أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ اٰمَنَ بِهٖ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ صَدَّ عَنۡهُ‌ ؕ وَكَفٰى بِجَهَـنَّمَ سَعِيۡرًا ۞

ترجمہ:

سو ان میں سے بعض لوگ اس پر ایمان لائے اور بعض لوگوں نے اس سے منہ موڑا اور (ان کے لیے) بھڑکتی ہوئی دوزخ کافی ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : سو ان میں سے بعض لوگ اس پر ایمان لائے اور بعض لوگوں نے اس سے منہ موڑا اور (ان کے لیے) بھڑکتی ہوئی دوزخ کافی ہے۔ (النساء : ٥٥) 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر یا ان کی آل میں سے جو انبیاء اور رسول مبعوث ہوئے ان پر سب لوگ ایمان نہیں لائے ‘ بعض ایمان لائے اور بعض ایمان نہیں لائے تو بعض کا ایمان نہ لانا حضرت ابراہیم کی نبوت اور ان کی نسل میں سے دوسرے انبیاء کی نبوت کے لئے موجب نقصان نہیں ہے تو اگر کچھ لوگ آپ کی نبوت پر ایمان نہیں لاتے تو اس سے آپ کی نبوت اور رسالت میں کیا فرق پڑے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 55