اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ اُوۡتُوۡا نَصِيۡبًا مِّنَ الۡكِتٰبِ يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡجِبۡتِ وَالطَّاغُوۡتِ وَيَقُوۡلُوۡنَ لِلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا هٰٓؤُلَۤاءِ اَهۡدٰى مِنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا سَبِيۡلًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 51

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ اُوۡتُوۡا نَصِيۡبًا مِّنَ الۡكِتٰبِ يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡجِبۡتِ وَالطَّاغُوۡتِ وَيَقُوۡلُوۡنَ لِلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا هٰٓؤُلَۤاءِ اَهۡدٰى مِنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا سَبِيۡلًا ۞

ترجمہ:

کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں آسمانی کتاب سے حصہ دیا گیا وہ بت اور شیطان پر ایمان لاتے ہیں اور کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ لوگ ایمان والوں کی بہ نسبت زیادہ صحیح راستہ پر ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں آسمانی کتاب سے حصہ دیا گیا وہ بت اور شیطان پر ایمان لاتے ہیں اور کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ لوگ ایمان والوں کی بہ نسبت زیادہ صحیح راستہ پر ہیں۔ (النساء : ٥١) 

جبت اور طاغوت کا معنی : 

ہر وہ چیز جس کی اللہ کے سوا عبادت کی جائے وہ جبت ہے (تفسیر الزجاج ج ٢ ص ٦٤) 

عطیہ نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ جبت سے مراد بت ہیں اور طاغوت سے مراد بتوں کے ترجمان ہیں جو بتوں کے سامنے بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں اور بتوں کی طرف منسوب کرکے لوگوں سے جھوٹی اور من گھڑت باتیں بیان کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو گمراہ کریں ‘ حضرت عمر (رض) نے فرمایا جبت سے مراد ساحر ہے اور طاغوت سے مراد شیطان ہے ‘ مجاہد نے کہا طاغوت سے مراد وہ شیطان ہے جو انسان کی صورت میں آتا ہے اور لوگ اس کے پاس اپنے مقدمات پیش کرتے ہیں ‘ مجاہد نے ایک تفسیر یہ بھی کی ہے کہ طاغوت سے مراد کاہن ہے اور جبت سے مراد ساحر ہے ‘ حضرت ابن عباس (رض) سے ایک تفسیر یہ ہے کہ جبت سے مراد ایک یہودی عالم حی بن اخطب ہے اور طاغوت سے مراد ایک یہودی سردار اور عالم کعب بن اشرف ہے۔ (جامع البیان : ج ٥ ص ٨٤۔ ٨٣) 

امام رازی نے بیان کیا ہے کہ حی بن اخطب اور کعب بن الاشرف چند یہودیوں کے ساتھ مکہ گئے وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف جنگ کرنے کے لیے کفار قریش کو اپنا حلیف بنانا چاہتے تھے۔ قریش نے کہا تم اہل کتاب ہو اور ہماری بہ نسبت تم (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زیادہ قریب ہو۔ ہم تمہاری بات پر اس وقت تک اعتبار نہیں کریں گے جب تک تم ہمارے بتوں کو سجدہ نہیں کرو گے تاکہ ہمارے دل مطمئن ہوجائیں سو انہوں نے بتوں کو سجدہ کرلیا ‘ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا بعض اہل کتاب جبت اور طاغوت پر ایمان لاتے ہیں ‘ پھر ابو سفیان نے پوچھا : یہ بتاؤ کہ ہم زیادہ ہدایت کے طریقہ پر ہیں یا (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو کعب نے پوچھا (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا کہتے ہیں ؟ قریش نے کہا وہ کہتے ہیں صرف ایک خدا کی عبادت کرو ‘ بتوں کی عبادت نہ کرو اور انہوں نے اپنے باپ دادا کے دین کو ترک کردیا ہے اور لوگوں میں جدائی ڈال دی ہے ‘ کعب نے پوچھا اور تمہارا دین کیا ہے ؟ انہوں نے کہا ہم بیت اللہ کے محافظ ہیں ‘ حجاج کو پانی پلاتے ہیں ‘ مہمان نوازی کرتے ہیں اور قیدیوں کو چھڑاتے ہیں تو کعب بن اشرف نے کہا تم زیادہ ہدایت یافتہ ہو ‘ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی اور یہودی اہل کتاب کافروں کے متعلق کہتے ہیں یہ زیادہ ہدایت یافتہ ہیں۔ (تفسیر کبیر ج ٣ ص ٢٣٥)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 51

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.