طلاق یافتہ

کچھ وقت پہلے ایک دوست کے والد نے مجھے گھر بلایا اور کہنے لگے "بیٹا میری بیٹی کا فلاں جگہ سے رشتہ آیا یے اور وہ لوگ ماشاءاللہ اچھے کھاتے پیتے عزت دار گھرانے کے لوگ ہیں، اور وہ لڑکا آپ کی جان پہچان کا ہے، مجھے بتاؤ وہ لڑکا کیسا ہے کیا میری بیٹی کے لیۓ وہ لڑکا بہتر ثابت ہوگا”؟

میں نے لڑکے کا نام سنا تو اسی وقت نفی میں سر ہلادیا کہ نہیں انکل وہاں شادی مناسب نہیں، اس لڑکے میں بہت زیادہ خامیاں ہیں آپ کی بیٹی خوش نہیں رہ سکے گی۔

انکل نے مسکرا کر کہا "ٹھیک ہے بیٹا بس یہی معلوم کرنا تھا” اسکے بعد مجھے کچن سے مچھلی کی خوشبو آنا بند ہوگئ اور ایک کپ چاۓ پی کر میں واپس آگیا۔

کچھ دن بعد مجھے اسی دوست کی طرف سے بہن منگنی کا دعوت نامہ ملا، کارڈ میں نام پڑھ کر حیران ہوگیا کہ یہ تو وہی لڑکا ہے جس کے لیۓ میں نے انکل کو منع کیا تھا، بہرحال منگنی کہ تقاریب کے اندر میں ویسے ہی شرکت نہیں کرتا چاہے دو نیک ترین انسانوں کی ہی کیوں نا ہو۔

منگنی کے بعد انکل سے ملاقات کی اور مبارکباد دی، انکل نے خوشی خوشی مبارک باد وصول کی اور کہنے لگے ” بیٹا آپ کی باتوں پر غور کیا لیکن پھر میں نے سوچا کہ خامیوں سے کونسا انسان پاک ہے ؟ اس لڑکے میں چند خامیاں ہیں لیکن اسکے والدین بہت اچھے ہیں، ماشاءاللہ کھاتے پیتے گھرانے کے ہیں، بڑا گھر یے، لڑکے کا اپنا کاروبار ہے اپنی گاڑی ہے اور اللہ سے امید ہے کہ شادی کے بعد لڑکے میں اچھایئاں آجایئں گی، اور تو اور میرے دوستوں نے بھی تعریف کی کہ آپ کی بیٹی رانی کی طرح رہے گی، گاڑیوں میں گھومے گی۔”

انکل کی بات سنتا رہا، مسکراتا رہا، آخر میں اس امید کے ساتھ دعا دے کر واپس آگیا کہ انکل کی تمام باتیں سچ ثابت ہوجایئں۔

بہرحال شادی کا دن آگیا، لڑکے والے خوب دھوم دھام سے ہلہ گلہ کرتے ہوۓ برات لیکر آۓ، لڑکی والوں نے بھی شادی کے لیۓ بڑا اہتمام کیا ہوا تھا، معلوم ہوا کہ انکل نے 5 لاکھ روپے ادھار لیۓ ہیں تاکہ بیٹی کی شادی معاملات خیر و عافیت سے نمنٹ جایئں، یقینن وہ 5 لاکھ لینے کے لیۓ بھی انکل کو لوگوں کے آگے طرح طرح کی منتیں کرنی پڑی ہونگی، خیر رات 12 بجے رخصتی ہوگئ اور لڑکی سسرال پہنچ گئ۔

14 ماہ بعد آج صبح مجھے کہیں سے معلوم ہوا کہ اس لڑکی کو طلاق ہوچکی ہے، ایک ننھا پھول ساتھ لیے اپنے گھر عدت میں بیٹھی ہے۔

یہ سن کر جیسے پیروں تلے زمین نکل گئ ہو، آسمان میرے سر پر آگرا ہو، میں نے آفس سے جلدی کام نمنٹایا اور اسی دوست کے پاس چلا گیا، معلوم کرنے دوست کہنے لگا کہ "اس لڑکے کا باہر کی خواتین کے ساتھ تعلق تھا، پوری پوری رات باہر رہتا تھا، بیوی وجہ پوچھتی تو بری طرح جھڑک دیتا، ڈانٹتا اور گالیاں دیتا تھا، بعض اوقات مارتا بھی تھا، جب حالات حد سے زیادہ خراب ہوۓ تو بہن نے بھی سامنے سے جواب دینا شروع کردیا جھگڑے اور زیادہ بڑھتے گۓ اور نتیجہ لڑکے نے فورن طلاق دے دی”۔

میرے پاس کہنے کو الفاظ نہیں تھے، دعایئں دے کر واپس آگیا۔

میں اکثر کہتا آیا ہوں رشتہ کرنے میں دین دیکھو، اللہ کے احکامات پڑھو، رسول اللہﷺ کی ہدایات پڑھو، کبھی رسوائ نہیں ہوگی، ایک بیٹی جس کو اتنی پیار و محبت سے پال پوس کر بڑا کیا، ہمیشہ سے اسکے ناز و نخرے اٹھاۓ، اور ایک پل میں بغیر سوچے سمجھے کسی مالدار جانور کے کھوٹے سے باندھ دیا کہ پیسے والا ہے بیٹی خوش رہے گی اللہ کی قسم تباہ کردینے والی سوچ ہے یہ۔

میں اکثر اپنی تحاریر میں لکھتا ہوں کہ سٹیٹس دیکھ کر رشتے مت کرنا، دینداری دیکھ کر رشتے کرنا تمہاری اولادیں تمہیں مرنے کے بعد بھی دعایئں دیں گی۔

اور اگر ہم اسی طرح ہاۓ سٹیٹس، اچھی پوسٹ، اپنا بزنس، اپنی گاڑی، بڑا گھر، والی باتیں کرتے رہے تو جاؤ جا کر دیکھو پاکستان میں طلاقوں کی شرح کس قدر تیزی سے بڑھتی جارہی ہے، گھروں کے گھر اجڑ چکے ہیں، میں کہتا ہوں یہ میاں بیوی کی بربادی نہیں نسلوں کی بربادی ہے۔

لہذا رشتے کرنے میں دین دیکھو، اخلاق دیکھو، رشتے کرنے میں اللہ کے احکامات پڑھو، رسول اللہﷺ کی ہدایات پڑھو۔منقول

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.