أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَمۡ لَهُمۡ نَصِيۡبٌ مِّنَ الۡمُلۡكِ فَاِذًا لَّا يُؤۡتُوۡنَ النَّاسَ نَقِيۡرًا ۞

ترجمہ:

یا ان کا ملک میں کوئی حصہ ہے اگر ایسا ہوتا تو یہ لوگوں کو تل برابر بھی کوئی چیز نہ دیتے

تفسیر:

یہود کے بخل کی مذمت : 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : یا ان کا ملک میں کوئی حصہ ہے اگر ایسا ہوتا تو یہ لوگوں کو تل برابر بھی کوئی چیز نہ دیتے۔ (النساء : ٥٣) 

یہاں سے یہود کی برائیوں کا بیان شروع کیا گیا ہے ‘ اس آیت کا معنی ہے ان کا ملک میں کوئی حصہ نہیں ہے ‘ یہود کہتے تھے کہ آخر زمانہ میں ملک انکی طرف لوٹ آئے گا اس آیت میں ان کے اس دعوی کا رد ہے ‘ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ملک سے مراد نبوت ہو ‘ یعنی ان کے لیے نبوت سے کوئی حصہ نہیں ہے حتی کہ لوگوں پر ان کی اطاعت اور اتباع لازم ہو ‘ پہلی تفسیر زیادہ مناسب کیونکہ اس کا بعد کے جملہ کے ساتھ ربط ہے کیونکہ اگر ان کا ملک ہوتا یا اس میں ان کا کوئی حصہ ہوتا تو یہ لوگوں کو تل برابر بھی کوئی چیز نہ دیتے ‘ یعنی ضرورت مندوں کو کچھ نہ دیتے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 53