حضرت سیدنا یحییٰ بن معاذ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کااندازِ دعا

حکایت نمبر149: حضرت سیدنا یحییٰ بن معاذ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کااندازِ دعا

حضرت سیدنا محمد بن محمود سمر قندی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں ،زمانے کے مشہور ولی حضرت سیدنا یحییٰ بن معاذ علیہ رحمۃ اللہ الجباربارگاہِ خداوندی عزوجل میں اس طرح دعاکرتے :” اے میرے پروردگار عزوجل! میں تجھ سے اس زبان کے ذریعے دعا کرتا ہوں جو تُونے مجھے عطا کی ہے ، میرے مولیٰ عزوجل! تُو اپنے فضل وکرم سے میری دعا قبول فرما ۔ اے میرے پروردگار عزوجل! تُومجھے ہر حال میں رزق عطا فرماتا ہے اور ہر مصیبت میں میرامددگار تُو ہی ہے ، اے میرے مولیٰ عزوجل! میں تیری عظمتوں اور رحمتوں کو دل وجان سے ماننے والا ہوں، میں تیری عظمت کا مُعترِف ہوں، میرے پاس یہی دلیل وآسرا ہے کہ میں تجھ سے محبت کرتا ہوں۔ میری تجھ سے محبت تیری بارگاہ میں میرے لئے شفیع ہے ۔ اے رحیم وکریم مولیٰ عز وجل! تُو نے ہمیں بغیرمانگے محض اپنے فضل وکرم سے ایمان کی دولت سے نوازا، دولت ایمان سب سے بڑی دولت ہے۔
اے میرے مولیٰ عزوجل !جب ہم تجھ سے کوئی چیز مانگیں تُو ہمیں ضرور عطا فرما ئے گا ، جب بغیر مانگے تُو اتنی بڑی بڑی نعمتیں عطا فرماتا ہے تو مانگنے پربھی تُو ضرور ہماری حاجتیں پوری کریگا۔ اے میرے مولیٰ عزوجل! تُو ہم سے عفو ودر گزر والا معاملہ فرما ۔ اے میرے پاک پروردگار عزوجل !اگر معاف کرنا تیری صفت نہ ہوتی تواہل معرفت کبھی بھی تیری نافرمانی نہ کرتے۔ جب ایک لمحے کا ایمان پچاس سال کے کفر کو مٹا دیتا ہے اور انسان کو کفر کی پُرانی سے پُرانی گندگی سے پاک کردیتا ہے تو پچا س سال کا ایمان گناہوں کو کیسے نہیں مٹا ئے گا۔
اے میرے مولیٰ عزوجل !مَیں اس با ت کی اُمیدرکھتا ہوں کہ جو ایمان اپنے سے قبل کفر جیسی گندگی کو انسان سے لمحہ بھر میں دور کردیتا ہے اور ایمان کی بدولت انسان کفر جیسی بیماری سے نجات پاجاتا ہے تو یہی ایمان اپنے مابعد گناہوں کو ضرور مٹا دے گا، چاہے گناہ کتنے ہی بڑے ہوں اِیمان کی بدولت ضرور معاف کردیئے جائیں گے ۔
اے الٰہی عزوجل !تیری ذات تو وہ عظیم ذات ہے کہ اگر کوئی تجھ سے نہ مانگے توتجھے اس پر جلال آتا ہے،میں تو تجھ سے مانگ رہا ہوں۔ لہٰذا میری دعا رَدْنہ کرنابلکہ قبول فرمالینا۔ اے میرے پاک پروردگار عزوجل !مجھ پر ہر گھڑی نظرِ رحمت فرما، میرے پاس بس ایک ہی حجت ودلیل ہے کہ میں تیری عظمتوں اور تیری تمام صفات کا معترف ہوں ۔اے اللہ عزوجل! اسی حجت کے سبب میری مغفرت فرمادے ۔ اے میرے مولیٰ عزوجل! میرا اس بات پر یقینِ کامل ہے کہ میرا اور تمام جہاں کا پالنے والاتُو ہی ہے، اے اللہ عزوجل !میں اپنے آپ کو تیری رحمتوں کے سائے میں پاتا ہوں، تیری رحمت کی جلوہ گری ہر طرف ہے ۔ اے میرے پاک پرور دگار عزوجل! میں تجھ سے اس حال میں دعا کر رہا ہوں کہ میرے گناہوں سے لِتھڑے ہوئے ہاتھ دعا کے لئے پھیلے ہوئے ہیں اور آنکھیں تیری رحمت او رتیرے عفو وکر م کی اُمید سے بھیگی ہوئی ہیں ۔
ا ے میرے مولیٰ عزوجل !میری دعا قبول فرمالے کیونکہ تُوتوبُر د بار اور بخشنے والا مالک ہے ، میرے حال پر رحم فرما کیونکہ میں تو ایک کمزور و عاجز بندہ ہوں ۔اے میرے مولیٰ عزوجل !جب تجھ سے ڈرنے میں دل کو سرور و کیف حاصل ہوتا ہے تو جس وقت تُو ہم سے راضی ہوجائے گا اور ہمیں جہنم سے آزادی کا پر وانہ عطا فرمادے گا تو اس وقت ہمیں کتنا کیف وسرورحاصل ہوگا ۔ اے میرے مولیٰ عزوجل !جب دُنیوی زندگی میں تیری تجلیات میں اورتیری رحمتوں کے سائے تلے ہم کسی محفل میں تیرا ذکر کرتے ہیں تو ہمیں کتنا سرور ملتا ہے، توجب ہم اُخروی زندگی میں تیرے جلوؤں اور دیدار سے مشرف ہوں گے اس وقت ہماری خوشی اور کیف وسرور کا کیا عالم ہوگا۔اے اللہ عزوجل !جب ہم دنیاوی زندگی میں عبادات وریاضات کر کے خوش ہوتے ہیں اور مصیبتوں پر صبر کر کے خوش ہوتے ہیں تو جس وقت ہمیں آخرت میں بخششیں، مغفر تیں اور نعمتیں عطا ہوں گی اس وقت ہماری خوشی کا کیا عالم ہوگا ؟ جب ہم دنیا میں تیرے ذِکرکی لذت سے مَسْرور وشاداں ہوتے ہیں تو جس وقت اُخروی زندگی شر وع ہوگی اس وقت ہماری خوشی اور سرور کاعالم کیا ہوگا۔
اے میرے پاک پروردگار عزوجل! مجھے اپنے اَعمال پر بھروسا نہیں کہ میں ان کی وجہ سے بخشاجاؤ ں گا مجھے تو بس تیری رحمت سے اُمید ہے کہ تو مجھے ضروربالضرور بخشے گا مجھے تیری رحمت سے قوی اُمید ہے۔ اعمال میں اِخلاص شر ط ہے کیا معلوم کہ میرے اَعمال میں اِخلاص ہے بھی یا نہیں ؟ پھر میں کیوں نہ ڈروں اس بات سے کہ ہوسکتا ہے میرے اعمال تیری بارگاہ میں قبول ہی نہ ہوں۔اے اللہ عزوجل !میں اس بات پر پختہ یقین رکھتا ہوں کہ میرے گناہ محض تیری رحمت ہی سے بخشے جائیں گے اور یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ تُو گناہوں کو معا ف نہ کرے حالانکہ توُتو جوادوغفار ہے تو ضروربالضرور میرے گناہوں کو بخشے گا۔
یا الٰہی عزوجل !مجھے اس وقت تک دنیا سے نہ اٹھا نا جب تک تُو مجھے اپنی ملاقات کا خوب شوق عطا نہ فرمادے۔ جب میں دنیا سے جاؤں تو میرے دل میں تجھ سے ملاقات کا شوق مچل رہا ہو ، تیری زیارت کے لئے میرا دل بے قرار ہو، تیرے جلوؤں میں گم ہونے کے لئے میری روح تڑپ رہی ہو۔
اے میرے مولیٰ عزوجل !میرے پاس ایسی زبان نہیں جوتیری خوبیاں بیان کرسکے اور نہ ہی کوئی ایسا عمل ہے جسے میں حجت ودلیل بناسکوں اور اس کے ذریعے تیرا قُرب حاصل کر سکوں۔ میرے گناہوں کی کثرت نے مجھے بولنے سے عاجز کر دیا ہے اور میرے عیوب کی وجہ سے میری قوت بیانی ختم ہوچکی ہے۔
اے میرے پاک پروردگار عزوجل! میرے پاس کوئی عمل ایسا نہیں جسے تیری بارگاہ میں وسیلہ بنا سکوں ،نہ ہی کوئی ایسا عمل ہے جس کی وجہ سے میری کو تاہیاں معاف ہوجائیں ۔البتہ ! یہ بات ضرور ہے کہ میں تیری رحمت سے قوی اُمید رکھتا ہوں کہ تو مجھے ضرور بخشے گا تو ضرور مجھ پر احسان فرمائے گا اورمیں تیری ملاقات کو پسند کرتا ہوں۔ میرا یہ عمل بھی مجھے تیری بارگاہ سے ضرور مغفرت دِلوائے گا۔ یااللہ عزوجل! میں تجھے تیرے فضل وکرم کا واسطہ دیتا ہوں تُو میری غلطیوں اور کوتا ہیوں سے در گز ر فرما ۔ الٰہی عزوجل ! میری دعا کو قبول فرمالے اگر تُو قبول فرمالے گا تو میرے سارے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔ تیرے دریائے رحمت کا ایک قطرہ میرے تمام گناہوں کی سیاہی دھو ڈالے گا ۔ اے میرے مالک ومختار رب عزوجل !تُو نے ہم پر اپنی عبادت لازم فرمائی حالانکہ تُو ہماری عبادت کا محتاج نہیں بلکہ توُ تو بے نیازہے، ہماری عبادت کی تجھے کوئی حاجت نہیں لیکن اے میرے مولیٰ عزوجل! میں تجھ سے مغفرت کا طالب ہوں او رمیں مغفرت کا محتاج ہوں۔ اپنے کرم سے میری اس حاجت کو پورا فرمادے اور میری مغفرت فرما۔
اے میرے پیارے اللہ عزوجل! تُو اس بات کو پسند کرتا ہے کہ میں تجھ سے محبت کرو ں حالانکہ تجھے میری محبت کی کوئی حاجت نہیں۔ا ے میرے مولیٰ عزوجل !میں تجھ سے محبت کیوں نہ کرو ں حالانکہ توُ تو میرا پیدا کرنے والاہے اور مجھے تیری محبت کی حاجت ہے ،تیری محبت کے بغیرمیرا گزارہ ہی نہیں ہو سکتا پھر میں تجھ سے محبت کیوں نہ کروں۔
اے میرے مولیٰ عزوجل !میں تیرا اَدنیٰ وحقیر بندہ ہوں، میں تجھ سے محبت کرتا ہوں،میں نے تیرا دَر لازم کرلیا ہے اب کسی اور کی طر ف ہر گز ہرگز اِلتفات نہ کروں گا۔ اے میرے مولیٰ عزوجل !میرے دل میں یہ بات اچھی طرح گَھر کرچکی ہے کہ تیری رحمت کے سہارے میں ضرور بخشا جاؤں گا مجھے تجھ سے قوی اُمید ہے ۔پھریہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں تجھ سے اُمید رکھوں پھر بھی میری مغفرت نہ ہو۔
میرا اس پاک پروردگار عزوجل پر پختہ یقین ہے جو دنیاوی زندگی میں ہماری کوتاہیوں کے با وجود ہمیں نعمتوں سے نوازتا جا رہا ہے ،وہ کل بر وزِ قیامت محض اپنے لُطف وکرم سے ہمارے حالِ زار پر ضرور رحم فرمائے گا۔وہ ایسا ستاروغفار ہے کہ دنیا میں ہماری نیکیوں کو ظاہر فرماتا اورہمارے عیوب پر پردہ ڈالتا ہے وہ بر وز قیامت ضرور ہماری ٹو ٹی پھوٹی نیکیوں کوقبول فرمائے گا اور ہماری خطاؤں اور گناہوں سے در گزر فرما کر ہمیں ضرور مغفرت کا مژدہ جا ں فزا سنائے گا او ر جو کسی پر احسان کرتا ہے اس کی شان یہ ہے کہ وہ اِحسان کو پایہ تکمیل تک پہنچاتا ہے ۔ میرا مولیٰ عزوجل ہم پر اِحسان فرمانے والا ہے وہ ضرور ہمارے گناہوں کو چھپائے رکھے گا اور ضرور ہماری مغفرت فرمائے گا۔
اے میرے مولیٰ عزوجل! تیری بارگاہ میں میرا وسیلہ تیری نعمتیں ہیں، تیرا لطف وکرم ہی میرا وسیلہ اور تیرا احسان وشان کریمی ہی تیری بارگاہ میں میرے لئے شفیع ہیں۔ اے میرے مولیٰ عزوجل! میں گناہ گار ہوں پھر میں خوش کیسے رہ سکتا ہوں اور جب تیری رحمت کی طر ف نظر کروں اور تیری بخششوں اور عطا ؤں کو مدِّ نظر رکھوں تو پھر میں غمگین اور پریشان کیسے رہ سکتا ہوں۔
اے اللہ عزوجل !جب میں اپنے گناہوں کی طر ف نظر کرتا ہوں تو سو چتا ہوں کہ تجھ سے دعا کس طر ح مانگوں؟ کس منہ سے تیری بارگاہ میں اِلتجا ئیں کروں لیکن جب تیری رحمت اور کرم کی طر ف نظر کرتا ہوں تو میری ڈھارس بندھ جاتی ہے کہ کریم سے نہ مانگوں تو کس سے مانگو ں۔ اے اللہ عزوجل! بتقاضائے بشریت مجھ سے گناہ سرزد ہوجاتے ہیں لیکن میں پھر بھی تجھ سے دعا ضرور کروں گا کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ گناہگاروں سے گناہوں کے صدور کے با وجود تُو انہیں اپنی نعمتو ں سے محروم نہیں کرتا۔ اے میرے مغفرت فرمانے والے پر وردگار عزوجل !اگر تُومیری مغفرت فرمادے گا تو بے شک یہ محض تیری عطا ہے اور تُو سب سے زیادہ مغفرت فرمانے والا ہے اور اگر تُو مجھے عذاب دے گا تو تُو اس بات پر قادر ہے۔ تیرا کسی کو عذاب دینا کوئی ظلم نہیں بلکہ یہ تو تیرا عدل ہے ۔
اے میرے پروردگار عزوجل! میں ذلیل وخوار ہوں، اپنی حیثیت کے مطابق تجھ سے طلب کر رہاہوں تو اپنے کرم کے مطابق عطا فرما ۔ یا اللہ عزوجل !جب مجھے تجھ سے سوال کرنے میں اِتنا سرور ملتا ہے کہ بیان سے باہر ہے تو جس وقت تُو میری دعا قبول فرمالے گا اور مجھے بخشش ومغفرت اوراپنی دائمی رضا کی دولت سے مالا مال کردے گا تو اس وقت میری خوشی کا کیا عالم ہوگا۔ اے میرے مولیٰ عزوجل !میں تیرے خوف سے تھر تھر کانپتا ہوں کیونکہ میں اِنتہائی گناہگار و خطا کار ہوں اور تیری رحمت کا اُمید وار بھی ہوں کیونکہ تُو کریم ہے تُو رحیم وحلیم ہے۔
اے میرے مولیٰ عزوجل! میری دعا قبول فرمالے کیونکہ تُولطیف وکریم ہے، میرے حال زار پر رحم فرما،بے شک میں کمزور وعاجز بندہ ہوں۔اے میرے مولیٰ !اے میرے پروردگار! اے میرے مالک! اے رحیم وکریم ذات! مجھ پر رحم فرمامیں تیرا محتاج ہوں،میں تیرا محتاج ہوں،میں تیری بارگاہ میں رحمت ومغفرت کاطلبگار ہوں، میں اپنی حاجتیں خود پوری نہیں کرسکتا، میری اُمید گاہ کا مرکز تیری ہی ذات ہے ، تیری رحمت و مغفرت کا سب سے زیادہ حق دار میں ہی ہوں، میرے گناہ بہت زیادہ ہیں اور آخرت کا معاملہ بہت سخت ہے۔ نہیں معلوم میرا کیا انجام ہوگا۔یا الٰہی عزوجل! مجھے اپنی حفظ وامان میں رکھ اگرچہ میرے پاس نیک اعمال کا ذخیرہ نہیں لیکن پھر بھی میں تیری رحمت کاطلب گار ہوں۔اے اللہ عزوجل!میرے پاس ایسا کوئی عذر نہیں جسے تیری بارگاہ میں پیش کرکے خلاصی حاصل کرسکوں ۔اے اللہ عزوجل !مجھے تمام آفتو ں اور مصیبتوں سے اسی وقت خلاصی مل سکتی ہے جب تُولطف وکرم فرمادے، میرے تمام گناہوں کو بخش دے اور میری تمام خطاؤں کو معاف فرمادے۔یا الٰہی عزوجل! تُوپاک ہے، تمام تعریفیں تیرے ہی لئے ہیں تُو پاک ہے،تُو پاک ہے۔”
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علی وسلم)
؎ بخش ہمار ی ساری خطائیں ، کھول دے ہم پر اپنی عطائیں بر سادے رحمت کی برکھا ، یا اللہ(عزوجل)! میری جھولی بھر د ے

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.