی اُمید ہے۔ اعمال میں اِخلاص شر ط ہے کیا معلوم کہ میرے اَعمال میں اِخلاص ہے بھی یا نہیں ؟ پھر میں کیوں نہ ڈروں اس بات سے کہ ہوسکتا ہے میرے اعمال تیری بارگاہ میں قبول ہی نہ ہوں۔اے اللہ عزوجل !میں اس بات پر پختہ یقین رکھتا ہوں کہ میرے گناہ محض تیری رحمت ہی سے بخشے جائیں گے اور یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ تُو گناہوں کو معا ف نہ کرے حالانکہ توُتو جوادوغفار ہے تو ضروربالضرور میرے گناہوں کو بخشے گا۔
یا الٰہی عزوجل !مجھے اس وقت تک دنیا سے نہ اٹھا نا جب تک تُو مجھے اپنی ملاقات کا خوب شوق عطا نہ فرمادے۔ جب میں دنیا سے جاؤں تو میرے دل میں تجھ سے ملاقات کا شوق مچل رہا ہو ، تیری زیارت کے لئے میرا دل بے قرار ہو، تیرے جلوؤں میں گم ہونے کے لئے میری روح تڑپ رہی ہو۔
اے میرے مولیٰ عزوجل !میرے پاس ایسی زبان نہیں جوتیری خوبیاں بیان کرسکے اور نہ ہی کوئی ایسا عمل ہے جسے میں حجت ودلیل بناسکوں اور اس کے ذریعے تیرا قُرب حاصل کر سکوں۔ میرے گناہوں کی کثرت نے مجھے بولنے سے عاجز کر دیا ہے اور میرے عیوب کی وجہ سے میری قوت بیانی ختم ہوچکی ہے۔
اے میرے پاک پروردگار عزوجل! میرے پاس کوئی عمل ایسا نہیں جسے تیری بارگاہ میں وسیلہ بنا سکوں ،نہ ہی کوئی ایسا عمل ہے جس کی وجہ سے میری کو تاہیاں معاف ہوجائیں ۔البتہ ! یہ بات ضرور ہے کہ میں تیری رحمت سے قوی اُمید رکھتا ہوں کہ تو مجھے ضرور بخشے گا تو ضرور مجھ پر احسان فرمائے گا اورمیں تیری ملاقات کو پسند کرتا ہوں۔ میرا یہ عمل بھی مجھے تیری بارگاہ سے ضرور مغفرت دِلوائے گا۔ یااللہ عزوجل! میں تجھے تیرے فضل وکرم کا واسطہ دیتا ہوں تُو میری غلطیوں اور کوتا ہیوں سے در گز ر فرما ۔ الٰہی عزوجل ! میری دعا کو قبول فرمالے اگر تُو قبول فرمالے گا تو میرے سارے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔ تیرے دریائے رحمت کا ایک قطرہ میرے تمام گناہوں کی سیاہی دھو ڈالے گا ۔ اے میرے مالک ومختار رب عزوجل !تُو نے ہم پر اپنی عبادت لازم فرمائی حالانکہ تُو ہماری عبادت کا محتاج نہیں بلکہ توُ تو بے نیازہے، ہماری عبادت کی تجھے کوئی حاجت نہیں لیکن اے میرے مولیٰ عزوجل! میں تجھ سے مغفرت کا طالب ہوں او رمیں مغفرت کا محتاج ہوں۔ اپنے کرم سے میری اس حاجت کو پورا فرمادے اور میری مغفرت فرما۔
اے میرے پیارے اللہ عزوجل! تُو اس بات کو پسند کرتا ہے کہ میں تجھ سے محبت کرو ں حالانکہ تجھے میری محبت کی کوئی حاجت نہیں۔ا ے میرے مولیٰ عزوجل !میں تجھ سے محبت کیوں نہ کرو ں حالانکہ توُ تو میرا پیدا کرنے والاہے اور مجھے تیری محبت کی حاجت ہے ،تیری محبت کے بغیرمیرا گزارہ ہی نہیں ہو سکتا پھر میں تجھ سے محبت کیوں نہ کروں۔
اے میرے مولیٰ عزوجل !میں تیرا اَدنیٰ وحقیر بندہ ہوں، میں تجھ سے محبت کرتا ہوں،میں نے تیرا دَر لازم کرلیا ہے اب کسی اور کی طر ف ہر گز ہرگز اِلتفات نہ کروں گا۔ اے میرے مولیٰ عزوجل !میرے دل میں یہ بات اچھی طرح گَھر کرچکی ہے کہ تیری رحمت کے سہارے میں ضرور بخشا جاؤں گا مجھے تجھ سے قوی اُمید ہے ۔پھریہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں تجھ سے اُمید رکھوں پھر بھی میری مغفرت نہ ہو۔
میرا اس پاک پروردگار عزوجل پر پختہ یقین ہے جو دنیاوی زندگی میں ہماری کوتاہیوں کے با وجود ہمیں نعمتوں سے نوازتا جا رہا ہے ،وہ کل بر وزِ قیامت محض اپنے لُطف وکرم سے ہمارے حالِ زار پر ضرور رحم فرمائے گا۔وہ ایسا ستاروغفار ہے کہ دنیا میں ہماری نیکیوں کو ظاہر فرماتا اورہمارے عیوب پر پردہ ڈالتا ہے وہ بر وز قیامت ضرور ہماری ٹو ٹی پھوٹی نیکیوں کوقبول فرمائے گا اور ہماری خطاؤں اور گناہوں سے در گزر فرما کر ہمیں ضرور مغفرت کا مژدہ جا ں فزا سنائے گا او ر جو کسی پر احسان کرتا ہے اس کی شان یہ ہے کہ وہ اِحسان کو پایہ تکمیل تک پہنچاتا ہے ۔ میرا مولیٰ عزوجل ہم پر اِحسان فرمانے والا ہے وہ ضرور ہمارے گناہوں کو چھپائے رکھے گا اور ضرور ہماری مغفرت فرمائے گا۔
اے میرے مولیٰ عزوجل! تیری بارگاہ میں میرا وسیلہ تیری نعمتیں ہیں، تیرا لطف وکرم ہی میرا وسیلہ اور تیرا احسان وشان کریمی ہی تیری بارگاہ میں میرے لئے شفیع ہیں۔ اے میرے مولیٰ عزوجل! میں گناہ گار ہوں پھر میں خوش کیسے رہ سکتا ہوں اور جب تیری رحمت کی طر ف نظر کروں اور تیری بخششوں اور عطا ؤں کو مدِّ نظر رکھوں تو پھر میں غمگین اور پریشان کیسے رہ سکتا ہوں۔
اے اللہ عزوجل !جب میں اپنے گناہوں کی طر ف نظر کرتا ہوں تو سو چتا ہوں کہ تجھ سے دعا کس طر ح مانگوں؟ کس منہ سے تیری بارگاہ میں اِلتجا ئیں کروں لیکن جب تیری رحمت اور کرم کی طر ف نظر کرتا ہوں تو میری ڈھارس بندھ جاتی ہے کہ کریم سے نہ مانگوں تو کس سے مانگو ں۔ اے اللہ عزوجل! بتقاضائے بشریت مجھ سے گناہ سرزد ہوجاتے ہیں لیکن میں پھر بھی تجھ سے دعا ضرور کروں گا کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ گناہگاروں سے گناہوں کے صدور کے با وجود تُو انہیں اپنی نعمتو ں سے محروم نہیں کرتا۔ اے میرے مغفرت فرمانے والے پر وردگار عزوجل !اگر تُومیری مغفرت فرمادے گا تو بے شک یہ محض تیری عطا ہے اور تُو سب سے زیادہ مغفرت فرمانے والا ہے اور اگر تُو مجھے عذاب دے گا تو تُو اس بات پر قادر ہے۔ تیرا کسی کو عذاب دینا کوئی ظلم نہیں بلکہ یہ تو تیرا عدل ہے ۔
اے میرے پروردگار عزوجل! میں ذلیل وخوار ہوں، اپنی حیثیت کے مطابق تجھ سے طلب کر رہاہوں تو اپنے کرم کے مطابق عطا فرما ۔ یا اللہ عزوجل !جب مجھے تجھ سے سوال کرنے میں اِتنا سرور ملتا ہے کہ بیان سے باہر ہے تو جس وقت تُو میری دعا قبول فرمالے گا اور مجھے بخشش ومغفرت اوراپنی دائمی رضا کی دولت سے مالا مال کردے گا تو اس وقت میری خوشی کا کیا عالم ہوگا۔ اے میرے مولیٰ عزوجل !میں تیرے خوف سے تھر تھر کانپتا ہوں کیونکہ میں اِنتہائی گناہگار و خطا کار ہوں اور تیری رحمت کا اُمید وار بھی ہوں کیونکہ تُو کریم ہے تُو رحیم وحلیم ہے۔
اے میرے مولیٰ عزوجل! میری دعا قبول فرمالے کیونکہ تُولطیف وکریم ہے، میرے حال زار پر رحم فرما،بے شک میں کمزور وعاجز بندہ ہوں۔اے میرے مولیٰ !اے میرے پروردگار! اے میرے مالک! اے رحیم وکریم ذات! مجھ پر رحم فرمامیں تیرا محتاج ہوں،میں تیرا محتاج ہوں،میں تیری بارگاہ میں رحمت ومغفرت کاطلبگار ہوں، میں اپنی حاجتیں خود پوری نہیں کرسکتا، میری اُمید گاہ کا مرکز تیری ہی ذات ہے ، تیری رحمت و مغفرت کا سب سے زیادہ حق دار میں ہی ہوں، میرے گناہ بہت زیادہ ہیں اور آخرت کا معاملہ بہت سخت ہے۔ نہیں معلوم میرا کیا انجام ہوگا۔یا الٰہی عزوجل! مجھے اپنی حفظ وامان میں رکھ اگرچہ میرے پاس نیک اعمال کا ذخیرہ نہیں لیکن پھر بھی میں تیری رحمت کاطلب گار ہوں۔اے اللہ عزوجل!میرے پاس ایسا کوئی عذر نہیں جسے تیری بارگاہ میں پیش کرکے خلاصی حاصل کرسکوں ۔اے اللہ عزوجل !مجھے تمام آفتو ں اور مصیبتوں سے اسی وقت خلاصی مل سکتی ہے جب تُولطف وکرم فرمادے، میرے تمام گناہوں کو بخش دے اور میری تمام خطاؤں کو معاف فرمادے۔یا الٰہی عزوجل! تُوپاک ہے، تمام تعریفیں تیرے ہی لئے ہیں تُو پاک ہے،تُو پاک ہے۔”
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علی وسلم)
؎ بخش ہمار ی ساری خطائیں ، کھول دے ہم پر اپنی عطائیں بر سادے رحمت کی برکھا ، یا اللہ(عزوجل)! میری جھولی بھر د ے

کوئی شخص داہنے ہاتھ سے استنجاء نہ کرے

حدیث نمبر :331

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میں تمہارے لیئے ایسا ہوں جیسے بیٹے کے لئے باپ ۱؎تمہیں سکھاتا ہوں جب تم پاخانے جاؤ تو قبلہ کو منہ نہ کرو،اور نہ پیٹھ۲؎ اور تین پتھروں کا حکم دیا اورلِیدوہڈی سے منع فرمایا اور منع فرمایا کہ کوئی شخص داہنے ہاتھ سے استنجاء نہ کرے۳؎(ابن ماجہ،دارمی)

شرح

۱؎ یعنی شفقت و محبت اورتعلیم میں مَیں تمہارے والد کی مثل ہوں۔اور ادب،اطاعت اور تعظیم میں تم میری اولاد کی مثل ہو۔خیال رہے کہ بعض احکام شرعیہ میں بھی حضور ساری امت کی باپ ہیں،تمام جہان کے والد آپ کے قدم مبارک پر قربان اسی لیے ان کی بیویاں بحکم قرآن مسلمانوں کی مائیں ہیں کہ ان سے نکاح ہمیشہ حرام اورکسی عورت کو آپ سے پردہ کرنا فرض نہیں۔اسی لیے سارے مسلمان بحکم قرآن آپس میں بھائی ہیں،کیونکہ اس رحمت والے نبی کی اولاد ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بھائی کہنا حرام ہے۔اس کی بحث ہماری کتاب "جاءالحق”میں دیکھو۔

۲؎ جنگل میں ہویا آبادی میں،آڑمیں ہو یا کھلےمیدان میں۔بہرحال کعبے کو منہ یا پیٹھ کرکے پیشاب پاخانہ نہ کرو۔یہ حدیث امام اعظم کی کھلی ہوئی دلیل ہے چونکہ اس میں کسی جگہ کی کوئی قید نہیں۔

۳؎ اس ممانعت کی وجوہ پہلے بیان کی جاچکی ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سواءان ممنوعہ چیزوں کے ہر اس چیز سے استنجاء جائز ہے جو صفائی کرسکے،لکڑی،ڈھیلہ،پتھروغیرہ۔ہاں کاغذسے استنجاءممنوع اگرچہ سادہ ہی ہو،کیونکہ اس پراﷲ اوررسول کا نام لکھا جاسکتا ہے،لہذا محترم ہے۔(مرقاۃ)نیز نوکیلی وغیرہ چیزوں سے استنجاء ممنوع ہے کہ نقصان پہنچاتی ہیں۔خیال رہے کہ انسان جنات اور جانوروں کی خوراک سے استنجاء ممنوع ہے،جیسا روٹی کے سوکھے ٹکڑے،گھاس،بھوسہ،کوئلہ پتے وغیرہ کہ یہ سب قابل حرمت ہیں۔