Brexit

Brexit

برطانیہ عظمیٰ یعنی Great Britainکسی وقت سپر پاور تھا اور کہا جاتا تھا: ”اس کی حدودِسلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا‘ ایک خطے میں سورج غروب ہورہا ہوتا تو دوسرے میں طلوع ہورہا ہوتا ‘‘۔ امریکہ‘ کینیڈا‘ آسٹریلیا‘ نیوزی لینڈ ‘ برصغیر پاک وہند‘ ہانگ کانگ اور افریقا کے کئی ممالک اس کے زیر نگیں تھے‘ پھر اس کے عالمی اقتدار کا سورج بتدریج غروب ہوتا چلا گیااور جنگ عظیم دوم کے بعد اس سمٹائو کی رفتار تیز تر ہوگئی ۔آج کا برطانیہ چار اکائیوں پر مشتمل ہے : انگلینڈ‘ ویلز‘سکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ۔سکاٹ لینڈ اور شمالی آئر لینڈ میں بھی یو کے سے علیحدگی کی تحریک موجود ہے‘ مستقبل میں ‘اگر یہ تحریکیں کامیاب ہوئیں تو برطانیہ انگلینڈ اور ویلزتک محدود ہوکر رہ جائے گا۔

یورپین یونین نومبر1993ء میں قائم ہوئی‘ یونین کے قیام کے بعداس کے رکن اٹھائیس ممالک الگ الگ خود مختار ریاستیں رہنے کے باوجود ایک مشترکہ منڈی میں شامل ہوگئے ہیں۔اس میں چار چیزوں کی آزادانہ نقل وحرکت کی ضمانت دی گئی ہے ‘یعنی؛ سامانِ تجارت‘ سرمایہ‘ خدمات اور لیبر‘ ان اٹھائیس ممالک کے درمیان کسٹم اور امیگریشن کی چیک پوسٹیں نہیں ہیں ۔ برطانیہ یورپین یونین کے قیام کے باوجود کافی عرصہ الگ تھلگ رہا‘ مگر آخر کار 1998ء میں یونین میں شامل ہوگیا‘ تاہم اس نے اپنی کرنسی پائونڈ سٹرلنگ برقرار رکھی۔

اس کے نتیجے میں برطانیہ میں یورپی یونین کے لوگوں کی آزادانہ آمد شروع ہوئی‘ پولینڈ ودیگر ممالک سے سستی لیبر کی درآمد ہونے لگی‘ سوشل ویلفیئر کے شعبے پر بھی دبائو پڑا۔ انگریزوں کے اندر اپنے ماضی کے اعتبار سے برتری اور تفاخر کا ایک احساس تھا ‘ انہیں خدشہ لاحق ہوا کہ یورپ کی وسیع تر وحدت میں کہیں ان کی انفرادیت اور امتیاز گم نہ ہوجائے‘ سو بوجوہ یونین سے علیحدگی کی تحریک چلی اور آخر کار23جون 2016ء کو اس مسئلے پر ریفرنڈم ہوا‘ جذباتی فضا میں عواقب پر نظر رکھے بغیر محض دو فیصد کی اکثریت سے علیحدگی کا فیصلہ ہوا ۔ یورپین یونین سے علیحدگی کا عمل بھی کافی پیچیدہ ہے اور اسی لیے اس عمل کے مکمل ہونے کے لیے کافی وقت رکھا گیا ہے۔ اُس وقت کے مقبول وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون علیحدگی کے حق میں نہیں تھے‘ ریفرنڈم کا فیصلہ ان کی مرضی کے خلاف آیا تو انہوں نے وزارتِ عظمیٰ سے استعفا دے دیا‘ تاکہ یورپین یونین سے علیحدگی کی مہم ایک نئی قیادت انجام دے۔

ٹرِسامَے نئی وزیر اعظم منتخب ہوئیں اور ان کی قیادت میں بریگزٹ کا عمل شروع ہوا۔ بریگزٹ Britishکے مخفَّفBR اور Exitکا مرکب ہے ‘اس کے معنی ہیں: ”یورپین یونین سے برطانیہ کا خروج‘‘۔ عربی کا محاورہ ہے :”قَدِّمِ الْخُرُوجَ قَبْلَ الْوُلُوْج‘‘یعنی داخل ہونے سے پہلے نکلنے کی بابت سوچو کہ اگر کہیں اس کی نوبت آگئی تو تدبیر کیا ہوگی‘ اس کو ہم یوں بھی تعبیر کر سکتے ہیں:”کسی کام کے آغاز سے پہلے انجام کی سوچو‘‘۔انگریزوں کی بابت ہمارے ہاں مشہور ہے کہ سو سال بعد کی سوچتے ہیں‘ شاید یورپین یونین میں شمولیت کے وقت وہ یہ نہ کرسکے۔ 

ٹرِسامَے کو آج یہی مشکل درپیش ہے ‘انہوں نے طویل اور صبر آزما مذاکرات کے بعد یورپین یونین کے ساتھ یونین سے علیحدگی کا جو معاہدہ ”بریگزٹ ڈیل‘‘ کے عنوان سے طے کیا‘ برطانوی پارلیمنٹ نے اس کی منظوری دینے سے انکار کردیا‘ پھر اس میں چند ترمیمات پیش ہوئیں‘ مگر پارلیمنٹ نے انہیں بھی رد کردیا‘ آخر میں صرف ایک ترمیم کی منظوری ہوئی: ”No Brexit with out deal‘‘ یعنی ڈیل کے بغیر بریگزٹ نہیں ہوگی‘ جبکہ بظاہر تا حال No Dealکے آثار زیادہ ہیں۔ ٹرِسامَے ہاتھ پائوں مار رہی ہیں ‘ان کی حالت قابلِ رحم ہے ‘ لیکن یورپین یونین ڈیل پرنظرثانی کے لیے تیار نہیں ہے ۔ انگریزوں نے سوچا نہیں ہوگا کہ ایسی بند گلی میں بھی پھنس سکتے ہیں۔

در اصل دو ایسے تضادات ہیں‘ جن میں بیک وقت تطبیق آسان نہیں ہے۔ ایک تو یہ کہ یورپین یونین سے نکلنے کے بعد برطانیہ اور یونین کے دیگر ممالک کے درمیان کسٹم ڈیوٹی اور امیگریشن چیک پوسٹ کے روایتی اصول لاگو ہوں گے‘افراداور سامان کی بلا روک ٹوک اور آزادانہ نقل وحمل کی سہولت ختم ہوجائے گی‘ الغرض برطانیہ یونین کے دوسرے ممالک کے لیے اجنبی ہوجائے گا۔ دوسرا یہ کہ برطانیہ اورجمہوریہ آئر لینڈ کے درمیان 2003میں ”Good Friday Agreement‘‘کے نام سے یہ معاہدہ طے پاچکا ہے کہ جمہوریہ آئر لینڈ اورشمالی آئر لینڈکے درمیان ہارڈ کسٹم اور امیگریشن چیک پوسٹ نہیں ہوگی اور لوگوں کی دونوں طرف آمد ورفت اور سامان کی نقل وحمل آزادانہ رہے گی ۔ آئر ش قوم کے یہ دونوں حصے خشکی پر ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں‘ جبکہ برطانیہ اور شمالی آئرلینڈ کے درمیان سمندر ہے ۔ آئر لینڈ کے دونوں حصوں کی صورت ایسی ہی ہے‘ جیسے ہمارے قبائلی علاقہ جات میں افغانستان کے لوگوں کی آمد ورفت کسٹم اور امیگریشن کے بغیر جاری رہتی ہے ‘ کیونکہ دونوں طرف ایک ہی قبائل کے لوگ رہتے ہیں۔واضح رہے کہ جمہوریہ آئر لینڈ آزاد ملک ہے اور بدستوریورپین یونین کا رکن ہے اور شمالی آئر لینڈ برطانیہ کے زیر اقتدار ہے۔

شمالی آئر لینڈ برطانیہ کا حصہ ہے ‘لہٰذا اب بریگزٹ کے بعد یونین قوانین کا تقاضا ہے کہ جمہوریہ آئر لینڈ اور شمالی آئرلینڈ کے درمیان باقاعدہ ہارڈکسٹم اور امیگریشن چیک پوسٹیں ہوں ‘ سامان کی آزادانہ نقل وحمل اور دونوں طرف کے لوگوں کی آزادانہ آمد ورفت موقوف ہوجائے‘ جب کہ شمالی آئر لینڈ کے لوگ اس پر کبھی آمادہ نہیں ہوں گے‘ ماضی میں فسادات ہوتے رہے ہیںاوراگرآئر لینڈ کے دونوں حصوں کے درمیان سامان اور لوگوں کی آزادانہ نقل وحمل اور آمد ورفت جاری رہتی ہے تو یورپین یونین کا مطالبہ ہے کہ برطانیہ اور یونین کے درمیان ہارڈ کسٹم اور امیگریشن چیک پوسٹ کے لیے کوئی بیک اپ لائن ہونی چاہیے‘ جبکہ ٹرسامَے کہتی ہیں کہ ہم سمندر میں لائن کیسے کھینچ سکتے ہیں‘ کیونکہ ایک ہی ملک ہے۔ 

سو‘ اس مسئلے کا حل آسان نہیں ہے اور ٹرِسامے مشکل میں ہے۔ پس آج ماضی کی سپر پاور کا المیہ یہ ہے کہ بریگزٹ اُس کے گلے کا چھچھوندر بنا ہوا ہے‘ نہ نگلا جارہا ہے اور نہ اگلا جارہا ہے۔ ان مذاکرات کے بارے میں گارڈین اخبار نے لکھا: ”یہ مذاکرات بے خبر لوگوں کے لیے کسی تیاری کے بغیر نامعلوم ایجنڈے کے تحت نامعلوم نتائج حاصل کرنے کے لیے کیے جارہے ہیں ‘‘۔ 

ہمارا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا جہل کو فروغ دینے کے لیے شہباز شریف‘ عبدالعلیم خاں ‘شیخ رشید اور فواد چودھری ایسے اہم موضوعات میں اتنا مصروف ہے کہ نئی نسل کوعالمی مسائل کے بارے میں آگہی دینے کے لیے ان کے پاس وقت ہی نہیں ہے اور شاید ہمارے کالج اور یونیورسٹی سطح کے نوجوان طلبہ بھی عالمی امور کی ان نزاکتوں سے آگاہ نہیں ہوں گے ۔

فطرت سے بغاوت: کیتھولک مسیحیت میں ان کے مذہبی پیشوامرد وزن تجردکی زندگی گزارتے ہیں‘ شادی نہیں کرتے‘ وہ اس سے استدلال کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے شادی نہیں کی تھی‘ یہ لوگ رُہبان (راہب کی جمع) اور راہبات (راہبہ کی جمع)کہلاتے ہیں اورانگریزی میں انہیں Monksاور Nunsکہتے ہیں‘ یہ فطرت کے خلاف ہے ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی کریمﷺ کے امتی کی حیثیت سے قیامت سے پہلے زمین پر اتریں گے اور علامہ ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے :”شادی بھی کریں گے‘‘۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے: ”یہ تمہارے لیے کیسامقامِ افتخار ہوگا کہ مسیح ابن مریم علیہ السلام تمہارے درمیان اتریں گے اور تمہارا امام تم ہی میں سے ہوگا‘‘ (مسند احمد: 7680)۔بالفرض شادی کی روایت سے کسی کو اختلاف بھی ہو تو وہ نبی ہیں اور نبی معصوم ہوتے ہیں۔ حضرت زکریا نے جب حضرت مریم کے حجرۂ عبادت میں اُن کے پاس بے موسم کا تازہ پھل دیکھا ‘ تو اُن کے دل میں امنگ پیدا ہوئی کہ جوقادرِ مطلق بے موسم کا تازہ پھل عطافرماسکتا ہے ‘ وہ بڑھاپے میں اولاد بھی عطا فرماسکتاہے۔سو‘ انہوں نے اولاد کے لیے دعا کی اور اس کی قبولیت کی بابت قرآنِ کریم میں ہے: ” بے شک اللہ تمہیں یحییٰ کی بشارت دیتا ہے‘ جو کلمۃ اللہ (حضرت عیسیٰ ) کی تصدیق کرنے والے ہوں گے ‘سردار ہوں گے ‘ عورتوں سے رغبت نہ رکھنے والے اور نیک لوگوں میں سے نبی ہوں گے ‘‘ (آل عمران:39)۔پس غیر ِنبی کو چاہیے کہ اپنے آپ کو انبیائے کرام علیہم السلام کی خصوصیات پرقیاس نہ کرے۔سیدنا محمد ﷺ کی بھی بہت سی خصوصیات وامتیازات ہیں‘ جو امت کے لیے واجب الاتباع نہیں ہیں‘ جیسے: ایک وقت میں چار سے زیادہ ازواجِ مطہرات کا نکاح میں ہونا‘ افطار کیے بغیر پے در پے روزے رکھنااور تہجد کی نماز کااضافی ہوناشامل ہے۔ اس لیے سنت صرف آپ ﷺ کے اُن اقوال‘ افعال اور احوالِ مبارکہ کو کہتے ہیں ‘جو امت کی اتباع کے لیے ہیں۔

عیسائی مذہبی پیشوائوں کا تجرُّد کا شعار فطرت کے خلاف ہے اور ان کے منفی نتائج کا برآمد ہونا ناگزیر ہے ؛ چنانچہ اب کیتھولک عبادت گاہوں میں بچوں اور خود ان کی راہبات (Nuns)کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات منظرعام پر آرہے ہیں۔ پہلے تو کیتھولک چرچ ان جرائم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتا تھا‘ لیکن کچھ عرصے سے مغربی پریس نے ان واقعات کو بہت زیادہ اچھالنا شروع کردیاہے‘لہٰذا اب کیتھولک مسیحیت کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے متحدہ عرب امارات کے دورے کے موقع پراعتراف کیا ہے کہ راہبات کو جنسی غلام بنا لیا جاتا ہے ۔اب وقت آگیا ہے کہ مسیحی چرچ اس پر غور کرے اور اپنے راہبوں(Monks) اور راہبات (Nuns) کو شادیوں کی اجازت دے‘ تاکہ چرچ میں بچوں اور عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا سدِّباب ہوسکے۔ قانون فطرت سے انحراف منفی نتائج کو جنم دیتا ہے‘ آپ پانی کے فطری بہائو کو روکیں گے تو وہ کسی اور جانب سے اپنا راستہ بنالے گا۔

الحمد للہ علیٰ احسانہٖ! میرے فتاویٰ کا مجموعہ ”تفہیم المسائل ‘‘ کے عنوان سے دس مجلّدات پر مشتمل شائع ہوچکا ہے‘ گیارہویں جلد زیر ترتیب ہے اور روزنامہ دنیا میں مطبوعہ کالموں کا مجموعہ ”آئینہ ایام‘‘ کے نام سے پانچ مجلدات پر مشتمل شائع ہوچکا ہے اور ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور/کراچی سے دستیاب ہے ‘ تفہیم المسائل کا مجموعہ خواجہ بک ڈپو جامع مسجد دہلی کے زیر اہتمام انڈیاسے بھی شائع ہوچکا ہے ۔الحمد للہ! ہمارے کالموں اور تحریروںکے قارئین دیگر ممالک کے علاوہ بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں بھی کافی تعداد میں ہیں ‘ ان کے ساتھ برطانیہ کے دوست علماء کے توسط سے ہمارابالواسطہ رابطہ ہے۔

از مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان قبلہ بشکریہ روزنامہ دنیا پاکستان

ٹوٹی ہو ئی صراحی

حکایت نمبر152: ٹوٹی ہو ئی صراحی

حضرت سیدنا جنید بغدادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی فرماتے ہیں :” ایک مرتبہ میں حضرت سیدنا سری سقطی علیہ رحمۃ اللہ القوی کی بارگاہ میں حاضر ہوا ۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے گھر میں تشریف فرما تھے، آنکھوں سے آنسوؤں کی بر سات ہورہی تھی، بڑے درد مندانہ اَنداز میں رو رہے تھے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے سامنے ایک صراحی ٹوٹی ہوئی تھی۔ میں نے جاکر سلام عرض کیا اور بیٹھ گیا ۔ مجھے دیکھ کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے رونا بند کردیا۔ میں نے عرض کی:” حضور! آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو کس چیز نے رُلایا ہے؟ آخر آپ کو ایسا کون ساغم لاحق ہوگیا ہے جس کی وجہ سے آپ اتنی گریہ و زاری کر رہے ہیں؟”

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے جواباً ارشاد فرمایا:” آج میں روزے سے تھا ، میری بیٹی یہ صراحی لے کر آئی، اس میں پانی بھرا ہوا تھا ۔اس نے مجھ سے کہا: اے میرے والد گرامی! آج گرمی بہت زیادہ ہے، مَیں یہ صراحی لے کر آئی ہوں تا کہ اس میں پانی ٹھنڈا ہو جائے اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ٹھنڈے پانی سے روزہ افطار کریں۔” یہ کہنے کے بعد میری بیٹی نے وہ صراحی ٹھنڈی جگہ رکھ دی ، ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ میری آنکھ لگ گئی۔ میں نے خواب میں ایک حسین وجمیل عورت دیکھی، اس نے چاندی کی قمیص پہنی ہوئی تھی ، اس کے پاؤں میں ایسی خوبصورت جوتیاں تھیں کہ میں نے آج تک ایسی جوتیاں کہیں نہیں دیکھیں اور نہ ہی ایسے خوبصورت پاؤں کبھی دیکھے۔ وہ میرے پاس اسی دروازے سے اس کمرے میں آئی۔میں نے اس سے کہا :”تُو کس کے لئے ہے ؟” اُس نے جواب دیا : ”مَیں اس کے لئے ہوں جو ٹھنڈے پانی کی خواہش نہ کرے اور صراحی کا ٹھنڈاپانی نہ پئے۔”اِتنا کہنے کے بعد اس نے صراحی کو اپنی ہتھیلیو ں سے گھمانا شروع کیا ۔ میں نے وہ صراحی اس سے لی اور زمین پر دے ماری پھر میری آنکھ کھل گئی ۔ یہ جو تم سامنے ٹو ٹی ہوئی صراحی دیکھ رہے ہو یہ وہی صراحی ہے ۔”حضرت سیدنا جنید بغدادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی فرماتے ہیں :”اس کے بعد حضرت سیدنا سری سقطی علیہ رحمۃاللہ القوی نے کبھی بھی ٹھنڈا پانی نہ پیا۔ مَیں جب بھی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے گھر جاتا تو دیکھتا کہ وہ صراحی اسی طر ح ٹوٹی ہوئی پڑی ہے اور اس پر گرد وغبار کی تہہ جم چکی ہے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس خواب کے بعد صراحی کو ہاتھ تک نہ لگایا۔”(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علی وسلم)

کوئی شخص سوراخ میں ہرگز پیشاب نہ کرے

حدیث نمبر :338

روایت ہے عبداﷲ ابن سرجس سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کوئی شخص سوراخ میں ہرگز پیشاب نہ کرے ۲؎ (ابوداؤد،نسائی)

شرح

۱؎ آپ قبیلہ مزینہ یا قبیلہ بنی مخزوم سے ہیں،بصرہ کے رہنے والے ہیں،آپ کے والد کا نام یا سرجس ہے یا نرجس۔

۲؎ حجر سے مراد یا زمین کا سوراخ یا دیوار کی پھٹن،چونکہ اکثر سوراخوں میں زہریلے جانور،چیونٹیاں وغیرہ کمزور جانور یا جنات رہتے ہیں،چیونٹیاں پیشاب یاپانی سے تکلیف پائیں گی،یا سانپ وجن نکل کر ہمیں تکلیف دیں گے،اس لیے وہاں پیشاب کرنا منع فرمایا گیا۔چنانچہ سعدابن عبادہ انصاری کی وفات اسی سے ہوئی کہ آپ نے ایک سوراخ میں پیشاب کیا جن نے نکل کر آپ کو ہلاک کردیا۔لوگوں نے اس سوراخ سے یہ آوا زسنی "نَحْنُ قَتَلْنَا سَیِّدَ الْخَزْرَ جِ سَعْدَ بْنِ عُبَادَۃَ وَرَمَیْنَاہٗ بِسَھْمٍ فَلَمْ نُخْطِ مَوَادَ”۔(مرقاۃ واشعۃ اللمعات)

کوئی غسل خانہ میں ہرگز پیشاب نہ کرے

حدیث نمبر :337

روایت ہے عبداﷲ ابن مغفل سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کوئی غسل خانہ میں ہرگز پیشاب نہ کرے پھر اس میں غسل یا وضو کرے گا۲؎کیونکہ عام وسوسے اسی سے ہوتے ہیں۳؎ اسے ابوداؤد،ترمذی اورنسائی نے روایت کیا مگر ان دونوں نے "ثم یغتسل” کا ذکر نہ کیا۔

شرح

۱؎ آپ صحابی ہیں،قبیلہ مزینہ سے ہیں،بیعت الرضوان میں شریک ہوئے،مدینہ منورہ قیام رہا،شہر تَسْتُر فتح ہونے پر اول آپ ہی وہاں داخل ہوئے،عہد فاروقی میں بصرہ میں لوگوں کو علم دین سکھانے کے لئے آپ کو بھیجا گیا،وہیں ۵۹ھ ؁میں وفات ہوئی۔

۲؎ مستحمہ کے معنی ہیں گرم پانی استعمال کرنے کی جگہ۔ حمیم گرم پانی،اسی سے حمام بنا۔اگرغسل خانہ کی زمین پختہ ہواوراس میں پانی خارج ہونے کی نالی بھی ہو تو وہاں پیشاب کرنے میں حرج نہیں،اگرچہ بہتر ہے کہ نہ کرے۔لیکن اگر زمین کچی ہو اور پانی نکلنے کا راستہ بھی نہ ہو تو پیشاب کرنا سخت برا ہے کہ زمین نجس ہوجائے گی،اورغسل یاوضو میں گندا پانی جسم پر پڑے گا۔یہاں دوسری صورت ہی مراد ہے اسی لیے تاکیدی ممانعت فرمائی گئی۔

۳؎ یعنی ا س سے وسوسوں اور وہم کی بیماری پیدا ہوتی ہے،جیسا کہ تجربہ ہے یا گندگی چھینٹیں پڑنے کا وسوسہ رہے گا۔پہلے معنی زیادہ ظاہر ہیں۔

درد امتی کو، تکلیف جنتی حور کو!

درد امتی کو، تکلیف جنتی حور کو!

حضرت سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب کوئی عورت اپنے شوہر کو تنگ کرتی ہے تو (جنتی) حوریں جو کہ جنت میں اس (شوہر) کی زوجہ ہوں گی، کہتی ہیں:

اے عورت! اسے تنگ نہ کر، تیرا ستیاناس یہ شوہر تو تیرے پاس مہمان ہے عنقریب یہ تجھے چھوڑ کر ہمارے پاس آ جائے گا-

(انظر: ابن ماجہ، باب فی المراۃ توذی زوجھا، ج1، ص560، ملخصاً)

اس حدیث کو بیان کرنے کا مقصد صرف یہ بتانا نہیں ہے کہ عورتوں کو اپنے شوہر کو تکلیف نہیں دینی چاہیے بلکہ اس روایت سے دو اہم مسئلے بھی معلوم ہوئے:

(1) اگر کسی بندے کو دور سے پکارنا شرک ہوتا تو جنتی حوریں دنیا کی عورتوں کو نہ پکارتیں اور جو کہتا ہے کہ نبی کو پکارنے سے مسجد گندی ہو جاتی ہے تو بہ قول اس کے غیر نبی کو پکارنے کی وجہ سے جنت بھی گندی ہو جانی چاہیے!

(2) جب کوئی عورت دنیا میں اپنے شوہر کو تنگ کرتی ہے تو جنت کی حور سن لیتی ہے؛ جب جنت کی ایک مخلوق کی سماعت کا یہ عالم ہے تو مالک جنت، صاحب شریعت ﷺ کی سماعت کا کیا عالم ہوگا-

ممکن ہے کہ کسی کے پیٹ میں اس حدیث کی سند کو لے کر درد اٹھے لہذا دوا کے طور پر ہم بتانا چاہتے ہیں کہ ناصر الدین البانی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے-

(صحیح سنن ابن ماجہ، جلد1، صفحہ نمبر341)

عبد مصطفی

درس 031: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)

*درس 031: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وَيَسْتَنْجِي بِيَسَارِهِ لِمَا رُوِيَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْكُلُ بِيَمِينِهِ، وَيَسْتَجْمِرُ بِيَسَارِهِ، وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْكُلُ بِيَمِينِهِ، وَيَسْتَنْجِي بِيَسَارِهِ، وَلِأَنَّ الْيَسَارَ لِلْأَقْذَارِ.

اوراستنجا بائیں ہاتھ سے کرنا چاہئے، اس لئے کہ روایت میں آیا ہے کہ نبی کریم ﷺ سیدھے ہاتھ سے کھانا تناول فرماتے اور بائیں ہاتھ سے استنجا فرمایا کرتے تھے۔ چناچہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی رحمت ﷺ دائیں ہاتھ سے کھانا تناول فرماتے تھے اور بائیں ہاتھ سے استنجا کیا کرتے تھے۔اور اسلئے بھی کہ بایاں ہاتھ گندگی کے لئے ہے۔

وَهَذَا إذَا كَانَتْ النَّجَاسَةُ الَّتِي عَلَى الْمَخْرَجِ قَدْرَ الدِّرْهَمِ، أَوْ أَقَلَّ مِنْهُ

استنجاکا حکم اس وقت تک ہے جب تک نجاست *مَخْرَج* پر *درہم* کے برابر یا اس سے کم ہو۔

فَإِنْ كَانَتْ أَكْثَرَ مِنْ قَدْرِ الدِّرْهَمِ لَمْ يُذْكَرْ فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ، وَاخْتَلَفَ الْمَشَايِخُ فِيهِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا يَزُولُ إلَّا بِالْغَسْلِ وَقَالَ بَعْضُهُمْ يَزُولُ بِالْأَحْجَارِ، وَبِهِ أَخَذَ الْفَقِيهُ أَبُو اللَّيْثِ وَهُوَ الصَّحِيحُ، لِأَنَّ الشَّرْعَ وَرَدَ بِالِاسْتِنْجَاءِ بِالْأَحْجَارِ مُطْلَقًا مِنْ غَيْرِ فَصْلٍ

اور اگر *مَخْرَج* پر درہم سے زائد نجاست لگی ہے تو *ظاہر الروایۃ* میں اس حوالے سے حکم مذکور نہیں ہے، لہذا علماء احناف میں اس سلسلے میں اختلاف واقع ہوا، بعض علماء فرماتے ہیں: مخرج پر لگی نجاست درہم سے زائد ہو تو پانی سے دھونا ضروری ہے، اور بعض علماء فرماتے ہیں: ڈھیلوں کے ذریعے بھی نجاست دور کی جاسکتی ہے، اور اسی دوسرے قول کو فقیہ ابو اللیث سمرقندی نے اختیار کیا ہےاور یہی قول صحیح ہے، اس لئے کہ شریعتِ مطہرہ میں ڈھیلوں سے استنجا کا حکم بغیر کسی امتیاز کے مطلق (Without Condition) بیان ہوا ہے۔

وَهَذَا كُلُّهُ إذَا لَمْ يَتَعَدَّ النَّجَسُ الْمَخْرَجَ

یہ تمام احکام اس وقت ہیں جب نجاست *مَخْرَج* کے اردگرد نہ پھیلے۔

فَإِنْ تَعَدَّاهُ يُنْظَرُ إنْ كَانَ الْمُتَعَدِّي أَكْثَرَ مِنْ قَدْرِ الدِّرْهَمِ يَجِبُ غَسْلُهُ بِالْإِجْمَاعِ

اگر نجاست مَخْرَجَ کے ارد گرد پھیل جائے، تو دیکھا جائے گا، اگر وہ درہم کی مقدار سے زیادہ ہے تو بالاجماع (یعنی تمام علماء کا متفق ہونا) اس جگہ کا پانی سے دھونا واجب ہے۔

وَإِنْ كَانَ أَقَلَّ مِنْ قَدْرِ الدِّرْهَمِ لَا يَجِبُ غَسْلُهُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ، وَأَبِي يُوسُفَ وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ يَجِبُ.

اگر نجاست درہم کی مقدار سے کم ہے تو امام ابو حنیفہ کے نزدیک اس کا دھونا واجب نہیں ہے اور امام ابو یوسف اور امام محمد کے نزدیک اس کا دھونا واجب ہے۔

وَذَكَرَ الْقُدُورِيُّ فِي شَرْحِهِ مُخْتَصَرَ الْكَرْخِيِّ أَنَّ النَّجَاسَةَ إذَا تَجَاوَزَتْ مَخْرَجَهَا وَجَبَ غَسْلُهَا، وَلَمْ يَذْكُرْ خِلَافَ أَصْحَابِنَا

امام قدوری نے مختصر الکرخی کی شرح کرتے ہوئےذکر کیا ہے کہ نجاست اگر مخرج سے تجاوز کرجائے تو اس کا دھونا واجب ہے ، انہوں نے ہمارے ائمہ کے مذکورہ اختلاف کا ذکر نہیں کیا۔

لِمُحَمَّدٍ أَنَّ الْكَثِيرَ مِنْ النَّجَاسَةِ لَيْسَ بِعَفْوٍ، وَهَذَا كَثِيرٌ

امام محمد کی دلیل یہ ہے کہ *کثیر نجاست* معاف نہیں ہوتی، اور مخرج کے ارد گرد پھیلنے والی نجاست (مخرج کو ملاکر) کثیر شمار ہوگی۔

وَلَهُمَا أَنَّ الْقَدْرَ الَّذِي عَلَى الْمَخْرَجِ قَلِيلٌ، وَإِنَّمَا يَصِيرُ كَثِيرًا بِضَمِّ الْمُتَعَدِّي إلَيْهِ

اور شیخین یعنی امام اعظم اور امام ابو یوسف کی دلیل یہ ہے کہ *مخرج* پر لگنے والی نجاست قلیل ہوتی ہے، اور یہ کثیر اس وقت شمار ہوگی جب اسے ارد گرد پھیلنے والی نجاست سے ملاکر شمار کیا جائے۔

وَهُمَا نَجَاسَتَانِ مُخْتَلِفَتَانِ فِي الْحُكْمِ، فَلَا يَجْتَمِعَانِ

اور *مخرج پر لگنے والی نجاست* اور *ارد گرد پھیلنے والی نجاست* حکم کے سلسلے میں مختلف ہیں، تو انہیں جمع نہیں کیا جائے گا۔

أَلَا يُرَى أَنَّ إحْدَاهُمَا تَزُولُ بِالْأَحْجَارِ، وَالْأُخْرَى لَا تَزُولُ إلَّا بِالْمَاءِ، وَإِذَا اخْتَلَفَتَا فِي الْحُكْمِ يُعْطَى لِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا حُكْمُ نَفْسِهَا، وَهِيَ فِي نَفْسِهَا قَلِيلَةٌ فَكَانَتْ عَفْوًا.

کیا دیکھا نہیں کہ ایک نجاست تو ڈھیلوں کے استعمال سے زائل ہوجاتی ہے جبکہ دوسری نجاست سوائے پانی کے کسی سے زائل نہیں ہوتی، اور جب یہ دونوں حکم میں مختلف ہیں تو دونوں کے موجود ہونے کے وقت ان کے لئے الگ الگ حکم نافذ ہوگا۔ اور ارد گرد پھیلنے والی نجاست چونکہ قلیل ہے اسلئے قابلِ عفو ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

*استنجا بائیں ہاتھ سے کیا جائے*

استنجا بائیں ہاتھ سے کرنا سنت ہے، دائیں ہاتھ سے کرنا ممنوع اور گناہ ہے ۔(فتاوی رضویہ04) اسی طرح دائیں ہاتھ سے شرمگاہ کو پکڑنا بھی مکروہ ہے۔

متعدد کتبِ حدیث میں بکثرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے دائیں ہاتھ سے شرمگاہ کو چھونے اور دائیں ہاتھ سے استنجا کرنے سے ممانعت آئی ہے۔ علامہ کاسانی نے جو حدیث شریف ذکر کی ہے وہ ابوداؤد اور مسند امام احمد وغیرہ میں مروی ہے۔

علامہ کاسانی نے بائیں ہاتھ سے استنجا کی ممانعت پر دو دلیلیں دی ہیں:

ایک تویہی کہ حدیث شریف میں ممانعت ہے۔

دوسری یہ کہ بایاں ہاتھ کا استعمال عموما گندگی کے لئے ہوتا ہے۔ "أَنَّ الْيَسَارَ لِلْأَقْذَارِ”

یہ بات مزاجِ شریعت سے معلوم ہوئی کہ گندگی، برائی یا کم بھلائی کے کاموں کو بائیں جانب شمار کیا جاتا ہے، اسی لئے بائیں ہاتھ سے کھانا مکروہ ہے، ناک پونچھنے کے لئے بایاں ہاتھ استعمال کیا جائے، ناپسندیدہ خواب دیکھے تو بائیں جانب تھتکارنے اور شیطان سے اللہ کی پناہ مانگنے کا حکم ہے، قرآن مجید نے جہنمیوں کو اصحاب الشمال یعنی بائیں طرف کے لوگ فرمایا۔۔ وغیرہ وغیرہ

یاد رکھیں یہ ضروری نہیں کہ آپ کو ہر جگہ ہر کام کا واضح حکم ملے، کچھ چیزیں مزاجِ شریعت سے سمجھی جاتی ہیں جس طرح گندگی کے کاموں کے لئے بائیں ہاتھ کا استعمال رکھا ہے اسی طرح اچھے اور پاکیزہ کاموں کے لئے دائیں ہاتھ کا استعمال مطلوب اور محبوب ہوتا ہے۔ اور ان تمام چیزوں کے روحانی اثرات آپ کی زندگی پر مرتب ہوتے ہیں۔

*استنجا۔۔اور۔۔ نجاست کی جگہ کے احکام*

یہ بحث ذرا سمجھئے گا۔۔

انسان کے اگلے یا پچھلے مقام سے نجاست خارج ہوتی ہے۔ جس جگہ سے نجاست خارج ہوتی ہے اسے *مَخْرَج* کہتے ہیں۔ لہذا مخرَج دو (2) ہیں:

1- مخرَج البول: پیشاب خارج ہونے کی جگہ۔

2- مخرج الغائط: پاخانہ خارج ہونے کی جگہ، اسے حَلْقَةُ الدُّبُر بھی کہتے ہیں۔

*مخرج البول:* پیشاب خارج ہونے کی جگہ مرد کی تنگ اور عورت کی کشادہ ہوتی ہےاسلئے عورت کے مسئلہ میں پیشاب کا درہم سے زیادہ جگہ تک پھیل جانا ممکن ہے، لہذا اگر مخرج کے علاوہ پیشاب اتنا پھیل جائے کہ درہم سے زیادہ جگہ گھیر لے تو اس جگہ کا پانی سے دھونا فرض ہے۔

*مخرج الغائط:* پاخانہ خارج ہونے کی جگہ پر نجاست کم لگی ہو یا زیادہ لگی ہو تو ڈھیلے سے استنجا کافی ہے لیکن مخرج کے علاوہ ارد گرد جگہ پر بھی نجاست پھیل گئی تو دو صورتیں ہیں:

پہلی صورت: اگر مخرج کے اردگرد نجاست درہم سے کم پھیلی ہے تو پانی سے دھونا فرض نہیں ہے کیونکہ *مخرج* کا الگ حکم ہے اور *حولِ مخرج* یعنی ارد گرد پھیلنے والی نجاست الگ حکم رکھتی ہے۔ لہذا قلیل ہونے کی وجہ سے دونوں کا دھونا فرض نہیں ہے، ڈھیلوں سے استنجا کافی ہے۔

دوسری صورت: اگر اردگرد نجاست درہم سے زیادہ پھیلی ہے تو بالاتفاق دھونا فرض ہے، ڈھیلوں سے استنجا کافی نہیں ہے۔

علامہ کاسانی نے جو اختلاف ذکر کیا ہے اس میں مفتی بہ قول شیخین کا ہے، یعنی امام اعظم اور امام ابویوسف کے قول پر عمل کیا جاتا ہے۔ دیگر کتبِ فقہ سمیت فتاوی رضویہ اور بہارِ شریعت میں اسی قول پر فتوی دیا گیا ہے۔

*ابو محمد عارفین القادری*

وَّلَهَدَيۡنٰهُمۡ صِرَاطًا مُّسۡتَقِيۡمًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساءآیت نمبر 68

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَّلَهَدَيۡنٰهُمۡ صِرَاطًا مُّسۡتَقِيۡمًا ۞

ترجمہ:

اور ہم ضرور ان کو سیدھے راستہ پر چلاتے

القرآن – سورۃ نمبر 4 النساءآیت نمبر 68