ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ کے مجموعے

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ کے مجموعے

میدان علم میں آپکی جلالت شان سب کو معلوم ہے، مشکل مسائل میں جلیل القدر صحابہ کرام آپکی طرف رجوع کرتے اوراحادیث نبویہ کی روایت کرتے تھے ۔آپ کے علم وفضل کا یہ ایک عالم تھا کہ فرائض ومیراث کے مسائل جنکا زبانی نکالنا کوئی آسان کام نہیں لیکن آپ بآسانی حل فرماتی تھئیں ،قوت یادداشت کایہ حال کہ کسی شاعر کے ساٹھ ساٹھ اشعار بلکہ بعض اوقات سوسواشعار برجستہ سنادیتی تھیں ۔

آپ سے مردوں میں حضرت عروہ بن زبیر نے جو آپکے بھانجے تھے خاص طور پر علم حاصل کیا تھا ، آپکی مرویات کو سب سے زیادہ جاننے والے یہ ہی تھے ۔انہوں نے کتابی شکل میں روایات کا ایک مجموعہ بھی تیار کیاتھا لیکن واقعہ حرہ کے موقع پر جبکہ یزیدیوں نے مدینہ طیبہ کوتاراج کیا توآپ کا وہ صحیفہ بھی ضائع ہوگیا جس پر آپ کو نہایت افسوس ہوتاتھا ۔فرماتے تھے۔

لوددت انی کنت فدیتھا باہلی ومالی (تہذیب التہذیب لا بن حجر، ۷/۱۸۳)

اچھا ہوتا کہ میں اپنے اہل وعیال اور تمام جائداد کو اس پر قربان کردیتا ۔

عورتوں میں آپکی خاص تلمیذہ مشہور خاتون حضرت عمرہ بنت عبدالرحمن ہیں ۔ انکی مرویات کو انکے بھانجے حضرت ابوبکر بن محمد بن عمروبن حزم نے جمع کیا تھا۔ کیونکہ خلیفۂ راشدحضرت عمربن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے مدینہ شریف میں تدوین حدیث کے لئے جو پیغام آیا تھا اسکی تعمیل آپ ہی نے کی تھی ۔

تیسرے شاگر د حضرت قاسم بن محمد آپکے بھتیجے ہیں کہ آپکی کفالت میں رہے اورحدیثوں کاایک وافر ذخیرہ آپ سے حاصل کیا ۔انکی مرویات بھی ابوبکر بن محمد نے جمع کی تھیں ۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.