شیطان لوگوں کے پاخانہ کے مقام سے کھیلتا ہے

حدیث نمبر :336

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو سرمہ لگائے وہ طاق بار لگائے ۱؎ کرے تو اچھا ہے نہ کرے تو گناہ نہیں۲؎ اور جو استنجا کرے تو طاق سے کرے جو کرے تو اچھا اور نہ کرے تو گناہ نہیں۳؎ اور جو کھائے تو جو خلال سے نکالے وہ تھوک دے اور جوزبان سے نکالے وہ نگل لے۴؎ جو کرے تو اچھا ہے جو نہ کرے تو گناہ نہیں۵؎ اور جو پاخانہ جائے تو آڑ کرے اگر آڑ نہ پائے یا بجز اس کے کہ ریت کا ڈھیر جمع کرے تو اس ڈھیر کی طرف پیٹھ کرے ۶؎ کیونکہ شیطان لوگوں کے پاخانہ کے مقام سے کھیلتا ہے جو یہ کرے تو اچھا ہےجو نہ کرے تو گناہ نہیں ۷؎(أبوداؤد،ابن ماجہ،دارمی)

شرح

۱؎ ہر آنکھ میں تین سلائیاں اس طرح کہ پہلے داہنی آنکھ میں تین۔بعض لوگ یوں کرتے ہیں کہ پہلے دہانی میں دو،پھربائیں میں تین،پھر دائیں میں ایک،تاکہ داہنی پر اتبداءاورانتہاء ہو،اس میں بھی حرج نہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو سوتے وقت تین تین سلائیاں لگایا کرتے تھے،اس پر پابندی کرنے والا ان شاءاﷲ اندھا نہ ہوگا۔

۲؎ یعنی یہ امروجوب کے لیے نہیں بلکہ استحباب کے لیے ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ مطلق امرو جوب کے لیے ہوتا ہے ورنہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو امر کے بعد اس فرمان کی ضرورت نہ ہوتی۔

۳؎ یعنی بڑے استنجے کے لیے تین،یاپانچ،یاسات حسب ضرورت ڈھیلے لے۔اگر چار یا چھ لئے جب بھی مضائقہ نہیں کیونکہ مقصود صفائی ہے۔خیال رہے کہ سرمے کی تین ہی سلائیاں لگائے پانچ یاسات نہیں کہ یہی سنت ہے۔

۴؎ کیونکہ خلال سے نکالے ہوئے میں خون سے مخلوط ہونے کا احتمال ہے،لہذا احتیاطًا نہ کھائے اور زبان سے نکالے ہوئے میں یہ احتمال نہیں وہاں اس احتیاط کی ضرورت نہیں۔

۵؎ یہ اس صورت میں ہے کہ خون سے مخلوط ہونے کا صرف احتما ل ہو یقین نہ ہو،اگر یقین ہوتو نگلنا حرام ہےکیونکہ بہتا خون حرام بھی ہے اورنجس بھی،خواہ دوسرے کا۔اس سے اشارۃً معلوم ہوتا ہے کہ بہتا خون جسم میں داخل کرنا ناجائز ہے جیسے پیشاب پاخانہ داخل کرنا کہ یہ سب نجس ہیں۔

۶؎ لوگوں کے سامنے تو آڑ کرنا فرض ہے،تنہائی میں آڑ مستحب،کیونکہ یہ حیا کا ایک شعبہ ہے اسی لیے تنہائی میں بھی ننگا رہنا ممنوع ہے۔ڈھیر کی طرف پیٹھ کرنااس واسطے ہے کہ آگے تو کپڑے وغیرہ سے بھی آڑ کی جاسکتی ہے ورنہ دونوں طرفیں ستر کے لائق ہیں۔

۷؎ یعنی تنہائی میں یہ پردہ مستحب ہے واجب نہیں۔شیطان کے کھیلنے سے مراد یہ ہے کہ لوگوں کو ننگا دیکھ کر ہنستا ہے،وسوسے ڈالتا ہے وغیرہ۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.