کوئی شخص داہنے ہاتھ سے استنجاء نہ کرے

حدیث نمبر :331

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میں تمہارے لیئے ایسا ہوں جیسے بیٹے کے لئے باپ ۱؎تمہیں سکھاتا ہوں جب تم پاخانے جاؤ تو قبلہ کو منہ نہ کرو،اور نہ پیٹھ۲؎ اور تین پتھروں کا حکم دیا اورلِیدوہڈی سے منع فرمایا اور منع فرمایا کہ کوئی شخص داہنے ہاتھ سے استنجاء نہ کرے۳؎(ابن ماجہ،دارمی)

شرح

۱؎ یعنی شفقت و محبت اورتعلیم میں مَیں تمہارے والد کی مثل ہوں۔اور ادب،اطاعت اور تعظیم میں تم میری اولاد کی مثل ہو۔خیال رہے کہ بعض احکام شرعیہ میں بھی حضور ساری امت کی باپ ہیں،تمام جہان کے والد آپ کے قدم مبارک پر قربان اسی لیے ان کی بیویاں بحکم قرآن مسلمانوں کی مائیں ہیں کہ ان سے نکاح ہمیشہ حرام اورکسی عورت کو آپ سے پردہ کرنا فرض نہیں۔اسی لیے سارے مسلمان بحکم قرآن آپس میں بھائی ہیں،کیونکہ اس رحمت والے نبی کی اولاد ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بھائی کہنا حرام ہے۔اس کی بحث ہماری کتاب "جاءالحق”میں دیکھو۔

۲؎ جنگل میں ہویا آبادی میں،آڑمیں ہو یا کھلےمیدان میں۔بہرحال کعبے کو منہ یا پیٹھ کرکے پیشاب پاخانہ نہ کرو۔یہ حدیث امام اعظم کی کھلی ہوئی دلیل ہے چونکہ اس میں کسی جگہ کی کوئی قید نہیں۔

۳؎ اس ممانعت کی وجوہ پہلے بیان کی جاچکی ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سواءان ممنوعہ چیزوں کے ہر اس چیز سے استنجاء جائز ہے جو صفائی کرسکے،لکڑی،ڈھیلہ،پتھروغیرہ۔ہاں کاغذسے استنجاءممنوع اگرچہ سادہ ہی ہو،کیونکہ اس پراﷲ اوررسول کا نام لکھا جاسکتا ہے،لہذا محترم ہے۔(مرقاۃ)نیز نوکیلی وغیرہ چیزوں سے استنجاء ممنوع ہے کہ نقصان پہنچاتی ہیں۔خیال رہے کہ انسان جنات اور جانوروں کی خوراک سے استنجاء ممنوع ہے،جیسا روٹی کے سوکھے ٹکڑے،گھاس،بھوسہ،کوئلہ پتے وغیرہ کہ یہ سب قابل حرمت ہیں۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.