حضرت عبداللہ بن مسعود کی مرویات

حضرت عبداللہ بن مسعود کی مرویات

آپکی عظمت شان اس سے ظاہروباہر ہے کہ آپ کو بارگاہ رسالت میں خاص قرب حاصل تھا ،صاحب النعل والوسادۃ آپ کا لقب مشہور تھا کہ آپ کو سفر وحضر میں حضور کی کفش برداری کا اعزاز خاص طور پر نصیب ہوا۔

آپکی روایتیں آپکے مشہو رشاگرد حضرت علقمہ کے ذریعہ محفوظ ہوئیں اور ان سب کولکھا گیا ، بعض لوگوں نے یہ طریقہ بھی اپنایا کہ آپ سے حدیثیں سنکرجاتے اورگھر جاکر وہ احادیث قلمبند کرلیتے تھے ۔وجہ اسکی یہ تھی کہ آپ ابتدائً کتابت کے مخالف تھے ۔(السنن للدارمی، ۶۷ ٭ جامع بیان العلم لا بن عبد البر، ۴۰)

زبان کی آفتیں! تول کر بو لئےجناب

*زبان کی آفتیں! تول کر بو لئےجناب*

*حافظ محمد ہاشم قادری مصباحی۔۔۔ چمشید پور*

اللہ تعالیٰ نے جو زبان ہمیں عطا فرمائی ہے، اس پر ذرا غور کریں کہ یہ اتنی عظیم نعمت ہے کہ بندہ اس کا کما حقہ شکر ادا نہیں کر سکتا۔ یہ زبان پیدائش سے لے کر مرتے دم تک انسان کا ساتھ دیتی ہے۔نہ اس کی سروس(Service) کی ضرورت نہ ایندھن یا ریچارج کی ،نہ اوورہالنگ کی اور مفت میں انسان کا ساتھ دیتے چلی جارہی ہے۔یہ زبان ہماری ملکیت نہیں بلکہ ہمارے پاس اللہ کی اَمانت ہے۔ جب یہ امانت ہے تو پھر اس کو اللہ کی رضا کے مطابق استعمال کیاجائے۔ یہ نہ ہو کہ جو دل میں آیا بک دیا بلکہ جو بات اللہ کے احکام کے مطابق ہو، وہ بات بولی جائے اور وہی بات سنی جائے ۔ زبان ہی سے آدمی جنت کا مستحق بنتاہے اور زبان ہی سے وہ اللہ نہ کرے دوزخ کا بھی مستحق بن جاتاہے۔ اس لئے زبان کی بہت اہمیت ہے ،ویسے بھی مومن کو ہر اہم اور قیمتی چیز کی حفاظت کرنا پڑتی ہے ورنہ وہ چیز ناقدری کی صورت میں اپنی اہمیت وافادیت کھو دیتی ہے۔ زبان کی حفاظت اور اس کا صحیح استعمال انتہائی ضروری ہے۔ اسی لئے قرآن مجید اور احادیث رسول ﷺ میں زبان کی حفاظت اور اس کے صحیح استعمال کی بڑی تاکیدیں آئی ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے، ترجمہ: اس سے لیتے ہیں دو لینے والے ایک داہنے بیٹھا ایک بائیں۔کوئی بات وہ زبان سے نہیں نکالتا کہ اس سے پہلے وہ لکھ لی جاتی ہے۔ ایک تیار بیٹھا ہوا محافظ لکھ لیتاہے۔(سورہ ق18، آیت50) اللہ تبارک و تعالیٰ سب جانتاہے صرف زبان سے بات کرنا ہی نہیں بلکہ سوچ اور نیت کو بھی جانتاہے۔ ہر انسان کے ساتھ دو فرشتے( کرام الکاتبین ) ہمیشہ ہمیشہ رہتے ہیں جو ہر بات اور ہر عمل لکھ دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ مریضوں کا کراہنا بھی لکھا جاتاہے ۔ اچھی بات دائیں طرف والا اور بری بات بائیں والا فرشتہ لکھتا رہتاہے۔(سوائے پیشاب پاخانہ کی حالت میں یا بیوی کے ساتھ مقاربت کے وقت خاص میں) ۔یہ معزز فرشتے الگ ہو جاتے ہیں (اسی لئے اس وقت بات کرنا ممنوع ہے)۔نیکی والا فرشتہ ایک نیکی کا دس لکھتاہے، بدی والا ایک بدی کی جگہ ایک ہی لکھتاہے۔ بندہ توبہ کر لے تو گناہ مٹ جاتا ہے ،بندہ مومن کے مرنے کے بعد وہ دونوں فرشتے قیامت تک اس کی قبر پر تسبیح تہلیل کرتے رہتے ہیں جس کا ثواب اس بندے کو ملتاہے۔

*زبان کو گناہ کی باتوں سے بچاؤ:*

زبان کو بات چیت، بیان و احکام میں ہمیشہ گناہوں کی باتوں سے بچانا ضروری ہے۔ مثلاً حرام کو حلال اور حلال کو حرام قراردے دینا، کسی کو تکلیف پہنچانا، بات چیت سے دل آزاری کرنا، بُرے ا لقاب سے یا دکرنا، گالیاں بکنا، جھوٹ بولنا ، جھوٹی گواہی دینا۔قرآن پاک کا ارشاد ہے ۔ترجمہ: اور نہ کہو اسے جو تمہاری زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں، یہ حلال ہے یہ حرام ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھو ۔ بے شک جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا بھلا نہیں۔(سورہ نحل، آیت 114) آج جو لوگ حلال چیزوں کو حرام قرار دیتے ہیں۔ قرآن پاک اور حدیث پاک میں جن چیزوں کو حرام وحلال قرار دیا گیا ہے، صرف وہ حرام وحلال ہیں۔ تو اب لوگوں کو یہ حق کہاں سے مل گیا کہ اللہ پر افتراء کرکے حلال چیزوں کو زبانی کلامی حرام قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح آج بہت سے لوگ حرام چیزوں کو حلال قرار دے کر بھی بہت بڑا گناہ کرتے ہیں اور اللہ پر افتراء باندھتے ہیں۔ مثلاً سود، رشوت، جوا، ناجائز کھیل تماشے ، شرعی ضرورت کے بغیر فوٹو کھنچوانا وغیرہ۔ آج کل ان سب چیزوںکا بازارخوب گرم ہے اور اس پر نرم لفظوں میں باز آنے کی نصیحت پر لوگ طرح طرح کے حیلے بہانے نکالتے ہیں۔ ایسے لوگ بھی اس آیت مبارکہ میں داخل ہیں۔ آج کل لوگوں کی عادت یہ بھی بنی ہے کہ کسی سے ناراض ہوئے ،غصہ آیا اور لعنت ملامت شروع کردی۔ فلاں پر اللہ کی لعنت ، فلاں پر لعنت۔ یہ بیماری بلکہ وبا عام ہو چکی ہے۔ حالانکہ ہم کو نہیں معلوم کہ کسی پر یہ ہماری بھیجی ہوئی لعنت کا کیا حشر ہوتاہے۔حضور ﷺ نے فرمایا: مومن نہ لعن وطعن کرنے والا ہوتا ہے نہ لعنت کرنے والا ، نہ فحش بکنے والا بے ہودہ ہوتاہے۔(ترمذی) رحمت عالم ﷺ نے فرمایا جو لعنت ملامت کرتے ہیں، وہ قیامت کے دن نہ گواہ ہوں گے نہ کسی کے سفارشی۔(صحیح مسلم) اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا مومن کو یہ نہ چاہئے کہ لعنت کرنے والا ہو۔(ترمذی) نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب بندہ کسی چیز پر لعنت کرتاہے تو وہ لعنت آسمان کو جاتی ہے ۔آسمان کے دروازے بند کر دئے جاتے ہیں۔ پھر دائیں بائیں جاتی ہیں ، جب کہیں راستہ نہیںپاتی تو اس کی طرف آتی ہے جس پر لعنت بھیجی گئی۔ اگراُسے اس کا اہل پاتی ہے تو اس پر پڑتی ہے ورنہ بھیجنے والے پر آجاتی ہے۔ (ابو داؤد شریف) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص کی چادر کو ہوا کے تیز جھونکے لگے۔ اس نے ہواپر لعنت کی ۔ حضورﷺ نے فرمایا کہ ہوا پر لعنت نہ کرو،وہ خدا کی طرف سے مامور ہے ۔ اور جو شخص ایسی چیز پر لعنت کرتاہے جو لعنت کی اہل نہ ہو تو لعنت اسی پر لوٹ آتی ہے۔ (بحوالہ کشف القلوب جلد3صفحہ280،ترمذی شریف)

زبان اللہ کی امانت ہے:

حضرت ابو ہریرہ ص روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو ،اس کو چاہئے کہ یا تو وہ اچھی اور نیک بات کہے یا خاموش رہے۔ دوسری روایت بھی ابو ہریرہ صسے مروی ہے کہ انہوں نے حضور ﷺ سے سنا ،آپؐ نے فرمایا کہ ایک انسان سوچے سمجھے بغیر جب کوئی کلمہ زبان سے کہہ دیتاہے تو وہ کلمہ اس شخص کو جہنم کے اندر اتنی گہرائی تک گرا دیتاہے جتنا مشر ق اور مغرب کے درمیان فاصلہ اور بُعد(دوری) ہے۔(صحیح بخاری،کتاب الرقاق، باب حفظ اللسان)

*زبان جہنم میں لے جانے والی ہے:*

ایک حدیث پاک میں سرکار دوجہاں ﷺ نے فرمایا کہ جتنے لوگ جہنم میں جائیں گے ان میں اکثریت ان لوگوںکی ہوگی جو اپنی زبان کی کرتوت کی وجہ سے جہنم میں جائیں گے۔ مثلاً جھوٹ بول دیا، غیبت کردی ، کسی کا دل دُکھا یا، کسی کی دل آزاری کی، دوسروں کے ساتھ غیبت میں حصہ لیا، کسی کی تکلیف پر خوشی منائی ، زیادہ باتیں کیں۔ جب یہ گناہ کے کام کئے تو اس کے نتیجے میں وہ جہنم میں چلا گیا۔(ترمذی، کتاب الایمان، باب ماجاء فی حرمۃ الصلوٰۃ، حدیث نمبر2414) یعنی بہت سے لوگ زبان کی کرتوت کی وجہ سے جہنم میں جائیں گے۔ ایک بڑی پیاری حدیث پاک ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: اللہ پاک تین لوگوں کو سخت ناپسند فرماتاہے۔(1)زیادہ باتیں کرنے والے کو(2)فضول خرچی کرنے والے کو (3)زیادہ سوال کرنے والے کو۔بیہقی نے حضرت عمر بن حصینص سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ سکوت پر قائم رہنا ساٹھ برس کی عبادت سے افضل ہے۔ ترمذی شریف میں ابو سعید خدری صسے روایت ہے حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: ابن آدم جب صبح کرتا تو تمام اعضاء زبان کے سامنے عاجزانہ یہ کہتے ہیں کہ تو خدا سے ڈر کہ ہم سب تیرے ساتھ وابستہ ہیں ،اگر تو سیدھی رہی تو ہم سیدھے رہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہوگئی تو ہم سب ٹیڑھے ہوجائیں گے۔(ترمذی، حدیث نمبر2408) ۔یہ زبان جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا فرمائی ہے اگر اس کو صحیح استعمال کریں اس کو قابو میں رکھیں،بے قابو نہ چھوڑیں تو ہمارے دنیا وآخرت کے لئے بڑی نعمت ہے۔ اسی لئے کہا گیا کہ زبان سے یا تو صحیح بات بولو ورنہ خاموش رہو۔ اس لئے کہ خاموشی اس سے ہزار درجہ بہتر ہے کہ آدمی غلط بات زبان سے نکالے اور اسی سبب سے زیادہ باتیںکرنے سے منع کیا گیا ہے ۔ نہ صرف منع کیا گیا ہے بلکہ اللہ پاک ایسے شخص کو ناپسند فرماتاہے جیساکہ اوپر حدیث پاک آپ پڑھ چکے ہیں۔

اگر انسان زیادہ بولے گا تو زبان قابو میں نہیں رہے گی،کچھ نہ کچھ گڑبڑ ضرور ہوگی اور اس کے نتیجے میں انسان گناہ اور بغض وعداوت کے شیطانی جال میںمبتلا ہوجائے گا۔ اس لئے ضرورت کے مطابق بولئے، زیادہ نہ بولئے۔ ایک بزرگ کا قول ہے کہ پہلے بات کو تولو پھر بولو۔ جب تول تول کربولو گے تو یہ زبان قابو میں آجائے گی۔ صحابہ کرامؓ اور صوفیائے کرامؒ نے بھی زبان کی حفاظت کو خوب اہمیت دی ہے اور خوب جچی تلی زبان میں بات کر نے کو فوقیت کودی ہے۔

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ جو انبیاء کرام کے بعد سب سے افضل انسان ہیں ،وہ ایک مرتبہ اپنی زبان کو پکڑ ے بیٹھے تھے اور اس کو مروڑ رہے تھے۔ لوگوں نے پوچھا کہ آپ ؓ ایساکیوں کر رہے ہیں؟انہوں نے جواب دیا،ترجمہ: اس زبان نے مجھے ہلاکتوں میں ڈال دیا ہے، اس لئے اس کو قابومیں کرنا چاہتا ہوں۔(موطا امام مالک،کتاب الکلام باب ماجاء فی مایخاذ من اللسان) بعض روایات مروی ہیں کہ آپ منہ میں کنکریاں ڈال کر بیٹھ گئے تاکہ بلا ضرورت زبان سے بات نہ نکلے۔ زبان ایسی چیز ہے کہ اس کے ذریعہ سے انسان جنت بھی کماسکتاہے اور دوزخ بھی کما سکتا ہے۔ زبان کو بہرحال قابو میں کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ ے جا استعمال نہ ہو۔ اس سے بچنے کا طریقہ یہی ہے کہ انسان زیادہ باتیں کرنے سے پرہیز کرے ۔ اس لئے انسان جتنا زیادہ غلط کلام کرے گا اتنا ہی وہ زیادہ گناہوں میں مبتلا ہوگا۔

ہمارے معاشرے میں زبان کے غلط استعمال کی جو وبا چل پڑی ہے، یہ بہت خراب اور خطرناک بات ہے۔ دوستوں کو بلالیا کہ آنا ذرا بیٹھ کر گپ شپ کریں گے۔ اب اس گپ شپ کے اندر جھوٹ بولا جارہاہے ، غیبت ہورہی ہے،دوسروں کی برائی ہورہی ہے، دوسروں کی نقلیں اُتاری جارہی ہیں۔ اس طرح کی اڈہ بازی میں نہ جانے کتنے گناہ ہورہے ہیں۔ یاد رکھیں زبان کی آفات، خرابی، فحش گوئی، دشنام طرازی، زبان درازی کی لعنت ، مسخرہ پن، فضول گوئی ، چغلی ، حسد وغیرہ وغیرہ جتنی آفتیں ہیں زبان کی ہی وجہ سے ہیں۔ بزرگوں نے کہا ہے کہ یہی زبان شکر بھی کھلائے اور یہ زبان جوتے بھی کھلائے۔ حضرت ہشام بن عمرص سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص غلام کو طمانچہ مارے ، اس کا کفارہ غلام کو آزاد کرنا ہے۔ جو شخص اپنی زبان کی حفاظت کرے گا ،اس کو عذاب سے نجات دی جائے گی۔ جو اللہ سے معذرت کرے گا ،معذرت قبول کی جائے گی۔ مومن کو چاہئے کہ پڑوسی اور مہمان کا اکرام کرے ،زبان کی ترشی سے بچائے اور پڑوسی سے بھلائی کی بات کرے ورنہ خاموش رہے۔

*زبان کی گھٹتی قیمت:*

نہایت ہی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ آج کے دور میں زبان کی قدر وقیمت گھٹتی جارہی ہے اور اس کے صحیح استعمال سے ہم سب بہت غفلت اور بے احتیاطیاں برت ر ہے ہیں۔ حتیٰ کہ اب اہل ِعلم ، دین کے ذمہ داران اور میڈیا سے وابستہ سنجیدہ لوگ بھی اس سلسلے میں بے توجہی کے شکار نظر آرہے ہیں۔ اس لئے سب سے پہلا کام یہ ہو نا چاہیے کہ اس زبان کو قابو میں کرنے کی اہمیت دل میں پیدا کریں، خوفِ خدا پیدا کریں اور صرف وہی بات کریں جس سے صلاح وفلاح کی ہوائیں چلیں۔

*ہم اپنا احتساب کریں:*

کیا ہمارے نزدیک ہماری زبان ہر قسم کی ذمہ داری اور لگام سے آزاد اور مستثنیٰ ہے؟ کیا ہم اس بات کے قولاًنہ سہی عملاً منکرہیں جو قرآن میں اللہ نے فرمایا کہ انسان کوئی بات بولتا ہے مگر یہ کہ اس کے لئے ایک فرشتہ تیار رہتا ہے لکھنے کے لئے۔(القرآن سورہ ق، آیت 81)کیا ہم سب کو اطمینان ہے کہ ہماری زبان سے جو کچھ نکل رہا ہے اس پر کسی کی گرفت نہیں ہوگی؟ اگر آج ہم میں سے ہر شخص اتنا عزم وارداہ کرلے کہ اسی لمحے سے اپنی زبان اپنے قابو میں رکھیں گے تو ذاتی ، گھریلو، رشتے ہمسائیگی اوردوستی کے دائر ے میں پڑیں بڑی خرابیوں ، رنجشوں اور فتنوں کا خاتمہ ہوجائے گا۔بات کہو تو پکی اور مضبوط اور قرآن کی زبان میں *قولوللناس حسنا* یعنی لوگوں سے بات کرو تو خوبی کی بات کرو ۔ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کثیر سے حفاطت زبان کی اہمیت ہمارے دلوں میں پیدا فرمائے اور اس بارے میں ہمیں قرآن وحدیث کی تعلیمات پر مخلصانہ عمل کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں قرآنی نسخۂ کیمیا پر عمل کی توفیق ہوجائے۔ آمین,رابطہ: hhmhashim786@gmail.com, حافظ محمد ہاشم قادری صدیقی مصباحی خطیب وامام مسجد ہاجرہ رضویہ اسلام نگر کپا لی وایا مانگو جمشیدپور پن کوڈ 831020, جھارکھنڈ،

بیدم وارثی صاحب کے ایک شعر کے اعتراض کا جواب

*بیدم وارثی صاحب کے ایک شعر کے اعتراض کا جواب*

*بے دم یہی تو پانچ ہیں مقصودِ کائنات*

*خیرالنساء،حسن و حسین مصطفیٰﷺ،علی*

میں نے آج یوٹیوپ پر مفتی محمد صوفی کلیم حنفی رضوی صاحب کے تعلق سے ایک آڈیو سنی جس میں آپ فرما رہے تھے کہ یہ شعر پڑھنا درست نہیں ھے، اور اس کی علت بھی بتائی، جس سے راقم سو فیصد متفق ہے، مگر ناسجھ ان کے خلاف ہو گئے اور ان کو برا بھلا کہنے لگے صوفی کلیم صا حب نے حقیقت کو واضح کیا، اور سچائی بتائی کہ مقصود کائنات صرف اور صرف حضور علیہ السلام کی ذات ھے،

اور یہی ہمارا عقیدہ ھے،

میں بھی یہی کہوں گا مقصود کائنات صرف نبی کی ذات ھے، اس میں کوئی دو رائے نہیں ھے

*بے دم یہی تو پانچ ہیں مقصودِ کائنات*

مقصودِ کائنات پانچ نہیں بلکہ صرف ایک ھے اور وہ ہے ہمارے نبی سرور انبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم

ہمارا مسلک ہے کہ

*حضور ﷺ مبدیِٔ کائنات ہیں*

*حضور ﷺ مخزنِ کائنات ہیں*

*حضور ﷺ منشاء کائنات ہیں*

*اور حضور ﷺ مقصودِ کائنات ہیں*

ایک حدیث میں آیا ہے ’’لو لاک لما خلقت الدنیا‘‘ یعنی اے پیارے حبیب تو نہ ہوتا تو میں دنیا کو نہ بناتا۔ ایک حدیث میں آیا لولاک لما خلقت الافلاک یعنی میرے نبی اگر تجھے پیدا کرنا مقصود نہ ہوتا تو میں آسمانوں کو بھی پیدا نہ کرتا ۔ اور تفسیر حسینی میں ایک حدیث نقل کی گئی لولاک لما اظہرت الربوبیۃ پیارے اگرتو نہ ہوتا تو میں اپنے رب ہونے کو ظاہر نہ کرتا

صرف یہی نہیں بلکہ ایسے کئی اشعار ہیں جو ہمارے عقیدے کے بلکل خلاف ہیں، جیسا کہ ایک شعر ہم سب بچپن سے سنتے آرہے ہیں

دما دم مست قلندر

علی کا *’پہلا’* نمبر

اس شعر میں بتایا گیا کہ مولائے کائنات مولا علی کا پہلا نمبر ہے

اور یہ عقیدہ اہل سنت کے خلاف ھے حالانکہ مولائے کائنات کا پہلا نمبر نہیں بلکہ چوتھا نمبر ھے مگر ہم آج تک یہی کہ رہے تھے اور پڑھ رہے تھے علی کا پہلا نمبر…

یہ عقیدہ شیعوں رافضیوں کا ھے نہ کہ ہمارا.. پھر مصلح کی مخالف کرنا، ان کے خلاف نازیبہ الفاظ استعمال کرنا کہاں کی دانشمندی ھے؟

*بے بدم یہی ہے پانچ مقصود کائنات؟*

جب اس شعر کے تعلق سے تاج الشریعہ علیہ الرحمہ سے پوچھا گیا تو آپ نے منع فرمایا اور کہا یہ ہمارے عقیدے کے بلکل خلاف ھے،

ہماری اسی ہٹ دھرمی نے اہل سنت کا شیرازہ بکھیر کر رکھ دیا ھے، کچھ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں ھے،

*نعت کہنا مشکل کام ھے*

نعت کہنا ایک ایسی صنعت ھے جو انتہائی دشوار اور مشکل ھے اس میدان میں بڑے بڑے ہوشمند ٹھوکریں کھاتے دیکھے گئے ہیں، حضور اعلی حضرت فرماتے ہیں نعت شریف لکھنا بڑا مشکل کام ھے، جس کو لوگوں نے آسان سمجھ لیا ھے، اس میں تلوار کی دھار پر چلنا ہے، اگر بڑھتا ھے تو الوہیت میں پہنچ جاتا ہے اور کمی کرتا ہے تو تنقیص ہوتی ہے الخ.. ملفوظ

کسی کے کلام کی یا کسی بھی ایک شعر کی پزیرائی مل جانا، اور مشہور زمانہ ہو کر علماء کی زبانِ زد ہوجانا اس شعر کی سچائی کی سند نہیں مل جاتی ایسے کئی اشعار ہمارے ذہن و فکر میں گردش کر رہے ہیں جو ہر کوئی پڑھتا ھے مگر پرکھ ہر کوئی نہیں کر سکتا جیسے کہ حضرت محسن کاکوری کے اس شعر میں تنقیص کا پہلو ھے

مفت حاصل ھے مگر اس کی یہ تدبیر نہیں

کھوٹے داموں میں بکے’ یوسف کی تصویر نہیں

حضرت یوسف علیہ السلام کی توہین کی گئی

اسی طرح سے

الہی پھیل جائے روشنائی میرے نامے کی

برا معلوم ہو لفظ احد میں میم احمد کا

معاذ اللہ

*نفس گم کردہ می آید جنید و بایزید ایں جا*

حضرت امیر مینائی نعت رسول لکھتے ہوئے راستہ بھول کر الوہیت کی منزل پر پہنچ جاتے ہیں

شعر ملاحظہ ہو

ظاہر ھے کہ ھے لفظ احمد بے میم

بے میم ہوئے عین خدا ، احمد مختار

ظاہر ہے کہ لفظ احد حقیقت میں بے میم ھے یا لفظ احمد سے میم علیحدہ کردیں تو احد رہ جاتا ہے اور اس سے امیر مینائی یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ احمد واحد ایک اور احمد مختار عین خدا ہیں نعوذ باللہ

مزید دیکھیں

قرآن ھے خورشید تو نجم اور صحیفے

اللہ *گہر* اور صدف احمد مختار

مصرعہ ثانی قابل گرفت و لائق اعتراض ہے

صدف سے گہر پیدا ہوتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم صدف ہوئے اور ذات باری تعالی گہر

استغفراللہ

غور کریں بات کہاں سے کہاں جا پہنچی ہے

مشہور نعت گو شاعر حضرت آسی غازی پوری کا یہ شعر بھی دیکھیں

وہی جو مستوی عرش تھا خدا ہوکر

اتر گیا ہے مدینے میں مصطفی ہو کر

ایسے بے شمار کلام ملیں گے، جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہیں، اور اپنے ایمان سے ہاتھ دھونے کے مترادف ہیں،

اس لیے اگر کسی کا مشہور زمانہ کلام ہو یا شعر ہو یا پھر وہ علماء کی زبان زد ہو اگر وہ ہمارے عقیدے کے خلاف ہے تو یہ مشہور ہونا، کتابوں میں بار بار شائع ہونا، علما کا اپنے بیانوں میں ایسے شعر کا پڑھنا ہمارے لیے حجّت نہیں ہوگا کیوں کہ یہ ہمارے عقیدے کے خلاف ھے

ویسے ہی جناب بیدم وارثی صاحب کا یہ شعر ہمارے عقیدے کے خلاف ہیں

*بے دم یہی تو پانچ ہیں مقصودِ کائنات*

*خیرالنساء،حسن و حسین مصطفیٰﷺ،علی*

پھر بھی اگر کسی کی اس تحریر سے تشنگی نہ بجھے تو دارالافتاء سے فتوی طلب کریں

ان شاء اللہ تشفی بخش جواب دیا جائےگا، مگر فتنہ کو بڑھاوا نہ دیں، علمی مسئلہ ہے مثبت انداز میں حل کریں،

اس پوسٹ کو خوب شیئر کریں، جزاک اللہ خیرا

خیر اندیش

عبدالامین برکاتی قادری

بڑی مسجد اور کم نمازی

بڑی مسجد اور کم نمازی

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

لوگوں پر ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ جب وہ مساجد کی تعمیر میں ایک دوسرے کے سامنے فخر کا اظہار کریں گے اور ان میں سے تھوڑے لوگ انھیں (یعنی مساجد کو نمازوں سے) آباد کریں گے-

(صحیح ابن خزیمہ، ج2، باب کراھة التباھی فی بناء المساجد… الخ، ر1321، ط شبیر برادرز لاہور)

حضور ﷺ نے جو کچھ فرمایا وہ حرف بہ حرف حق ہے اور آج ہم اپنی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں-

عالیشان مساجد تعمیر کر دی گئی ہیں، ایک مرتبہ میں ہزاروں بلکہ کہیں کہیں لاکھوں لوگ نماز ادا کر سکتے ہیں لیکن نماز پڑھنے والے گنے چنے لوگ ہیں- فجر کی نماز میں بعض مقامات پر کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ امام اور مؤذن کے علاوہ تیسرا کوئی نہیں پہنچتا-

مساجد کی تعمیر میں ایک دوسرے کے سامنے فخر کا اظہار تو یوں کیا جاتا ہے جیسے اسی کے مطابق ہمیں آخرت میں اعلی درجہ دیا جانا ہے-

اللہ تعالی ہمیں مساجد کو آباد کرنے کی توفیق عطا فرمائے-

عبد مصطفی

🌴🌹 عادتیں 3 اور اجر عظیم🌹🌴

🌴🌹 عادتیں 3 اور اجر عظیم🌹🌴

حضرت سیدنا عبدالله بن مسعود رضي الله عنه کا قول ہے :

رسول الله صلى الله عليه و على آله و اصحابه و بارك و سلم نے فرمایا

*🌷أَلَا أُخْبِرُكم بمَن يَحْرُمُ على النَّارِ، وبمَن تَحْرُمُ عليه النَّارُ؟ على كلِّ قريبٍ هيِّنٍ سهْلٍ🌷*

📗 ترمذی اورأحمد

فقیر خالد محمود عرض کرتا ہے کہ حدیث پاک کے ابتدائیہ پر قربان ۔

اللہ تبارک و تعالی کے رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم نے رحمت و شفقت کا انتہائی انداز اختیار فرمایا ۔

کیا میں تمہیں بتاءوں نہیں

اس قدر نرم ، دھیما ، پیار بھرا لہجہ اختیار فرما کر بات کرے محبوب رب العالمین تو پھر صد ہزار حیف ہے اس پر جو ان پر عمل نہ کرے ، ان کو اپنے کردار کا حصہ نہ بنائے ۔ پھر خصوصا جب کہ نہ زیادہ مشکل ہوں اور نہ ان پر خرچ آئے ۔

ہینگ لگے نہ پھٹکری رنگ بھی آئے چوکھا۔

اس قدر اظہار شفقت سے متوجہ کر کے فرمایا

جو جہنم کی آگ پر حرام کر دیا گیا ہے اور جس پر جہنم کی آگ حرام کر دی گئی ۔

فقیر خالد محمود آپ کی توجہ اس طرف مبذول کرانا ضروری سمجھتا ہے کہ فرمایا

حرام کر دیا گیا ہے، حرام کر دی گئی ہے، یہ نہیں فرمایا کہ ہو جائے گی بلکہ پختہ اور ٹھوس انداز میں فرمایا کہ حرام ہو چکا ہے ۔ پھر اس بات کو صرف ایک ہی بار نہیں فرمایا بلکہ جملہ بدل کر دو بار فرمایا ۔ ان کو جہنم پر اور جہنم کو ان پر قطعا حرام ہو جانا بتایا

تو بات یہ بنی کہ جہنم میں جانا تو دور کی بات ہے ، جہنم کے قریب تک کا بھی کوئی امکان نہیں ۔

*کن پر :

*على كُلِّ قَريبٍ*،

دوستو !

اللہ تبارک و تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بشارت کو کتنا عام فرما دیا ۔

كُلِّ _ یعنی ہر کوئی ، امیر غریب چھوٹا بڑا شاہ گدا کالا گورا کوئی بھی ہو

ہو بس !

(1) *قَريبٍ* : لوگوں کے قریب، ان سے دور نہ بھاگنے والا ۔ لوگ اس کے ساتھ آسانی سے مل سکیں ۔

یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ اعزہ و احباب و اقارب اس سے بے شک دور ہوتے رہیں ۔ یہ قریب رہتا ہے ۔

(2) *هَيِّنٍ*، سكون و وَقار اور نرمی کے ساتھ لوگوں کے ساتھ برتاؤ رکھنے والا ۔

(3) *سَهْلٍ*: معاملات اور اخلاق میں سہولت والا ، لوگوں میں آسانیاں بانٹنے والا ۔

🌻 فقیر خالد محمود اس معاشرے کا کمزور ترین فرد ہے اور بخوبی آگاہ کہ یہ تینوں عادات اپنانا اتنا آسان نہیں خصوصا اس عہد عجیب و پرآشوب میں

لیکن آپ کو یقین دلاتا ہے کہ ناممکن بھی نہیں ۔ مرد تو ہوتا ہی وہی ہے جو مشکلات سے کھیلے ۔

بدی را بدی سھل باشد جزا

اگر مردی احسن إلى من أساء.

حضرت شیخ سعدی عليه الرحمة کا شعر جو اپنے والد مرحوم و مغفور سے بچپنے میں بھی اکثر سنا ۔

مفتی خالد محمود

اُولٰٓئِكَ الَّذِيۡنَ يَعۡلَمُ اللّٰهُ مَا فِىۡ قُلُوۡبِهِمۡ فَاَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ وَعِظۡهُمۡ وَقُلْ لَّهُمۡ فِىۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ قَوۡلًاۢ بَلِيۡغًا ۞- سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 63

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اُولٰٓئِكَ الَّذِيۡنَ يَعۡلَمُ اللّٰهُ مَا فِىۡ قُلُوۡبِهِمۡ فَاَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ وَعِظۡهُمۡ وَقُلْ لَّهُمۡ فِىۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ قَوۡلًاۢ بَلِيۡغًا ۞

ترجمہ:

یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے سو ان سے اور اعراض کیجئے اور ان کو نصیحت کیجئے اور ان سے بہت اثر آفریں بات کیجئے جو ان کے دلوں میں اتر جائے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور ان سے ان کے نفسوں میں اثر آفریں بات کیجئے۔ (النساء : ٦٣) 

اس آیت کی دو تفسیریں ہیں ایک یہ کہ ان کو تنہائی میں نصیحت کیجئے کیونکہ تنہائی میں نصیحت کے قبول کر نیکی توقع زیادہ ہوتی ہے دوسری تفسیر یہ ہے کہ ان سے ایسی اثر آفریں بات کیجئے جو ان کے دلوں میں اتر جائے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 63

فَكَيۡفَ اِذَاۤ اَصَابَتۡهُمۡ مُّصِيۡبَةٌ ۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ثُمَّ جَآءُوۡكَ يَحۡلِفُوۡنَ‌ۖ بِاللّٰهِ اِنۡ اَرَدۡنَاۤ اِلَّاۤ اِحۡسَانًـا وَّتَوۡفِيۡقًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 62

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَكَيۡفَ اِذَاۤ اَصَابَتۡهُمۡ مُّصِيۡبَةٌ ۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ثُمَّ جَآءُوۡكَ يَحۡلِفُوۡنَ‌ۖ بِاللّٰهِ اِنۡ اَرَدۡنَاۤ اِلَّاۤ اِحۡسَانًـا وَّتَوۡفِيۡقًا ۞

ترجمہ:

اس وقت کیا حال ہوگا جب ان کے ہاتھوں کے کرتوتوں کی وجہ سے ان پر کوئی مصیبت ٹوٹ پڑے تو پھر یہ آپ کے پاس اللہ کی قسمیں کھاتے ہوئے آئیں کہ ہمارا تو ماسوا نیکی اور باہمی موافقت کے اور کوئی ارادہ نہ تھا

القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 62