کامیابی ، معیار اور حصول ؟

📜کامیابی ، معیار اور حصول ؟

🔦 نت نئی ایجادات اور مختلف مصنوعات کا دور دورہ ہے ۔ ہر چیز کے ساتھ بنانے والی کمپنی کی طرف سے ایک تحریر ملتی ہے جس پر اس چیز کے سارے فنکشن ، استعمال کا طریق کار ، حفاظتی تدابیر اور دیگر ضروری معلومات درج ہوتی ہیں جو ان بنانے والوں کو ہی بہتر طور پر معلوم ہوتی ہیں اور اس چیز کی بقا، کامیابی اور سارے فوائد کا دارومدار انہی ہدایات پر عمل کرنے میں مضمر ہوتا ہے ۔

🎇 یہ ساری کائنات اللہ عزوجل کی بنائی ہوئی ہے اس کی ساخت اور ترکیب کے اجزاء اور ان کے بارے میں معلومات اس سے بڑھ کر کسی اور کو پھر کیسے ہو سکتی ہیں ؟

انسان تو اس کی شاہکار تخلیق ہے

اور وہ خود فرماتا ہے کہ

🕋 میں نے اس انسان کو عبث اور فضول پیدا نہیں کیا ۔

تو اب یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ اس عز و جل نے اس کی فوز و فلاح اور کامیابی و کامرانی کے حصول کے طریقے نہ بنائے اور بتائے ہوں ۔

اور وہ طریقے اس سے بہتر نہ کوئی جان سکتا اور بتا سکتا ہے ۔

🍁بحیثیت اس کی انسانی مخلوق ہونے کے اپنی کامیابی کے لیئے ہمیں اس کی ہدایات پر ہی عمل کرنا چاہیے تھا

لیکن اس کا ہم پر تو مزید کرم یہ ہے کہ اس نے ہمیں اپنے اوپر ایمان رکھنے کی لازوال بے مثال سعادت عطا فرما رکھی ہے ۔ ہمارا معبود و مسجود بھی وہی ہے اور خالق ومالک اور رب بھی وہی چنانچہ ہم پر تو اس نسبت کی بنا پر اور زیادہ لازم ہو جاتا ہے کہ ہم اپنی کامیابی و کامرانی اسے ہی سمجھیں جو وہ فرمائے اوراس کامیابی و کامرانی سے ہمکنار ہونے کے لئے اس گفتار و کردار کو اپنائیں جو وہ بتاتا ہے

🕌 اس کی ہی تعلیمات کی روشنی میں مساجد کے موذنین دن میں 5 مرتبہ

📢حَیَّ عَلَی الْفَلَاحْ

( آؤ کامیابی کی طرف ) کی صدا لگا کر ہمارے اذہان میں تازہ کرتے ہیں کہ کامیابی کیا ہے اور کہاں ہے ؟ ۔

اگر یہ فرمان صرف ایک بار بھی ہوتا تو ہمارا یقین وعمل یہ ہونا چاہیے تھا کہ ہم اپنی کامیابی کو اسی میں ہی مضمر سمجھتے لیکن یہ دل نواز صدائیں تو ہمیں دن میں پانچ مرتبہ سنائی دیتی ہیں جس سے بخوبی پتہ چل جاتا ہے کہ ہماری کامیابی میں اس اذان اور اس کے نتیجے میں کھڑی ہونے والی نماز کا کتنا بڑا حصہ ہے ۔ اسی لیئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی کوئی اہم کام درپیش ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع فرما دیتے

🌹اللہ تبارک وتعالی نے اپنے مقدس کلام میں کامیابی کا معیار بڑا واضح طور پر بیان فرما دیا ہے

🌹 فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ الْنَارِ وَاُدْخِلُ الْجَنَّۃَفَقَدْ فَازَ

(سورۃ آل عمران آیت 185)

"پس جو شخص آگ سے دور کر دیا گیا اور جنت میں داخل کیا گیا، بے شک وہی کامیاب ہو گیا "

اس ارشاد سے واضح ہوتا ہے کہ کامیابی ان امور اور اطوار کو اختیار کرنے میں ہے جو جہنم سے دور اور جنت سے قریب کرتے ہیں ۔

اللہ تعالی نے تو فرما دیا ہے

🔖وَھَدَیْنٰهُ النَّجْدَیْنَ

(سورۃالبلدآیت10)

ہم نے انسان کے سامنے کامیابی اور نا کامی دونوں راستے کھول کر رکھ دیے ہیں

🔖 فَمَن شَاءَ فَلْيُؤْمِن وَمَن شَاءَ فَلْيَكْفُرْ

(سورۃالکھف آیت 29)

اب انسان کے اپنے اختیار میں ہے جو چاہے انہیں مان کر کامیاب ہوجائے اور جو چاہے نہ مان کر ناکام و نامراد اور جہنم کا ایندھن بن جائے ۔

🔆اللہ تبارک تعالی ہمیں ، ہمارے والدین، اساتذہ، مشائخ ، اہل خانہ و اعزہ و احباب و کل امت مسلمہ کو جہنم کی آگ سے محفوظ رہنے اور جنت میں داخل ہونے کی توفیقات عطاء فرمائے ۔🤲

آمین آمین آمین

اللہ تبارک و تعالی سے اس کا فضل مانگتے رہنا چاہئے کہ دیگر نعمتوں کی طرح کامیابی اور کامرانی اس کے فضل کی ہی مرہون منت ہے

🌲 کامیابی و کامرانی کے لیئے جس طرح ایک مخلص اور مکمل ہادی اور رہنما کا ہونا ضروری ہے اسی طرح کامیابی کی خواہش رکھنے والے کے لئے چند اور صلاحیتوں کا ہونا بھی لازم ہے اور اللہ تعالی نے قرآن مجید میں وہ بھی بتائی ہیں

مثلا دانائی , بینائی, سماعت ، زندہ اور سلیم دل ، وغیرہا ۔

اس پوری کائنات کا خالق اور رب فرماتا ہے کہ جو لوگ اس کے فرمائے ہوئے ، عطا کئے ہوئے اصول و ضوابط کی روشنی میں زندگی بسر نہیں کرتے کامیاب و بامراد ہونا تو دور کی بات وہ بہرے ہیں, گونگے ہیں, اندھے ہیں ,بلکہ دلوں کے اندھے ہیں عقل سے بھی بے بہرہ ہیں بلکہ جانوروں سے بھی زیادہ گمراہ اور بد تر ہیں ۔

🔖صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ ( سورة البقرة 18 )

🔖صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَعْقِلُونَ ( سورة البقرة 171)

🔖لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ آذَانٌ لَّا يَسْمَعُونَ بِهَا ۚ أُولَٰئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ

( سورة الاعراف 179)

🔖أَمْ تَحْسَبُ أَنَّ أَكْثَرَهُمْ يَسْمَعُونَ أَوْ يَعْقِلُونَ إِنْ هُمْ إِلَّا كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ سَبِيلاً

( سورة الفرقان:44 )

🔖فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلَٰكِن تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ

( سورة الحج 46 )

 بینا ، دانا ، زندہ دل انسان کامیابی کے لئے وقت کی قدروقیمت کو بخوبی جانتا ہے لیکن اللہ کا فضل عمیم کہ کتاب ہدایت قرآن کریم میں ارشاد فرمایا

فَإِذَا فَرَغْتَ فَانصَبْ (7)وَإِلَىٰ رَبِّكَ فَارْغَب (8 سورة الانشراح )

حضرات مفسرین کی تفسیر کا خلاصہ کچھ یوں بنتا ہے کہ ایک کام سے فارغ ہوئے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائیں بلکہ اور زیادہ لگن مزید جوش اور جذبے سے کسی اور کام میں لگ جائیں

یہاں یہ بھی غور کرنے کی بات ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے حکم میں "نصب "کا لفظ استعمال فرمایا ہے جس کا معنی ہے "کام کی جسم کو چور چور کردینے والی تھکاوٹ” .

کام دین کا ہو یا دنیا کا اس میں کچھ دیر مصروف رہنے سے ایک سستی سی پیدا ہو جاتی ہے ۔

سبحان اللہ

انسانی نفسیات سے ہم آہنگ کتنی خوبصورت تعلیم دی بے۔۔

بے دلی ، پریشان فکری سے کام کرنے میں ثمرات بہت کم ہو جاتے ہیں ۔ تو انسان اس سے کسی قدر فارغ ہو کر کسی اور کام میں لگ جائے تو نئی دلچسپی نئی توجہ نئی اٹھان کی وجہ سے اب کیا جانے والا کام زیادہ ثمرات دے گا

اور إلى ربك فارغب

فرما کر یہ بتا دیا کہ جس بھی کام میں لگو اس میں تمہاری ساری رغبت اور دلچسپی تمہارے رب کی طرف ہونی چاہیے اور یہ تو ظاہر ہے کہ رب کی رغبت والے کام کس طرح کے با برکت اور نتیجہ خیز ہوں گے ۔

 اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اللہ تبارک تعالی کے دو انعامات ایسے ہیں کہ لوگوں کی اکثریت ان کے اندر سخت گھاٹے میں مبتلا ہیں

1 صحت

2 فارغ وقت

حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کا ارشاد ہے کہ مجھے یہ دیکھنا سخت ناگوار گزرتا ہے کہ میں تم میں سے کسی کو خالی اور بیکار دیکھوں نہ تو دنیا کے کسی کام میں مصروف ہے اور نہ ہی دین کے

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما دو کشتی کرتے ہوئے مردوں کے پاس سے گزرے آپ نے فرمایا ہمیں اپنے فارغ وقت میں اس کا حکم نہیں دیا گیا

🌻 فراغت اور ٹال مٹول کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور دونوں ہی کامیابی کے دشمن ہیں ۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی جناب ابوذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک نصیحت ہے ” اپنے آپ کو بہت بچاؤ اس رویہ سے کہ اچھا تھوڑی دیر بعد میں کرلیتا ہوں ۔ اس لیئے کہ تم ! آج اس وقت تم ہو اس کے بعد ( تو سمجھ لے کے تم نہیں ہو گے) اور اگر اللہ کے فضل سے کل کی مہلت مل گئی تو اس میں بھی یہی سوچ رکھنا ۔ کل کر لونگا اگر تم نے اپنے آج سے نکال دیا تو تجھے کسی کمی کوتاہی رہ جانے کی ندامت نہیں ہوگی ۔

🌟 زندگی میں ناکامی اور آس امید کے ٹوٹنے اور بہت کچھ کھو جانے والے واقعات بھی ہوتے ہیں لیکن اگر کوئی ان کو دل پر لے کر پڑ جائے تو کبھی بھی کامیاب انسان نہیں بن سکتا بلکہ سبق سیکھ کر نئے جذبے اور نئے ولولے سے دوبارہ میدان عمل میں کودنا ضروری ہوتا ہے

غزوہ احد میں شروع کی شاندار فتح کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے پسپائی ، ناکامی اور بہت زیادہ جانی نقصان مسلمانوں کو برداشت کرنا پڑا۔

اس موقع پر بھی اللہ نے فرمایا

🌹 وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ( سورة ال عمران 139 )

اور نہ کمزوری دکھاؤ اور نہ غم کرو تم ہی بلند و بالا ہو جب تک کہ تم مومن ہو

وھن بدن کی کمزوری کو بولتے ہیں اور حزن دل میں پیدا ہونے والی ناامیدی ، افسوس اور غم کو اور یہ دونوں کیفیتیں انسان کو بزدل ، درماندہ اور ناکارہ سا بنا دیتی ہیں چنانچہ اللہ تبارک وتعالی نے فورا یہ اصلاح فرمائی کہ یہ وقتی نقصان ہے اپنی کمزوریوں پر قابو پاؤ ۔ دل میں یقین پیدا کرو ۔ میرے اس فرمان ” تم ہی سب سے اعلی ہو ” کو اپنا طغری اور تمغہ سمجھ کر نئے جذبے ، نئی حکمت عملی اور نئی تیاری سے کمربستہ ہو جاؤ ۔

یقین محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم

جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں….

کیا آپ بینا و دانا ہیں ؟

کسوٹی حاضر خدمت ہے ۔

۞ أَفَمَن يَعْلَمُ أَنَّمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ أَعْمَىٰ ۚ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ ( سورة الرعد 19)

تو کیا جو جانتا ہے کہ جوکچھ آپ پر آپ کے رب کی جناب سے نازل کیا گیا ہے وہ بالکل حق ہے ، وہ اس جیسا ہے جو ( اس نازل شدہ پر ایمان و عمل نہ کر کے ) اندھا ہو ۔ بات تو یہی ہے کہ نصیحت اہل عقل ہی پکڑتے ہیں ۔

یہاں اللہ تعالی نے سبھی لوگوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے

(1) جو اللہ کے رسول پر نازل فرمودہ کو حق جانتے ہیں اور حق جاننے کا مطلب اس پر عمل اور اس کے مطابق اپنی کردار سازی ہے ۔

(2) جو ایسے نہیں اور اللہ نے انہیں اندھا قرار دیا ہے ۔

اس نصیحت کو فرمانے کے بعد ، بتایا کہ جو اس نصیحت کو قبول کرے وہ عقل والا ہے

یعنی جو اس پر کان نہ دھرے وہ لاکھ عقلمند بنا پھرے ، خالق کائنات کی جناب میں بے عقل بھی ہے ، اندھا تو پہلے ہی بیان ہو چکا ۔

فقیر خالد محمود عرض گذار ہے کہ اپنے رب کے ارشاد پر ضرور غور فرمائیں ۔ ایسا ہو سکتا ہے کہ اندھا تو ہے لیکن ہے عقل والا تو نابینائی کی وجہ سے جو کمی پیدا ہوئی وہ کسی حد تک عقل کی وجہ سے پوری ہو گئی جیسا کہ مشاہدہ بھی ہے لیکن اگر دونوں ہی نہ ہوں تو !!!

اب لگے ہاتھوں یہ غور بھی فرما لیں کہ اللہ تبارک و تعالی نے کیا نازل فرمایا ہے ، وہ کہاں ہے اور کن کے پاس اور ان کے بارے میں آپ کا رویہ کیا ہے ؟ آپ اس میں کہاں ہیں ؟

اور

اللہ تبارک و تعالی نے اگلی آیات میں ان اہل عقل کی درج ذیل نشانیاں بیان فرمائی ہیں ۔

اللہ تعالی کے ساتھ اپنے ( روز الست کے ) عھد کو پورا کرتے ہیں

اپنے پختہ قول و قرار کو توڑتے نہیں ( آیت نمبر 20)

اللہ نے جسے ملانے کا حکم دیا ہے اسے ملا کر ہی رکھتے ہیں

اپنے رب کی خشیت رکھتے ہیں

اور بڑے حساب خوفزدہ رہتے ہیں ( آیت نمبر 21)

جو اپنے رب کی رضا کی طلب میں صبر رکھتے ہیں

نماز قائم رکھتے ہیں

ہمارے دیئے ہوئے رزق میں سے پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتے ہیں

برائی کا بدلہ اچھائی سے دیتے ہیں ۔ ( آیت نمبر 22)

اللہ تبارک و تعالی سے دعاء ہے کہ وہ یہ صفات اعلی ترین پیمانے پر ہمارے اندر پیدا فرما دے ۔

آمین آمین یا رب العالمین…

(مفتی خالد محمود صاحب)

درس 030: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)

*درس 030: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وَالْمُعْتَبَرُ فِي إقَامَةِ هَذِهِ السُّنَّةِ عِنْدَنَا هُوَ الْإِنْقَاءُ دُونَ الْعَدَدِ، فَإِنْ حَصَلَ بِحَجَرٍ وَاحِدٍ كَفَاهُ، وَإِنْ لَمْ يَحْصُلْ بِالثَّلَاثِ زَادَ عَلَيْهِ

اور ہم احناف کے نزدیک اس سنت پر عمل کرنے کے لئے صفائی کا اعتبار کیا جائے گا نہ کہ ڈھیلوں کی تعداد کا۔۔ تو اگر ایک ہی ڈھیلے سے صفائی ہوگئی تو کافی ہے اور اگر تین ڈھیلوں سے بھی صفائی نہ ہوسکے تو زیادہ ڈھیلے لینا ہوں گے۔

وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ الْعَدَدُ مَعَ الْإِنْقَاءِ شَرْطٌ، حَتَّى لَوْ حَصَلَ الْإِنْقَاءُ بِمَا دُونِ الثَّلَاثِ كَمَّلَ الثَّلَاثَ، وَلَوْ تَرَكَ لَمْ يُجْزِهِ.

اور امام شافعی کے نزدیک صفائی تو شرط ہے مگر اس کے ساتھ ڈھیلوں کی تعداد بھی شرط ہے، لہذا اگر تین سے کم ڈھیلوں میں صفائی ہوگئی پھر بھی تین کا عدد پورا کرنا ضروری ہوگا، اگر عدد پورا نہ کیا تو استنجاء کی سنت پوری نہیں ہوگی۔

وَاحْتَجَّ الشَّافِعِيُّ بِمَا رَوَيْنَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ «مَنْ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ» أَمْرٌ بِالْإِيتَارِ، وَمُطْلَقُ الْأَمْرِ لِلْوُجُوبِ.

امام شافعی کی دلیل وہ روایت ہے جو ہم (درس نمبر 26 میں) بیان کرچکے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں: جو ڈھیلے سے استنجاء کرے اسے چاہئے کہ وہ طاق عدد (Odd Number) میں استعمال کرے۔ اس حدیث میں طاق عدد استعمال کرنے کا حکم ہے، اور مطلق (یعنی بغیر کسی کنڈیشن کے) حکم واجب کو ثابت کرتا ہے۔

(وَلَنَا) مَا رَوَيْنَا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهُ أَحْجَارَ الِاسْتِنْجَاءِ فَأَتَاهُ بِحَجَرَيْنِ وَرَوْثَةٍ فَرَمَى الرَّوْثَةَ، وَلَمْ يَسْأَلْهُ حَجَرًا ثَالِثًا،وَلَوْ كَانَ الْعَدَدُ فِيهِ شَرْطًا لَسَأَلَهُ إذْ لَا يُظَنُّ بِهِ تَرْكُ الْوَاجِبِ

اور ہماری دلیل عبد اللہ بن مسعود کی وہ حدیث ہے جسے ہم (درس نمبر 28 میں) بیان کرچکے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے عبد اللہ بن مسعود سے استنجاء کے ڈھیلے طلب فرمائے تو آپ دو ڈھیلے اور ایک لید کا ٹکڑا لے آئے، تو حضور ﷺ نے لید کا ٹکڑا پھینک دیا اور تیسرا پتھر طلب نہیں فرمایا۔

اگر استنجاء میں تعداد کا لحاظ رکھنا شرط ہوتا تو حضور ﷺ ان سے تیسرا ڈھیلا ضرور طلب فرماتے، اور حضور ﷺ سے یہ گمان نہیں کیا جاسکتا ہے کہ آپ واجب کو ترک کریں۔

وَلِأَنَّ الْغَرَضَ مِنْهُ هُوَ التَّطْهِيرُ وَقَدْ حَصَلَ بِالْوَاحِدِ، وَلَا يَجُوزُ تَنْجِيسُ الطَّاهِرِ مِنْ غَيْرِ ضَرُورَةِ.

نیز ڈھیلے کے استعمال کا اصل مقصد طہارت حاصل کرنا ہے اور جب مقصد ایک ہی ڈھیلے سے حاصل ہوجائے تو بلاضرورت پاک شے کو ناپاک کرنا جائز نہیں ہے۔

(وَأَمَّا) الْحَدِيثُ فَحُجَّةٌ عَلَيْهِ

اور امام شافعی کی پیش کردہ حدیث انہیں کے خلاف حجت ہے۔

لِأَنَّ أَقَلَّ الْإِيتَارِ مَرَّةً وَاحِدَةً، عَلَى أَنَّ الْأَمْرَ بِالْإِيتَارِ لَيْسَ لِعَيْنِهِ بَلْ لِحُصُولِ الطَّهَارَةِ فَإِذَا حَصَلَتْ بِمَا دُونَ الثَّلَاثِ فَقَدْ حَصَلَ الْمَقْصُودُ فَيَنْتَهِي حُكْمُ الْأَمْرِوَكَذَا اسْتَنْجَى بِحَجَرٍ وَاحِدٍ لَهُ ثَلَاثَةُ أَحْرُفٍ؛ لِأَنَّهُ بِمَنْزِلَةِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ فِي تَحْصِيلِ مَعْنَى الطَّهَارَةِ.

اسلئے کہ طاق عدد کم سے کم ایک ہوتا ہے اور حدیث میں طاق عدد کا حکم طہارت حاصل کرنے کے لئے ہے نہ کہ طاق کی گنتی پوری کرنے کے لئے، لہذا اگر تین سے کم میں بھی طہارت حاصل ہوگئی تو مقصود حاصل ہوگیا اور حضور ﷺ کے حکم کی تعمیل بھی ہوگئی۔

اسی طرح اگرکسی نے ایک ایسے ڈھیلے سے استنجاء کیا جس کے تین کنارے (Three Sides) تھےتو طہارت حاصل ہوجائے گی، اس لئے کہ وہ ایک ڈھیلا تین ڈھیلوں کے برابر شمار ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

استنجاء کے لئے کن چیزوں کا استعمال جائز ہے کن کا استعمال منع ہے، اس پر بحث ہوچکی۔

اب علامہ کاسانی ایک نئی بحث کا آغاز کررہے ہیں اور اسکی وجہ امام شافعی کا اختلاف ہے۔

*استنجاء میں کتنے ڈھیلے استعمال کرنے چاہئے۔۔؟؟*

ہم احناف کے نزدیک ڈھیلوں کی کوئی تعداد مقرر نہیں ہے، بلکہ جتنے ڈھیلوں سے پاکیزگی حاصل ہوجائے اتنے ڈھیلے استعمال کرنا سنت ہے، ہاں اگر ایک یا دو ڈھیلوں سے پاکیزگی حاصل ہوجائے تو تین کا عدد پورا کرنا مستحب ہے، اسی طرح چار سے حاصل ہوجائے تو پانچ کا عدد پورا کرنا مستحب ہے۔۔ وجہ یہ ہے کہ احادیث میں جہاں طاق عدد کا ذکر آیا ہے وہی تین کا عدد بھی مذکور ہے ۔ لہذا کم از کم تین کا عدد پورا کرنا بہرحال مستحب ہے۔

طہارت کے مسائل میں عدد کے حوالے سے ہم احناف کا موقف یہ ہے *نجاست کو زائل کرنا* ضروری ہے *عدد کا لحاظ* ضروری نہیں ہے، ہاں اگر ایک یا دو بار میں نجاست زائل ہوجائے اور احادیث میں کسی عدد کا ذکر ملتا ہو تو اس عدد کو پورا کرلیناحسبِ دلیل سنت یا مستحب ہوتا ہے۔

علامہ کاسانی نے امام شافعی کی جو دلیل ذکر کی ہے دراصل امام شافعی کا استدلال صرف لفظ *وتر* سے نہیں ہے بلکہ ان کے دلائل میں وہ احادیث بھی شامل ہیں جس میں *ثلاثة احجار* یعنی تین پتھروں کے استعمال کا ذکر ہے۔ ابوداؤد، نسائی اور بیہقی وغیرہم کتبِ حدیث میں وہ روایات موجود ہیں۔

ہوسکتا ہے کسی کے ذہن میں یہ اشکال آئے کہ علامہ کاسانی نے لکھا ہے کہ جب ایک ڈھیلے سے طہارت ہوگئی تو مقصد حاصل ہوگیا۔۔۔ پھر دو ٹھیلے لینا *تنجیس الطاہر* کے اصول کے مخالف ہے یعنی پاک چیز کو ناپاک کرنا ناجائز ہے تو دو ڈھیلے لینا بھی ناجائز ہے۔

علامہ کاسانی نے عبارت میں *بلاضرورت* کی قید لگاکر اس اشکال کو دور کردیا ہے، یعنی ضرورت ہو تو ایک ڈھیلے سے طہارت ہوجانے کے باوجود دو ڈھیلے لینا جائز ہے۔۔۔ اور حدیث کے ظاہر پر عمل کرنا بلاشبہ ضرورت میں شامل ہے، لہذا تین کا عدد پورا کرنا مستحب ہے ناجائز نہیں ہے۔

علامہ کاسانی نے ایک پتھر کو تین طرف سے استعمال کرنے کی جو مثال پیش کی ہے وہ امام شافعی کےموقف کو کمزور ثابت کرنے کی بہت اچھی دلیل ہے، کیونکہ امام شافعی ایک طرف تو تین ڈھیلے استعمال کرنے کو ضروری قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف وہ خود اس بات کے قائل ہیں کہ ایک پتھر کو تین طرف سے استعمال کرلیا جائے تو تین کا عدد پورا ہوجائے گا۔

*ثلاثة أحجار* یعنی تین پتھر کے فرمان پر عمل کرنا ہے تو پتھر کا تعداد میں تین ہونا ضروری ہے، لہذا امام شافعی کا تین اطراف (Sides) کے مسئلہ کو جائز قرار دینا ان کے موقف کو کمزور ثابت کرتا ہے۔

*ابو محمد عارفین القادری*

کنزالایمان مع خزائن العرفان پارہ 1 رکوع 4 سورہ البقرہ آیت نمبر30 تا 39

وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةًؕ-قَالُوْۤا اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا وَ یَسْفِكُ الدِّمَآءَۚ-وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَؕ-قَالَ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(۳۰)

اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایامیں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں (ف۵۳) بولے کیا ایسے کو نائب کرے گا جو اس میں فساد پھیلائے اور خونریزیاں کرے (ف۵۴) اور ہم تجھے سراہتے ہوئے تیری تسبیح کرتے اور تیری پاکی بولتے ہیں فرمایا مجھے معلوم ہے جو تم نہیں جانتے (ف۵۵)

(ف53)

خلیفہ احکام واوامرکے اجراء و دیگر تصرفات میں اصل کا نائب ہوتا ہے یہاں خلیفہ سے حضرت آدم علیہ السلام مراد ہیں اگرچہ اور تمام انبیاء بھی اللہ تعالٰی کے خلیفہ ہیں حضرت داؤد علیہ السلام کے حق میں فرمایا ” یَادَاو،دُ اِنَّا جَعَلْنٰکَ خَلِیْفَۃً فِی الْاَرْضِ ” فرشتوں کو خلافت آدم کی خبر اس لئے دی گئی کہ وہ ان کے خلیفہ بنائے جانے کی حکمت دریافت کرکے معلوم کرلیں اور ان پر خلیفہ کی عظمت و شان ظاہر ہو کہ اُن کو پیدائش سے قبل ہی خلیفہ کا لقب عطا ہوا اور آسمان والوں کو ان کی پیدائش کی بشارت دی گئی

مسئلہ : اس میں بندوں کو تعلیم ہے کہ وہ کام سے پہلے مشورہ کیا کریں اور اللہ تعالٰی اس سے پاک ہے کہ اس کو مشورہ کی حاجت ہو ۔

(ف54)

ملائکہ کا مقصد اعتراض یا حضرت آدم پر طعن نہیں بلکہ حکمت خلافت دریافت کرنا ہے اور انسانوں کی طرف فساد انگیزی کی نسبت کرنا اس کا علم یا انہیں اللہ تعالٰی کی طرف سے دیا گیا ہو یا لوح محفوظ سے حاصل ہوا ہو یا خود انہوں نے جنات پر قیاس کیا ہو ۔

(ف55)

یعنی میری حکمتیں تم پر ظاہر نہیں بات یہ ہے کہ انسانوں میں انبیاء بھی ہوں گے اولیاء بھی علماء بھی اور وہ علمی و عملی دونوں فضیلتوں کے جامع ہوں گے۔

وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلٰٓىٕكَةِۙ-فَقَالَ اَنْۢبِـُٔوْنِیْ بِاَسْمَآءِ هٰۤؤُلَآءِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۳۱)

اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام اشیاء کے نام سکھائے (ف۵۶) پھر سب اشیاء ملائکہ پر پیش کرکے فرمایا سچے ہو تو ان کے نام تو بتاؤ (ف۵۷)

(ف56)

اللہ تعالٰی نے حضرت آدم علیہ السلام پر تمام اشیاء و جملہ مسمیات پیش فرما کر آپ کو ان کے اسماء و صفات و افعال و خواص و اصول علوم و صناعات سب کا علم بطریق الہام عطا فرمایا ۔

(ف57)

یعنی اگر تم اپنے اس خیال میں سچے ہو کہ میں کوئی مخلوق تم سے زیادہ عالم پیدا نہ کروں گا اور خلافت کے تم ہی مستحق ہو تو ان چیزوں کے نام بتاؤ کیونکہ خلیفہ کا کام تصرف و تدبیراور عدل و انصاف ہے اور یہ بغیر اس کے ممکن نہیں کہ خلیفہ کو ان تمام چیزوں کا علم ہو جن پر اس کو متصرف فرمایا گیا اور جن کا اس کو فیصلہ کرنا ہے۔

مسئلہ : اللہ تعالٰی نے حضرت آدم علیہ السلام کے ملائکہ پرافضل ہونے کا سبب علم ظاہر فرمایا اس سے ثابت ہوا کہ علمِ اسماء خلوتوں اور تنہائیوں کی عبادت سے افضل ہے

مسئلہ: اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوا کہ انبیاء علیہم السلام ملائکہ سے افضل ہیں ۔

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَاؕ-اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ(۳۲)

بولے پاکی ہے تجھے ہمیں کچھ علم نہیں مگر جتنا تو نے ہمیں سکھایا بے شک تو ہی علم و حکمت والا ہے (ف۵۸)

(ف58)

اس میں ملائکہ کی طرف سے اپنے عجزو قصور کا اعتراف اور اس امر کا اظہار ہے کہ اُن کا سوال استفساراً تھا۔ نہ کہ اعتراضاً اور اب انہیں انسان کی فضیلت اور اُس کی پیدائش کی حکمت معلوم ہوگئی جس کو وہ پہلے نہ جانتے تھے ۔

قَالَ یٰۤاٰدَمُ اَنْۢبِئْهُمْ بِاَسْمَآىٕهِمْۚ-فَلَمَّاۤ اَنْۢبَاَهُمْ بِاَسْمَآىٕهِمْۙ-قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۙ-وَ اَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ(۳۳)

فرمایا اے آدم بتادے انہیں سب اشیاء کے نام جب آدم نے انہیں سب کے نام بتادئیے (ف۵۹) فرمایا میں نہ کہتا تھا کہ میں جانتا ہوں آسمانوں اور زمین کی سب چھپی چیزیں اور میں جانتا ہوں جو کچھ تم ظاہر کرتے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو (ف۶۰)

(ف59)

یعنی حضرت آدم علیہ السلام نے ہر چیز کا نام اور اس کی پیدائش کی حکمت بتادی۔

(ف60)

ملائکہ نے جو بات ظاہر کی تھی وہ یہ تھی کہ انسان فساد انگیزی و خوں ریزی کرے گا اور وجوہات چھپائی تھی وہ یہ تھی کہ مستحق خلافت وہ خود ہیں اور اللہ تعالٰی ان سے افضل و اعلم کوئی مخلوق پیدا نہ فرمائے گا مسئلہ اس آیت سے انسان کی شرافت اور علم کی فضیلت ثابت ہوتی ہے اور یہ بھی کہ اللہ تعالٰی کی طرف تعلیم کی نسبت کرنا صحیح ہے اگرچہ اس کو معلم نہ کہا جائے گا، کیونکہ معلم پیشہ ور تعلیم دینے والے کو کہتے ہیں مسئلہ : اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جملہ لغات اور کل زبانیں اللہ تعالٰی کی طرف سے ہیں ۔ مسئلہ : یہ بھی ثابت ہوا کہ ملائکہ کے علوم و کمالات میں زیادتی ہوتی ہے ۔

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَؕ-اَبٰى وَ اسْتَكْبَرَ ﱪ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ(۳۴)

اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے منکر ہوا اور غرور کیا اور کافر ہوگیا

وَ قُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَ كُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَیْثُ شِئْتُمَا۪-وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ(۳۵)

(ف۶۱) اور ہم نے فرمایا اے آدم تو اور تیری بی بی اس جنت میں رہو اور کھاؤ اس میں سے بے روک ٹوک جہاں تمہارا جی چاہے مگر اس پیڑ کے پاس نہ جانا (ف۶۲) کہ حد سے بڑھنے والوں میں ہوجاؤ گے (ف۶۳)

(ف61)

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو تمام موجودات کا نمونہ اور عالم روحانی و جسمانی کا مجموعہ بنایا اور ملائکہ کے لئے حصول کمالات کا وسیلہ کیا تو انہیں حکم فرمایا کہ حضرت آدم کو سجدہ کریں کیونکہ اس میں شکر گزاری اور حضرت آدم علیہ السلام کی فضیلت کے اعتراف اور اپنے مقولہ کی معذرت کی شان پائی جاتی ہے بعض مفسِّرین کا قول ہے کہ اللہ تعالٰی نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کرنے سے پہلے ہی ملائکہ کو سجدہ کا حکم دیا تھا ان کی سند یہ آیت ہے

” فَاِذَا اسَوَّیْتُہ’ وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَہ’ سَاجِدِینَ ”(بیضاوی) سجدہ کا حکم تمام ملائکہ کو دیا گیا تھا یہی اصح ہے۔(خازن) مسئلہ : سجدہ دو طرح کا ہوتا ہے ایک سجدۂ عبادت جو بقصد پر ستش کیا جاتا ہے دوسرا سجدۂ تحیت جس سے مسجود کی تعظیم منظور ہوتی ہے نہ کہ عبادت۔

مسئلہ : سجدۂ عبادت اللہ تعالٰی کے لئے خاص ہے کسی اور کے لئے نہیں ہوسکتا نہ کسی شریعت میں کبھی جائز ہوا یہاں جو مفسرین سجدۂ عبادت مراد لیتے وہ فرماتے ہیں کہ سجدہ خاص اللہ تعالیٰ کے لئے تھا۔اور حضرت آدم علیہ السلام قبلہ بنائے گئے تھے تو وہ مسجود الیہ تھے نہ کہ مسجودلہ، مگر یہ قول ضعیف ہے کیونکہ اس سجدہ سے حضرت آدم علی نبینا و علیہ الصلوۃ والسلام کا فضل و شرف ظاہر فرمانا مقصود تھا اور مسجود الیہ کا ساجد سے افضل ہونا کچھ ضرور نہیں جیسا کہ کعبہ معظمہ حضور سید انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قبلہ و مسجود الیہ ہے باوجودیکہ حضور اس سے افضل ہیں دوسرا قول یہ ہے کہ یہاں سجدۂ عبادت نہ تھا سجدۂ تحیت تھا اور خاص حضرت آدم علیہ السلام کے لئے تھا زمین پر پیشانی رکھ کر تھا نہ کہ صرف جھکنا یہی قول صحیح ہے اور اسی پر جمہور ہیں۔(مدارک)

مسئلہ سجدۂ تحیت پہلی شریعتوں میں جائز تھا ہماری شریعت میں منسوخ کیا گیا اب کسی کے لئے جائز نہیں ہے کیونکہ جب حضرت سلیمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سجدہ کرنے کا ارادہ کیا تو حضور نے فرمایا کہ مخلوق کو نہ چاہئے کہ اللہ کے سوا کسی کو سجدہ کرے۔ (مدارک) ملائکہ میں سب سے پہلا سجدہ کرنے والے حضرت جبریل ہیں پھر میکائیل پھر اسرافیل پھر عزرائیل پھر اور ملائکہ مقربین یہ سجدہ جمعہ کے روز وقتِ زوال سے عصر تک کیا گیا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ملائکہ مقربین سو برس اور ایک قول میں پانچ سو برس سجدہ میں رہے شیطان نے سجدہ نہ کیا اور براہ تکبر یہ اعتقاد کرتا رہا کہ وہ حضرت آدم سے افضل ہے اس کے لئے سجدہ کا حکم معاذ اللہ تعالیٰ خلاف حکمت ہے اس اعتقاد باطل سے وہ کافر ہوگیا۔

مسئلہ : آیت میں دلالت ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام فرشتوں سے افضل ہیں کہ ان سے انہیں سجدہ کرایا گیا۔

مسئلہ : تکبر نہایت قبیح ہے اس سے کبھی متکبر کی نوبت کفر تک پہنچتی ہے۔ (بیضاوی و جمل)

(ف62)

اس سے گندم یا انگور وغیرہ مراد ہے (جلالین)

(ف63)

ظلم کے معنی ہیں کسی شے کو بے محل وضع کرنا یہ ممنوع ہے اور انبیاء معصوم ہیں ان سے گناہ سرزد نہیں ہوتا یہاں ظلم خلاف اولی کے معنی میں ہے۔ مسئلہ : انبیاء علیہم السلام کو ظالم کہنا اہانت و کفر ہے جو کہے وہ کافر ہوجائے گا اللہ تعالیٰ مالک و مولیٰ ہے جو چاہے فرمائے اس میں ان کی عزت ہے دوسرے کی کیا مجال کہ خلاف ادب کلمہ زبان پر لائے اور خطاب حضرت حق کو اپنی جرأت کے لئے سند بنائے، ہمیں تعظیم و توقیر اور ادب و طاعت کا حکم فرمایا ہم پر یہی لازم ہے۔

فَاَزَلَّهُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْهَا فَاَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِیْهِ۪-وَ قُلْنَا اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّۚ-وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ(۳۶)

تو شیطان نے جنت سے انہیں لغزش دی اور جہاں رہتے تھے وہاں سے انہیں الگ کردیا (ف۶۴) اور ہم نے فرمایا نیچے اترو (ف۶۵) آپس میں ایک تمہارا دوسرے کا دشمن اور تمہیں ایک وقت تک زمین میں ٹھہرنا اور برتنا ہے (ف۶۶)

(ف64)

شیطان نے کسی طرح حضرت آدم و حوا (علیہماالسلام) کے پاس پہنچ کر کہا کہ میں تمہیں شجر خلد بتادوں، حضرت آدم علیہ السلام نے انکار فرمایا اس نے قسم کھائی کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں ، انہیں خیال ہوا کہ اللہ پاک کی جھوٹی قسم کون کھا سکتا ہے بایں خیال حضرت حوّا نے اس میں سے کچھ کھایا پھر حضرت آدم کو دیا انہوں نے بھی تناول کیا’ حضرت آدم کو خیال ہوا کہ ” لَاتَقْرَبَا ” کی نہی تنزیہی ہے تحریمی نہیں کیونکہ اگر وہ تحریمی سمجھتے تو ہر گز ایسا نہ کرتے کہ انبیاء معصوم ہوتے ہیں یہاں حضرت آدم علیہ السلام سے اجتہاد میں خطا ہوئی اور خطائے اجتہادی معصیت نہیں ہوتی۔

(ف65)

حضرت آدم و حوا اور ان کی ذریت کو جوان کے صلب میں تھی جنت سے زمین پر جانے کا حکم ہوا حضر ت آدم زمین ہند میں سراندیپ کے پہاڑوں پر اور حضرت حوا جدّے میں اتارے گئے۔ (خازن) حضرت آدم علیہ السلام کی برکت سے زمین کے اشجار میں پاکیزہ خوشبو پید اہوئی۔(روح البیان)

(ف66)

اس سے اختتام عمر یعنی موت کا وقت مراد ہے اور حضرت آدم علیہ السلام کے لئے بشارت ہے کہ وہ دنیا میں صرف اتنی مدت کے لئے ہیں اس کے بعد پھر انہیں جنت کی طرف رجوع فرمانا ہے اور آپ کی اولاد کے لئے معاد پر دلالت ہے کہ دنیا کی زندگی معین وقت تک ہے عمر تمام ہونے کے بعد انہیں آخرت کی طرف رجوع کرنا ہے۔

فَتَلَقّٰۤى اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْهِؕ-اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ(۳۷)

پھر سیکھ لیے آدم نے اپنے رب سے کچھ کلمے تو اللہ نے اس کی توبہ قبول کی (ف۶۷) بےشک وہی ہے بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان

(ف67)

آدم علیہ السلام نے زمین پر آنے کے بعد تین سو برس تک حیاء سے آسمان کی طرف سر نہ اٹھایا اگرچہ حضرت داؤد علیہ السلام کثیر البکاء تھے آپ کے آنسو تمام زمین والوں کے آنسوؤں سے زیادہ ہیں مگر حضرت آدم علیہ السلام اس قدر روئے کہ آپ کے آنسو حضرت داؤد علیہ السلام اورتمام اہلِ زمین کے آنسوؤں کے مجموعہ سے بڑھ گئے۔ (خازن) طبرانی و حاکم و ابو نعیم و بیہقی نے حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاً روایت کی کہ جب حضرت آدم علیہ السلام پر عتاب ہوا تو آپ فکر توبہ میں حیران تھے اس پریشانی کے عالم میں یاد آیا کہ وقت پیدائش میں نے سر اٹھا کر دیکھا تھا کہ عرش پر لکھا ہے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ میں سمجھا تھا کہ بارگاہِ الہٰی میں وہ رُتبہ کسی کو میسر نہیں جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام اپنے نام اقدس کے ساتھ عرش پر مکتوب فرمایا لہذا آپ نے اپنی دعا میں ” رَبَّنَا ظَلَمْنَا ”الآیہ ‘ کے ساتھ یہ عرض کیا ” اَسْئَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ اَنْ تَغْفِرَلِیْ ” ابن منذر کی روایت میں یہ کلمے ہیں۔

” اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسْلَکَ بِجَاہِ محمَّدٍ عَبْدِکَ وَکَرَامَتِہٖ عَلَیْکَ اَنْ تَغفِرَلِیْ خَطِیْئَتِیْ ” یعنی یارب میں تجھ سے تیرے بندۂ خاص محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جاہ و مرتبت کے طفیل میں اور اس کرامت کے صدقہ میں جو انہیں تیرے دربار میں حاصل ہے مغفرت چاہتا ہوں یہ دعا کرنی تھی کہ حق تعالیٰ نے ان کی مغفرت فرمائی مسئلہ اس روایت سے ثابت ہے کہ مقبولان بارگاہ کے وسیلہ سے دعا بحق فلاں اور بجاہ فلاں کہہ کر مانگنا جائز اور حضرت آدم علیہ السلام کی سنت ہے مسئلہ : اللہ تعالیٰ پر کسی کا حق واجب نہیں ہوتا لیکن وہ اپنے مقبولوں کو اپنے فضل و کرم سے حق دیتا ہے اسی تفضلی حق کے وسیلہ سے دعا کی جاتی ہے صحیح احادیث سے یہ حق ثابت ہے جیسے وارد ہوا ” مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہ ِ وَرَسُوْلِہٖ وَاَقَامَ الصَّلوٰۃَ وَصَامَ رَمَضَانَ کَانَ حَقاً عَلیٰ اللّٰہ ِ اَنْ یُدْخِلَ الْجَنَّۃَ ”

حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ دسویں محرم کو قبول ہوئی جنت سے اخراج کے وقت اور نعمتوں کے ساتھ عربی زبان بھی آپ سے سلب کرلی گئی تھی بجائے اس کے زبان مبارک پر سریانی جاری کردی گئی تھی قبول توبہ کے بعد پھر زبان عربی عطا ہوئی (فتح العزیز) مسئلہ : توبہ کی اصل رجوع الی اللہ ہے اس کے تین رکن ہیں ایک اعتراف جرم دوسرے ندامت تیسرے عزم ترک اگر گناہ قابل تلافی ہو تو اس کی تلافی بھی لازم ہے مثلا تارک صلوۃ کی توبہ کے لئے پچھلی نمازوں کی قضا پڑھنا بھی ضروری ہے توبہ کے بعد حضرت جبرئیل نے زمین کے تمام جانوروں میں حضرت آدم علیہ السلام کی خلافت کا اعلان کیا اور سب پر ان کی فرماں برداری لازم ہونے کا حکم سنایا سب نے قبول طاعت کا اظہار کیا ۔(فتح العزیز)

قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًاۚ-فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸)

ہم نے فرمایا تم سب جنت سے اتر جاؤ پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کا پیرو ہوا اسے نہ کوئی اندیشہ نہ کچھ غم(ف۶۸)

(ف68)

یہ مؤمنین صالحین کے لئے بشارت ہے کہ نہ انہیں فزع اکبر کے وقت خوف ہو نہ آخرت میں غم وہ بے غم جنت میں داخل ہوں گے۔

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠(۳۹)

اور وہ جو کفر کریں اور میری آیتیں جھٹلائیں گے وہ دوزخ والے ہیں ان کو ہمیشہ اس میں رہنا

حضرت ابوسعید خدری کی مرویات

حضرت ابوسعید خدری کی مرویات

آپکی مرویات بھی ایک ہزار سے زائد ہیں ، یہ کتابت حدیث کو پسند نہ کرتے تھے لیکن انکے تلامذہ میں نافع اورعطا بن ابی رباح خاص طور پر مشہور ہیں ۔ ان دونوں حضرات کی احادیث خود انکی موجود گی میں لوگ لکھتے تھے ۔( تہذیب التہذیب ۳ /۴۸)

پھر یہ کہ حضرت عبداللہ بن عباس ،حضرت جابر بن عبداللہ اور حضرت مجاہد خود بھی آپ سے روایت کرتے ہیں اور ان سب حضرات نے احادیث کی جمع وتدوین میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے ، لہذا آپکی مرویات تقریباً سب ہی جمع ہوگئی تھیں ۔

کعبۃاللہ شریف پر پہلی نظر

حکایت نمبر151: کعبۃاللہ شریف پر پہلی نظر

حضرت سیدنا حامد اسودعلیہ رحمۃ اللہ الصمد ، حضرت سیدنا ابراہیم خوّاص علیہ رحمۃ اللہ الرزاق کے عقید ت مندوں میں سے تھے ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا ابراہیم خواص رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جب کبھی سفر پر روانہ ہوتے تو کسی کو بھی اطلاع نہ دیتے اور نہ ہی کسی کو اپنے ساتھ سفر پر چلنے کے لئے کہتے ۔جب کبھی سفر کا اِرادہ ہوتا تو ایک بر تن اپنے ساتھ لے جاتے جو وضو اور پانی پینے کے لئے استعمال فرماتے ۔

ایک مرتبہ اسی طر ح آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنا بر تن اٹھایا اور ایک سمت چل دیئے۔ میں بھی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پیچھے ہولیا۔ہماراسفرجاری رہاآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے دورانِ سفر مجھ سے کوئی بات نہ کی یہاں تک کہ ہم کوفہ پہنچ گئے ۔ وہاں ہم نے ایک دن اور ایک رات قیام کیا، پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ”قادسیہ” کی طر ف روانہ ہوئے ۔ جب ہم قادسیہ پہنچے تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ میری طرف متو جہ ہو کر پوچھنے لگے : ”اے حامد !تم یہاں کیسے آئے ؟” میں نے عرض کی:” حضور! میں آپ (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) کے ساتھ ساتھ ہی سفرکرتا آرہا ہوں۔میں سارے سفر میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ساتھ رہاہوں۔”

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:” میرا اِرادہ تو حج کرنے کا ہے، اگر اللہ عزوجل نے چاہا تو اب میں مکہ مکرمہ کی طرف جاؤں گا۔” تو میں نے عرض کی :”حضور ! ان شاء اللہ عزوجل میں بھی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ساتھ مکہ شریف چلوں گا۔” چنانچہ ہم سوئے حرم روانہ ہوئے اور مسلسل دن رات سفر کیا۔

ہمارا سفر اسی طرح جاری وساری تھا۔مکہ مکرمہ قریب سے قریب تر ہوتا جارہا تھا۔اچانک ہمیں راستے میں ایک نوجوان ملا۔ وہ بھی ہمارے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔ وہ ہمارے ساتھ ایک دن اور ایک رات سفر کرتا رہا لیکن راستے میں اس نے ایک بھی نماز نہ پڑھی۔یہ دیکھ کر حضرت سیدنا ابراہیم خواص رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس سے کہا:”اے نوجوان !تُو کل سے ہمارے ساتھ ہے لیکن تُونے ایک بھی نماز نہ پڑھی حالانکہ نماز حج سے بھی زیادہ اَہمیت کی حامل ہے۔”اس نوجوان نے جواب دیا: ”اے شیخ! مجھ پر نماز فرض نہیں ۔” آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے پوچھا: ”کیا تُو مسلمان نہیں؟ ” اس نے جواب دیا: ”نہیں،بلکہ میں نصرانی ہوں اورمیں اس جنگل بیابان میں یہ دیکھنے آیا ہوں کہ مَیں توکُّل میں کتنا کامل ہوں او رمجھے میرے پروردگار عزوجل پر کتنا بھروسا ہے کیونکہ میرا نفس مجھ سے کہتا ہے کہ تو تو کُّل میں بہت کامل ہے لیکن میں نے نفس کی بات پر یقین نہ کیا اور یہ تہیہ کرلیا کہ اپنے آپ کو آزماؤں گا او رکسی ایسی جگہ جاؤں گا جہاں میرے او رمیرے رب عزوجل کے سوا کوئی نہ ہوپھر وہاں دیکھو ں گا کہ میرے اندر کتنا توکُّل ہے۔ چنانچہ میں اس جنگل بیابان میں آگیا ہوں اوراپنے آپ کو آزمارہا ہوں۔”

اس نوجوان کی یہ بات سن کر حضرت سیدنا ابراہیم خواص رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ وہاں سے اٹھے اور چلتے ہوئے مجھ سے فرمایا: ”اسے اس کے حال پر چھوڑ دو۔” نوجوان بھی ہمارے ساتھ ہی چلنے لگا۔ حرم شریف سے قریب ”وادی مُرّ’ ‘میں پہنچ کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے پرانے کپڑے اُتار کر دھوئے پھر وضو کرنے کے بعد اس نوجوان سے پوچھا:” تمہارا نام کیا ہے؟” اس نے جواب دیا: ” عبدا لمسیح” آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:” اے عبدالمسیح! اب حرم شریف کی حد شرو ع ہونے والی ہے اور کفار کا داخلہ حرم شریف میں حرام ہے۔

جیسا کہ اللہ عزوجل نے اپنی آخری کتا ب قرآن کریم میں ارشا د فرمایا:

اِنَّمَا الْمُشْرِکُوۡنَ نَجَسٌ فَلَایَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِہِمْ ہٰذَا ۚ

ترجمہ کنزالایمان:مشرک نرے ناپاک ہیں تواس برس کے بعدوہ مسجد حرام کے پاس نہ آنے پائیں۔( پ10، تو بہ :28)

لہٰذا تم اب یہیں رکو اور ہر گزہرگز حرم شریف میں داخل نہ ہونا اگر تم داخل ہوئے تو ہم حُکّام سے تمہاری شکایت کر دیں گے ۔”

اِتنا کہنے کے بعد ہم نے اس نوجوان کو وہیں چھوڑ ا اور ہم مکہ مکرمہ کی نور بار مشکبار فضاؤں میں داخل ہوگئے ۔پھر ہم میدانِ عرفات کی جانب روانہ ہوئے۔ وہاں حاجیوں کا ہجوم تھا اچانک ہم نے اسی نوجوان کو میدانِ عرفات میں دیکھا اس نے حاجیوں کی طر ح اِحرام باندھا ہوا تھا اور بے تا بانہ نظر وں سے کسی کو تلاش کر رہا تھا جونہی اس نے ہمیں دیکھا فوراً ہمارے پاس چلا آیا اور حضرت سیدنا ابراہیم خواص رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی پیشانی کو بوسہ دینے لگا۔ یہ صورتحال دیکھ کر حضرت سیدنا ابراہیم خواص رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا:” اے عبد المسیح! تم یہاں کیسے آگئے ؟” اس نوجوان نے عرض کی:”حضور! اب میرا نام عبد المسیح نہیں بلکہ عبد اللہ ہے (یعنی اب وہ عیسائی مسلمان ہو چکا تھا)

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:”اپنا پورا واقعہ بیان کر وکہ تم کس طرح مسلمان ہوئے، تمہاری زندگی میں یہ انقلاب کیسے آیا ؟” اس نوجوان نے عرض کی:” حضور! جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مجھے چھوڑ کر آگئے تھے تو میں وہیں موجود رہا اور میرے دل میں یہ خواہش مچلنے لگی کہ آخر مَیں بھی تو دیکھوں کہ وہ مکہ مکرمہ کیسی جگہ ہے جس کی طرف مسلمان سفر و ہجر کی صعوبتیں بر داشت کر کے ہر سال حج کے لئے آتے ہیں۔آخر اس میں ایسی کیا عجیب بات ہے ۔” اسی خواہش کی بناء پر میں نے بھیس بدلا اورمسلمانوں جیسی حالت بنالی۔ میری خوش قسمتی کہ وہا ں ایک قافلہ پہنچاجو”حرمین شریفین ” آرہا تھا ۔ میں نے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کیا اور ا س قافلے میں شامل ہوگیا۔

جوں جوں ہمارا قافلہ مکہ مکرمہ سے قریب ہوتا جارہا تھا میرے دل کی دنیا بدلتی جارہی تھی۔ عجیب وغریب کیفیت کا عالم تھاپھر جونہی میری نظر ”خانہ کعبہ” پر پڑی تو میرے دل سے تمام اَدیان باطلہ کی محبت نکل گئی اور ”دینِ اسلام ”کی محبت میرے دل میں گھر کر گئی۔مَیں نے فوراً”عیسائیت ”سے توبہ کر کے محمد رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی غلامی اِختیار کرلی اور مسلمان ہوگیا ۔اس وقت میرا دل بہت خوشی محسوس کر رہا تھا۔ قبولِ اسلام کے بعد میں نے غسل کیا احرام باندھا اور دعا کی:” اے اللہ عزوجل! آج میری ملاقات حضرت سیدنا ابراہیم خواص رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے ہوجائے ۔” بارگاہِ خداوندی عزوجل میں میری دعا قبول ہوئی اور میں اب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوں ۔”حضرت سیدنا ابراہیم خواص رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بہت خوش ہوئے۔ اسے خوب شفقتوں اور محبتوں سے نوازا۔پھر ہماری طرف متو جہ ہوئے اور فرمایا:” اے حامد ! دیکھ لو سچائی میں کتنی برکت ہے۔ اس نوجوان کو حق کی تلاش تھی اور یہ اپنی طلب میں سچا تھا لہٰذا اسے حق مل گیا یعنی یہ اسلام کی دولت سے مالا مال ہوگیا ۔” پھر وہ نوجوان ہمارے ساتھ ہی رہنے لگا اور بہت بلند مرتبہ حاصل کیا ۔ بالآ خر وہ دارِ فناسے دارِ بقاء کی طرف روانہ ہوگیا ۔(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علی وسلم)

شیطان لوگوں کے پاخانہ کے مقام سے کھیلتا ہے

حدیث نمبر :336

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو سرمہ لگائے وہ طاق بار لگائے ۱؎ کرے تو اچھا ہے نہ کرے تو گناہ نہیں۲؎ اور جو استنجا کرے تو طاق سے کرے جو کرے تو اچھا اور نہ کرے تو گناہ نہیں۳؎ اور جو کھائے تو جو خلال سے نکالے وہ تھوک دے اور جوزبان سے نکالے وہ نگل لے۴؎ جو کرے تو اچھا ہے جو نہ کرے تو گناہ نہیں۵؎ اور جو پاخانہ جائے تو آڑ کرے اگر آڑ نہ پائے یا بجز اس کے کہ ریت کا ڈھیر جمع کرے تو اس ڈھیر کی طرف پیٹھ کرے ۶؎ کیونکہ شیطان لوگوں کے پاخانہ کے مقام سے کھیلتا ہے جو یہ کرے تو اچھا ہےجو نہ کرے تو گناہ نہیں ۷؎(أبوداؤد،ابن ماجہ،دارمی)

شرح

۱؎ ہر آنکھ میں تین سلائیاں اس طرح کہ پہلے داہنی آنکھ میں تین۔بعض لوگ یوں کرتے ہیں کہ پہلے دہانی میں دو،پھربائیں میں تین،پھر دائیں میں ایک،تاکہ داہنی پر اتبداءاورانتہاء ہو،اس میں بھی حرج نہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو سوتے وقت تین تین سلائیاں لگایا کرتے تھے،اس پر پابندی کرنے والا ان شاءاﷲ اندھا نہ ہوگا۔

۲؎ یعنی یہ امروجوب کے لیے نہیں بلکہ استحباب کے لیے ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ مطلق امرو جوب کے لیے ہوتا ہے ورنہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو امر کے بعد اس فرمان کی ضرورت نہ ہوتی۔

۳؎ یعنی بڑے استنجے کے لیے تین،یاپانچ،یاسات حسب ضرورت ڈھیلے لے۔اگر چار یا چھ لئے جب بھی مضائقہ نہیں کیونکہ مقصود صفائی ہے۔خیال رہے کہ سرمے کی تین ہی سلائیاں لگائے پانچ یاسات نہیں کہ یہی سنت ہے۔

۴؎ کیونکہ خلال سے نکالے ہوئے میں خون سے مخلوط ہونے کا احتمال ہے،لہذا احتیاطًا نہ کھائے اور زبان سے نکالے ہوئے میں یہ احتمال نہیں وہاں اس احتیاط کی ضرورت نہیں۔

۵؎ یہ اس صورت میں ہے کہ خون سے مخلوط ہونے کا صرف احتما ل ہو یقین نہ ہو،اگر یقین ہوتو نگلنا حرام ہےکیونکہ بہتا خون حرام بھی ہے اورنجس بھی،خواہ دوسرے کا۔اس سے اشارۃً معلوم ہوتا ہے کہ بہتا خون جسم میں داخل کرنا ناجائز ہے جیسے پیشاب پاخانہ داخل کرنا کہ یہ سب نجس ہیں۔

۶؎ لوگوں کے سامنے تو آڑ کرنا فرض ہے،تنہائی میں آڑ مستحب،کیونکہ یہ حیا کا ایک شعبہ ہے اسی لیے تنہائی میں بھی ننگا رہنا ممنوع ہے۔ڈھیر کی طرف پیٹھ کرنااس واسطے ہے کہ آگے تو کپڑے وغیرہ سے بھی آڑ کی جاسکتی ہے ورنہ دونوں طرفیں ستر کے لائق ہیں۔

۷؎ یعنی تنہائی میں یہ پردہ مستحب ہے واجب نہیں۔شیطان کے کھیلنے سے مراد یہ ہے کہ لوگوں کو ننگا دیکھ کر ہنستا ہے،وسوسے ڈالتا ہے وغیرہ۔