أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَنۡ يُّطِعِ اللّٰهَ وَالرَّسُوۡلَ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الَّذِيۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيۡقِيۡنَ وَالشُّهَدَآءِ وَالصّٰلِحِيۡنَ‌ ۚ وَحَسُنَ اُولٰٓئِكَ رَفِيۡقًا ۞

ترجمہ:

اور جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے جو انبیاء صدیقین ‘ شہداء ‘ اور صالحین ہیں ‘ اور یہ کیا ہی عمدہ ساتھی ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے جو انبیاء صدیقین ‘ شہداء ‘ اور صالحین ہیں ‘ اور یہ کیا ہی عمدہ ساتھی ہیں۔ یہ اللہ کی طرف سے فضل ہے اور اللہ کافی ہے جاننے والا۔ 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زیارت کے لیے صحابہ کا اضطراب : 

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ انصار میں سے ایک شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں غمزدہ حالت میں حاضر ہوا آپ نے پوچھا کیا ہوا میں تم کو غمزدہ کیوں دیکھ رہا ہوں ‘ اس نے کہا : اے اللہ کے نبی میں اس چیز پر غور کر رہا ہوں کہ ہم ہر صبح وشام آپ کے چہرے کی طرف دیکھتے رہتے ہیں اور آپ کی مجلس میں بیٹھنے کا شرف حاصل کرتے ہیں ‘ کل جب آپ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے ساتھ جنت کے بلند درجہ میں ہوں گے ‘ اور ہم آپ کے درجہ تک نہ پہنچ سکیں تو ہمارا کیا حال ہوگا ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابھی اس کا کوئی جواب نہیں دیا تھا کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) یہ آیت لے کر نازل ہوئے۔ اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا۔ الآیہ (جامع البیان ج ٥ ص ‘ ١٠٤ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ) 

اہل جنت کا ایک دوسرے کے ساتھ ہونا ان کے درجوں میں مساوات کو مستلزم نہیں : 

اس آیت کا یہ معنی نہیں ہے کہ اللہ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرنے والے اور انبیاء ‘ صدیقین ‘ شہداء اور صالحین سب جنت کے ایک درجہ میں ہوں گے ‘ کیونکہ اس کا تقاضا یہ ہے کہ فاضل اور مفضول کا ایک درجہ ہوجائے بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ جنت میں رہنے والے سب ایک دوسرے کی زیارت کرنے پر قادر ہوں گے اور ان کے درجات کا فاصلہ ایک دوسرے کی زیارت اور مشاہدہ کیلیے حجاب نہیں ہوگا۔ 

اس آیت میں انبیاء ‘ صدیقین ‘ شہداء اور صالحین کا ذکر کیا گیا ہے ہم سطور ذیل میں انکی تعریفات ذکر کر رہے ہیں۔ 

نبی ‘ صدیق ‘ شہید اور صالح کی تعریفات : 

(١) نبی وہ انسان ہے جس پر وحی نازل ہو اور جس کو اللہ نے مخلوق تک اپنے احکام پہنچانے کے لیے بھیجا ہو۔ 

(٢) صدیق وہ شخص ہے جو اپنے قول اور اعتقاد میں صادق ہو۔ جیسے حضرت ابوبکر صدیق (رض) اور دیگر فاضل صحابہ ‘ اور انبیاء سابقین (علیہم السلام) کے اصحاب کیونکہ وہ صدق اور تصدیق میں دوسروں پر فائق اور غالب ہوتے ہیں ‘ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو دین کے تمام احکام کی بغیر کسی شک اور شبہ کے تصدیق کرے وہ صدیق ہے۔ 

(٣) شہید وہ شخص ہے جو دلائل اور براہین کے ساتھ دین کی صداقت پر شہادت دے اور اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے لڑتا ہوا مارا جائے جو مسلمان ظلما قتل کیا جائے وہ بھی شہید ہے۔ 

(٤) صالح نیک مسلمان کو کہتے ہیں ‘ جس کی نیکیاں اس کی برائیوں سے زیادہ ہوں۔ 

اس آیت میں چونکہ صدیقین کا ذکر آیا ہے اس لیے ہم ابوبکر صدیق (رض) کے بعض فضائل ذکر رہے ہیں۔ 

حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی بعض خصوصیات اور فضائل : 

(١) امام بخاری حضرت ابوالدرداء (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہاری طرف مبعوث کیا ‘ تم لوگوں نے کہا آپ جھوٹے ہیں (العیاذ باللہ) اور ابوبکر (رض) نے تصدیق کی اور اپنی جان اور اپنے مال سے میری غم خواری کی۔ (صحیح بخاری ‘ رقم الحدیث : ٣٦٦١) 

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ابوبکر (رض) نبی کریم (رض) کی سب سے پہلے تصدیق کرنے والے تھے جب اور لوگ آپ کی تکذیب کر رہے تھے۔ 

(٢) حضرت ابوبکر (رض) نے امت میں سب سے پہلے تبلیغ اسلام کی اور ان کی تبلیغ سے حضرت عثمان ‘ حضرت طلحہ ‘ حضرت زبیر ‘ حضرت عبدالرحمن بن عوف ‘ حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت عثمان بن مظعون (رض) ایسے اکابر صحابہ اسلام لائے۔ 

(٣) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سفر ہجرت میں اپنی رفاقت کے لیے تمام صحابہ میں سے حضرت ابوبکر (رض) کو منتخب کیا۔

(٤) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر (رض) کو حج میں مسلمانوں کا امیر بنایا۔ 

(٥) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو مرتب حضرت ابوبکر (رض) کی اقتداء میں نماز پڑھی۔ 

(٦) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایام علالت میں حضرت ابوبکر (رض) کو امام بنایا اور حضرت ابوبکر (رض) نے سترہ نمازیں پڑھائیں۔ 

(٧) واقعہ معراج کی جب کافروں نے تکذیب کی تو حضرت ابوبکر (رض) نے آپ کی سب سے پہلے تصدیق کی اور یہیں سے آپ کا لقب صدیق ہوا۔ 

(٨) غزوہ تبوک میں گھر کا سارا سامان اور مال لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ 

(٩) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے متعدد احادیث میں آپ کو صدیق فرمایا۔ 

(١٠) قرآن مجید میں نبوت کے بعد جس مرتبہ کا ذکر ہے وہ صدیقیت ہے اور متعدد آیات میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے ذکر کی طرف اشارہ ہے حضرت ابوبکر کے صدیق ہونے پر امت کا اجماع ہے اور چونکہ نبی کے بعد صدیق کا ذکر اور مقام ہے سو معلوم ہوا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد حضرت ابوبکر صدیق (رض) خلیفہ ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 69