وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدۡخِلُهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا‌ ؕ لَـهُمۡ فِيۡهَاۤ اَزۡوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَّنُدۡخِلُهُمۡ ظِلًّا ظَلِيۡلًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 57

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدۡخِلُهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا‌ ؕ لَـهُمۡ فِيۡهَاۤ اَزۡوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَّنُدۡخِلُهُمۡ ظِلًّا ظَلِيۡلًا ۞

ترجمہ:

اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے ہم عنقریب انکو ان جنتوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ‘ ان کے لیے جنتوں میں پاکیزہ بیویاں ہیں ‘ اور ہم ان کو گھنے سائے میں داخل کریں گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے ہم عنقریب انکو ان جنتوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ‘ ان کے لیے جنتوں میں پاکیزہ بیویاں ہیں ‘ اور ہم ان کو گھنے سائے میں داخل کریں گے۔ (النساء : ٥٧) 

اخروی نعمتوں کے لئے نیک اعمال چاہییں : 

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا یہ اسلوب ہے کہ وعد کے بعد وعید یا وعید کے بعد وعد کا ذکر فرماتا ہے ‘ اس لیے پہلے آخرت میں کفار کے عذاب کا ذکر فرمایا تھا اور اب آخرت میں مومنوں کے ثواب کا ذکر فرمایا : 

اس آیت میں کئی مسائل ہیں ایک یہ کہ اعمال ایمان کا غیر ہیں ‘ کیونکہ اعمال کا ایمان پر عطف کیا گیا ہے اور عطف مغائرت کو چاہتا ہے ‘ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اخروی انعامات کو ابتداء حاصل کرنے کے لیے صرف ایمان کافی نہیں اس کے ساتھ نیک اعمال بھی ضروری ہیں البتہ دائمی عذاب سے نجات کے لیے صرف ایمان کافی ہے۔ قاعدہ یہی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کریم ہے جس کو چاہے اس قاعدہ سے مستثنی کردے۔ جنت میں دوام کا ذکر فرمایا اس میں جہم بن صفوان اور ان جیسے لوگوں کا رد ہوگیا جن کے نزدیک جنت میں ثواب اور دوزخ میں عذاب فانی ہے ‘ پاکیزہ بیویوں کا مطلب یہ ہے کہ وہ حیض اور نفاس سے پاک ہوں گی۔ جنت میں دھوپ نہیں ہوگی اس کے باوجود جنت میں سائے کا ذکر فرمایا کیونکہ یہاں سائے سے مراد آرام اور سکون ہے جس شخص کو جلتے ہوئے ریگستان میں سایہ میسر آجائے تو وہ اس کے لیے بہت بڑی راحت ہوتا ہے سو یہاں بھی گھنے سائے سے مراد راحت اور آرام ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 57

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.