اہل سنت باہمی دست و گریباں کیوں اور کیسے ہوگے

کافی دن سے سوچ رہا تھا کہ اس مشکل وقت میں اہل سنت باہمی دست و گریباں کیوں اور کیسے ہوگے؟

کافی غور حوض کرنے کے بعد ایک نتیجہ پر پہنچ سکا۔۔

اصل میں عاصیہ کا فیصلہ کسی کے لئے متوقع نہ تھا کہ دو کورٹس کی کنکرنٹ ججمنٹ جس میں ہائی کورٹ کے دو جج صاحبان میں سے ایک ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بھی رہے ہیں موت کی سزا دیتے ہیں اور سپریم کورٹ کے جج صاحبان مجرمہ کو اسطرح بالکل بے گناہ اور بری قرار دے دیں گے اور فیصلہ کو معتبر اور مذہبی رنگ دینے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے جھوٹے اور من گھڑت واقعات کو دلیل بنانے سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ اور فیصلے پر تنقید کا آئینی اور قانونی حق بھی چھین لیا جائے گا اور تنقید کرنے والوں کو پابند سلاسل کردیا جائے گا بلکہ اعتراض کرنے والوں پر جرائم کی وہ دفعات لاگو کر دی جائیں گی جو کلبھوشن یادیو پر ہیں اور پاکستان بنانے والوں کو دھشت گرد و باغی قرار دے دیا جائے گا ان حالات میں بولنا ہر کسی کے لیے آسان نہ تھا اور دوسری طرف جس قسم کا فیصلہ تھا دل خون کے آنسو رو رہے تھے اور اہل ایمان کے دلوں میں آتش فشاں ابل رہے تھے اور انھیں نکلنے کا رستہ چاہئے تھا لہذا میرے بھائیوں نے جہاں قید بند کے خطرات تھے اس طرف رخ کرنے کے بجائے اپنی توپوں کے رخ اپنوں کی طرف کر لئے اور خوب دل کی بھڑاس نکالی بلکہ بعض کو ابھی تک چین نصیب نہیں ہوا لہذا میری دوستوں سے گزارش ہے وہ ایک دوسرے کی اسے فریسٹریشن سمجھتے ہوئے معاف کردیں۔ کیونکہ جب کسی طاقت ور سے کمزرو یا بزدل مار کھائے اور جواب دینے کی ہمت نہ ہو تو گھر کے برتنوں پر ہی غصہ نکالتا ہے۔ اللہ سب کو سکون عطا فرمائے اور مستقبل میں اتحاد و یکجہتی عطا فرمائے

حبیب الحق شاہ ضیائی

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.