وَلَوۡ اَنَّا كَتَبۡنَا عَلَيۡهِمۡ اَنِ اقۡتُلُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ اَوِ اخۡرُجُوۡا مِنۡ دِيَارِكُمۡ مَّا فَعَلُوۡهُ اِلَّا قَلِيۡلٌ مِّنۡهُمۡ‌ ؕ وَلَوۡ اَنَّهُمۡ فَعَلُوۡا مَا يُوۡعَظُوۡنَ بِهٖ لَـكَانَ خَيۡرًا لَّهُمۡ وَاَشَدَّ تَثۡبِيۡتًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 66

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَوۡ اَنَّا كَتَبۡنَا عَلَيۡهِمۡ اَنِ اقۡتُلُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ اَوِ اخۡرُجُوۡا مِنۡ دِيَارِكُمۡ مَّا فَعَلُوۡهُ اِلَّا قَلِيۡلٌ مِّنۡهُمۡ‌ ؕ وَلَوۡ اَنَّهُمۡ فَعَلُوۡا مَا يُوۡعَظُوۡنَ بِهٖ لَـكَانَ خَيۡرًا لَّهُمۡ وَاَشَدَّ تَثۡبِيۡتًا ۞

ترجمہ:

اور اگر ہم ان پر یہ فرض کردیتے کہ اپنے آپ کو قتل کرو یا اپنے گھروں سے نکل جاؤ تو اس پر ان میں سے صرف کم لوگ عمل کرتے اور جو ان کو نصیحت کی گئی ہے اگر یہ اس پر عمل کرتے تو ان کے لیے بہت بہتر ہوتا اور ثابت قدمی کے لیے بہت مضبوط ہوتا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور اگر ہم ان پر یہ فرض کردیتے کہ اپنے آپ کو قتل کرو یا اپنے گھروں سے نکل جاؤ تو اس پر ان میں سے صرف کم لوگ عمل کرتے اور جو ان کو نصیحت کی گئی ہے اگر یہ اس پر عمل کرتے تو ان کے لیے بہت بہتر ہوتا۔ (النساء : ٦٦) 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اگر ہم ان منافقین پر یہ فرض کردیتے کہ اپنے آپ کو قتل کرو یا اپنے وطن سے نکل جاؤ تو ان منافقوں میں سے بہت کم لوگ اس پر عمل کرتے لیکن جب اللہ تعالیٰ نے کرم فرمایا اور اپنی رحمت سے ہم پر آسان اور سہل احکام فرض کیے تو ان منافقوں کو چاہیے تھا کہ یہ نفاق کو ترک کردیتے ‘ دکھاوے اور سنانے کو چھوڑ کر اخلاص کے ساتھ اسلام کے احکام پر عمل پیرا ہوتے اور اگر یہ ایسا کرتے تو ان کے حق میں بہت بہتر ہوتا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 66