اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِنَا سَوۡفَ نُصۡلِيۡهِمۡ نَارًا ؕ كُلَّمَا نَضِجَتۡ جُلُوۡدُهُمۡ بَدَّلۡنٰهُمۡ جُلُوۡدًا غَيۡرَهَا لِيَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِيۡزًا حَكِيۡمًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 56

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِنَا سَوۡفَ نُصۡلِيۡهِمۡ نَارًا ؕ كُلَّمَا نَضِجَتۡ جُلُوۡدُهُمۡ بَدَّلۡنٰهُمۡ جُلُوۡدًا غَيۡرَهَا لِيَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِيۡزًا حَكِيۡمًا ۞

ترجمہ:

بیشک جن لوگوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا ہم اس کو عنقریب آگ میں ڈال دیں گے، جب بھی ان کی کھالیں جل کر پک جائیں گی ہم ان کی کھالوں کو دوسری کھالوں سے بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب کو (ہمیشہ) چکھتے رہیں ‘ بیشک اللہ بہت غالب بڑی حکمت والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : بیشک جن لوگوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا ہم اس کو عنقریب آگ میں ڈال دیں گے، جب بھی ان کی کھالیں جل کر پک جائیں گی ہم ان کی کھالوں کو دوسری کھالوں سے بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب کو (ہمیشہ) چکھتے رہیں۔ (النساء : ٥٦) 

دوزخ میں جلی ہوئی کھالوں کو دوسری کھالوں سے بدلنے پر تعذیب بلامعصیت کی بحث : 

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

ربیع بیان کرتے ہیں کہ کافروں کی کھال چالیس ہاتھ موٹی ہوگی اور ان کا دانت ستر ہاتھ بڑا ہوگا اور ان کا پیٹ اتنا بڑا ہوگا کہ اس میں پہاڑ سما جائے۔ 

حسن بیان کرتے ہیں ایک دن میں ستر ہزار بار انکی کھال جلے گی اور بدل جائے گی۔ (جامع البیان ج ٥ ص ٩٠‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ١٤٠٩ ھ) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کافر کی ڈاڑھ احد پہاڑ جتنی ہوگی ‘ اور اس کی کھال کی موٹائی تین دن کی مسافت کے برابر ہوگی۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢٨٥١) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دوزخ میں کافر کے دو کندھوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہوگا جتنا فاصلہ ایک تیز رفتار سوار تین دن میں طے کرتا ہے۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢٨٥٢) 

قرآن مجید کی اس آیت پر یہ اشکال ہوتا ہے کہ کافر کی کھال جلنے کے بعد اس کو نئی کھال دی جائے گی اور اس کو عذاب دیا جائے گا تو یہ تعذیب بلا معصیت ہے کیونکہ اس نئی کھال نے تو کوئی گناہ نہیں کیا اور یہ اللہ تعالیٰ کے طریقہ کے خلاف ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ اصل عذاب روح کو ہوتا ہے اور جسم اور اس کے اجزاء تو روح تک عذاب پہنچانے کے آلات ہیں ‘ لیکن یہ جواب صحیح نہیں ہے کیونکہ مذہب یہ ہے کہ روح اور جسم دونوں کو عذاب ہوتا ہے۔ 

روح اور جسم دونوں پر عذاب کی دلیل : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک سفر میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم سے پیچھے رہ گئے ‘ آپ ہم سے آملے اس وقت ہم نے نماز میں تاخیر کردی تھی ‘ ہم نے وضوء کیا اور پیروں پر مسح کرلیا ‘ تو آپ نے دو یاتین مرتبہ بلند آواز سے فرمایا : (خشک) ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہوگا۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٠) 

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ روح اور بدن دونوں کو عذاب ہوتا ہے۔ 

نیز علامہ محمد بن احمد سفارینی متوفی ١١٨٨ ھ لکھتے ہیں :

امت کے تمام متقدمین اور ائمہ کا مذہب یہ ہے کہ عذاب روح اور بدن دونوں کو ہوتا ہے۔ (لوامع الانوار ج ٢ ص ٢٥‘ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت ‘ ١٤١١ ھ) 

تعذیب بلامعصیت کے اشکال کے صحیح جوابات :

اس لئے اس اشکال کو صحیح جواب یہ ہے کہ کھال کے جل کر پکنے کا معنی ہے اس کا سیاہ پڑجانا ‘ اور اس کو دوسرے کھال سے بدلنے کا معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ اسی کھال کا رنگ اپنی قدرت کاملہ سے سفید کر دے گا ‘ جیسے دنیا میں انسان جب بیمار ہوتا ہے تو اس کے چہرہ کا رنگ بدل جاتا ہے اور صحت مند ہونے کے بعد اسی چہرہ کا رنگ نکھر کر تروتازہ ہوجاتا ہے۔ 

دوسرا جواب یہ ہے کہ جس طرح سنار ایک انگوٹھی کو توڑ کر یا اس کو پگھلا کر اسی مادہ سے دوسری نئی صورت کی انگوٹھی بنا دیتا ہے ‘ اسی طرح تشبیہ و تمثیل اللہ تعالیٰ ایک کھال کو جلا کر اس سے نئی کھال پیدا کر دے گا۔ 

تیسرا جواب یہ ہے کہ اصل میں عذاب بدن کے اجزاء اصلیہ اور روح کو ہوتا ہے اور وہ ختم نہیں ہوتے باقی اعضاء کا جل جانا اور دوبارہ بن جانا صرف روح اور اجزاء اصلیہ تک عذاب پہنچانے کا ذریعہ ہے۔ 

اور جن احادیث میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ کافر کے دانت ‘ اس کی کھال اور دیگر اعضاء کی جسامت بڑھ جاتی ہے ان پر بھی یہ اشکال ہوتا ہے کہ جس دانت نے گناہ کیا تھا وہ تو احد پہاڑ جتنا نہیں تھا اس دانت کے ساتھ جو اضافہ کیا گیا ہے اس پر عذاب بغیر کسی معصیت کے ہوگا اور یہ اللہ تعالیٰ کے طریقہ کے خلاف ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انہی اجزء اور اعضاء کو کسی اضافہ کے بغیر اتنا بڑا کر دے گا ‘ یا زائد حصہ کو عذاب نہیں ہوگا اور کافر کی شکل قبیح بنانے کے لئے اس کے اعضاء کو بڑا کردیا جائیگا اور صحیح جواب یہی ہے کہ اصل عذاب بدن کے اجزاء اصلیہ اور روح کو ہوگا یہ اضافات تو ان اجزاء تک عذاب پہنچانے کا ذریعہ ہیں۔ 

روح اور جسم دونوں کے مستحق عذاب ہونے کی ایک مثال :

عذاب جسم اور روح دونوں کو ہوتا ہے اس سلسلہ میں علامہ سید محمود آلوسی متوفی ١٢٧٠ ھ نے علامہ سفیری کی شرح بخاری سے نقل کیا ہے کہ قیامت کے دن روح اور بدن میں بحث ہوگی ‘ روح جسم سے کہے گی کہ گناہ تم نے کیے ہیں میں تو ایک ہوا کی مانند تھی اگر تم نہ ہوتے تو میں کوئی عمل نہیں کرسکتی تھی ‘ اور جسم کہے گا تم نے مجھے کام کرنے کا حکم دیا تھا اگر تم نہ ہوتیں تو میں درخت کے تنے کی طرح ہوتا اور اپنے ہاتھ اور پاؤں کو کبھی حرکت نہ دیتا ‘ تب اللہ تعالیٰ ان کے درمیان فیصلہ کرنے کے لئے ایک فرشتہ بھیجے گا وہ کہے گا تم دونوں کی مثال ایک لنجے اور ایک اندھے کی ہے یہ دونوں ایک باغ میں گئے لنجے نے اندھے سے کہا میں یہاں پھل دیکھ رہا ہوں لیکن ان کو توڑ نہیں سکتا ‘ تو اندھے نے کہا تم مجھ پر سوار ہوجاؤ پھر جہاں پھل ہوں تو دیکھ کر توڑ لینا ‘ سو دونوں مجرم ہیں اور دونوں سزا کے مستحق ہی لنجابہ منزلہ روح ہے اور اندھا بمنزلہ جسم ہے ‘ علامہ آلوسی نے اس مثال پر یہ اعتراض کیا ہے کہ اندھے اور لنجے دونوں کو شعور ہے اور یہاں صرف روح کو شعور ہے جسم کو شعور نہیں ہے ‘ پھر اس کا جواب دیا کہ ہوسکتا ہے جسم کو شعورہو اور ہم کو اس کا پتا نہ ہو۔ (روح المعانی ج ٥ ص ٥٩‘ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی ‘ بیروت)

میرے نزدیک اس اعتراض کا یہ جواب ہے کہ مثال صرف مسئلہ کی تفہیم کے لئے ہوتی ہے اس کا ممثل لہ سے بالکلیہ مطابق ہونا ضروری نہیں ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 56

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.