داہنا ہاتھ اوربایاں ہاتھ

حدیث نمبر :332

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا داہنا ہاتھ طہارت اور کھانے کے لیے تھا اوربایاں ہاتھ استنجاءاورمکروہ کام کے لئے ۱؎(ابوداؤد)

شرح

۱؎ یعنی داہنے ہاتھ سے وضوء،غسل کرتے تھے اور پہلے اسی کو دھوتے تھے،نیز اسی سے کھاتے تھے اور پانی پیتے تھے۔اوربائیں ہاتھ سے استنجاء،ناک کی صفائی،تھوک کا پھینکنا وغیرہ،ہر وہ کام جس سے دل کراہت کرے کرتے تھے۔لہذا ایک ہاتھ کے کام دوسرے سے نہ کرو۔مرقاۃ نے فرمایا کہ دینی کتابیں داہنے ہاتھ سے پکڑو اور جو تابائیں ہاتھ سے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.