*درس 028: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(وَأَمَّا) بَيَانُ مَا يُسْتَنْجَى بِهِ فَالسُّنَّةُ هُوَ الِاسْتِنْجَاءُ بِالْأَشْيَاءِ الطَّاهِرَةِ مِنْ الْأَحْجَارِ وَالْأَمْدَارِ، وَالتُّرَابِ، وَالْخِرَقِ الْبَوَالِي.

ان چیزوں کا بیان جن کے ساتھ استنجاء کیا جاسکتا ہے: سنت یہ ہے کہ پاک چیزوں سے استنجاء کیا جائے یعنی پتھروں سے، ڈھیلوں سے، مٹی سے اور بوسیدہ کپڑوں کے ٹکڑوں سے۔

وَيُكْرَهُ بِالرَّوْثِ، وَغَيْرِهِ مِنْ الْأَنْجَاسِ؛ لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ عَنْ أَحْجَارِ الِاسْتِنْجَاءِ أَتَاهُ بِحَجَرَيْنِ وَرَوْثَةٍ، فَأَخَذَ الْحَجَرَيْنِ وَرَمَى بِالرَّوْثَةِ، وَعَلَّلَ بِكَوْنِهَا نَجَسًا، فَقَالَ: إنَّهَا رِجْسٌ أَوْ رِكْسٌ، أَيْ: نَجَسٌ.

اور لید وغیرہ ناپاک چیزوں سے استنجاء کرنا مکروہ ہے، اسلئے کہ ایک دفعہ نبی کریم ﷺ نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے استنجاء کے لئے پتھر طلب فرمائے تو عبد اللہ بن مسعود دو پتھر اور ایک لید کا ٹکڑا لے آئے، توحضور ﷺ نے دو پتھروں کو لے لیا اور لید کے ٹکڑے کو پھینک دیا اور وجہ اسکا ناپاک ہونا بتایا۔ ارشاد فرمایا: یہ *رجس* ہے، راوی کہتے ہیں یا شاید *رکس* فرمایا، یعنی گندگی ہے۔

وَيُكْرَهُ بِالْعَظْمِ لِمَا رُوِيَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الِاسْتِنْجَاءِ بِالرَّوْثِ، وَالرِّمَّةِ وَقَالَ: مَنْ اسْتَنْجَى بِرَوْثٍ، أَوْ رِمَّةٍ فَهُوَ بَرِيءٌ مِمَّا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ.

ہڈی سے استنجاء بھی مکروہ ہے اسلئے کہ نبی رحمت ﷺ نے لید اور پرانی ہڈی سے استنجاء کرنے سے منع فرمایا ہے، ارشاد فرمایا: جس نے لید یا پرانی ہڈی سے استنجاء کیا تو وہ محمد ﷺ پر نازل شدہ شریعت سے بیزار ہے۔

وَرُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: لَا تَسْتَنْجُوا بِالْعَظْمِ وَلَا بِالرَّوْثِ فَإِنَّ الْعَظْمَ زَادُ إخْوَانِكُمْ الْجِنِّ وَالرَّوْثُ عَلَفُ دَوَابِّهِمْ

اسی طرح نبی کریم ﷺ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ہڈی اور لید سے استنجاء نہ کرو اسلئے ہڈی تمہارے جنات بھائیوں کی خوراک ہے اور لید ان کے جانوروں کا چارہ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

*کن چیزوں سے استنجاء کیا جائے*

علامہ کاسانی نے یہاں سے ان چیزوں کابیان شروع کیا جن سے استنجاء کیا جاسکتا ہے اور جن سے استنجاء نہیں کیا جاسکتا۔

آگے جاکر خود اسکی وجہ بیان فرمائیں گے، ہم یہاں وہ اصولی بحث ذکر کر دیتے ہیں جو اس کونسیپٹ کو کلئیر کردے گی کہ کن چیزوں سے استنجاء ہوسکتا ہے اور کن سے نہیں۔۔۔

پچھلے درس سے معلوم ہوا کہ پتھر کو پانی کے قائم مقام قرار دیا گیا ہے اور جس طرح پانی *مزیلِ نجاست* یعنی نجاست کو زائل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اسی طرح پتھر بھی *مزیلِ نجاست* ہے۔

فرق صرف اتنا ہے کہ پانی سے نجاست کو *دھویا* جاتا ہے جبکہ پتھر سے نجاست کو *پونچھا* جاتا ہے۔

لہذا۔۔۔۔

*ہر وہ چیز جس سے نجاست کو پونچھا جاسکتا ہو، اس سے استنجاء ہوجائے گا۔۔ چاہے اس کا استعمال جائز ہو یا ناجائز*

*استنجاء میں کن چیزوں کا استعمال جائز نہیں ہے۔۔!!*

1- جن سے احادیث میں ممانعت آگئی۔۔۔ جیسے ہڈی اور لید

2- ناپاک چیزوں سے۔۔۔جیسے لید کیونکہ ناپاک ہے مگر سوکھی ہوئی ہو تو استنجاء ہوجائے گا مگر گناہگار ہوگا

3- جو قیمت رکھتی ہوں۔۔۔جیسے نیا کپڑا، موزے، کھانے پینے کی اشیاء کیونکہ ان کے استعمال سے مال کا ضائع کرنا لازم آتا ہے

4- جو قابلِ تعظیم ہوں۔۔۔ جیسے کاغذ اسلئے کہ وہ علم سیکھنے سکھانے کا آلہ ہے، اسی سبب سے آبِ زم زم سے استنجاء ناجائز و گناہ ہے

5- دوسرے کی ملکیت ہو۔۔۔جیسے وقف کی دیوار سے

ان سب چیزوں میں غور کریں تو معلوم ہوگا کہ۔۔۔

*جن چیزوں سے استنجاء کی ممانعت ہے ۔۔ اسکی وجہ کوئی خارجی چیز ہے*

مثلا کہیں تعظیم کی خلاف ورزی ہے، کہیں مال کا ضائع کرنا ہے ، کہیں ناپاک شے کا استعمال کرنا ہے وغیرہ وغیرہ

اور جہاں ممانعت کی کوئی وجہ نہ پائی جائے اس سے استنجاء جائز ہے جیسے ڈھیلے، مٹی، پرانا بوسیدہ کپڑا۔

استنجاء کے بعد ٹوائلٹ پیپر /ٹیشو پیپر کا استعمال درست ہے یا نہیں۔۔!

اس میں بعض علماء کرام کی رائے یہ ہے کہ یہ کاغذ ہی ہے اور کاغذ علم سیکھنے کا آلہ ہے تو اس کا استعمال جائز نہیں ہے، اسی کو بنیاد بناکر کھانے کے بعد ٹیشو پیپر کے استعمال سے بھی ممانعت فرماتے ہیں۔

لیکن ہماری ذکر کردہ بحث سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ ٹوائلٹ پیپر کی ہیئت(صورت) اس کاغذ کی نہیں جس کی بنیاد پر اس کا استعمال ممنوع بتایا گیا ہے نہ ہی عُرفا یہ تعظیم کے خلاف سمجھی جاتی ہے لہذا درست موقف یہی ہے کہ اس کا استعمال جائز ہے۔

امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے فتاوی میں رد المحتار کے حوالے سے جو عبارت نقل کی ہے وہ ابھی اسی موقف کی تائید کرتی ہے۔عبارت کا ترجمہ یہ ہے:

“اور جب اس کی علّت یہ ہوکہ وہ آلہ کتابت ہے تو اس کانتیجہ یہ ہوا کہ اگر کاغذ تحریر کی صلاحیت نہ رکھتا ہو اور نجاست کو زائل کرنے والا ہو اور قیمتی بھی نہ ہو تو اسکے استعمال میں کوئی کراہت نہیں جیسا کہ اس سے پہلے ہم نے پُرانے کپڑے کے ٹکڑوں (الْخِرَقِ الْبَوَالِي، جس کا ذکر پہلی عبارت میں ہے۔ عارفین) سے استنجاء کا جواز بیان کیا ہے۔”

ہاں باقاعدہ کاپی، رجسٹر کے صفحات یا اخبار وغیرہ سے استنجاء کرنا ناجائز ہے کیونکہ بالیقین یہ تعظیم کے خلاف ہے۔

*ابو محمد عارفین القادری*