حکومت کا اچھا اقدام

ویل ڈن وزیر مذہبی امور

اخباری اطلاعات کے مطابق حکومت نے سیاسی جماعتوں اور کاسہ لیس نام نہاد رہنماوں کے ایم بی ایس کے لیے لگائے گئے خیر مقدمی بینرز اتار دیئے ہیں.یہ اچھا اقدام ہے.ایم بی ایس ریاست پاکستان کے مہمان ہیں کسی شخصیت یا جماعت کے نہیں ہیں.جو خیرات شخصیات یا جماعتوں کو برادر اسلامی ملک سے ملتی ہے وہ.اس کے بغیر بھی ملتی رہے گی.یہ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور کا قابل تعریف اقدام ہے.انکا کہنا بجا ہے کہ ایم بی ایس یہاں کسی مسلک کے مہمان نہیں ہیں بلکہ وہ ریاست پاکستان کے مہمان ہیں.

میں ذاتی طور یہ سمجھتا ہوں کہ ایم بی ایس کےدورے سے پورا پاکستان اور تمام مسالک کے لوگ خوش ہیں.کیونکہ سب کے سب وطن عزیز کو معاشی طور پر ترقی کرتا دیکھنا چاہتے ہیں.اگر امریکہ کو اب بھی پاکستان کی اہمیت کا احساس ہوگیا ہے تو یہ اچھی بات ہے.اس میں کوئی ذرا بھی شک نہیں کہ پاکستان جنوبی ایشیا کا سب سے اہم ملک ہےاور دفاعی اعتبار سے مضبوط ترین ہے.روس کی شکست ہو یا امریکہ کی افغانستان کو گود میں لینی کی حسرت اس کے سامنے جس ریاست نے بند باندھا ہے وہ یہی ریاست ہے.یہ وہ ریاست ہے جس کو پتھروں کے زمانے میں دھکیلنے کی دھمکی دی گئی اور اسکی اینٹ سے اینٹ بجانے کی کوشش کی گئی لیکن اس ریاست کےجوشیلے اور قوت ایمان سے لبریز مجاھدوں نے ہر خواب کو خاک میں ملا دیا.آج جنرل باجوہ اور عمران خان کی قیادت میں یہ ملک جنوبی ایشیا کی ایک مستحکم اقتصادی قوت بننے جارہا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے ولی عہد کا دورہ سنگ میل ثابت ہوگا اس لیے ہم سب اس دورہ کی حمایت کرتے ہیں.

البتہ کچھ تحفظات ہیں جن کی وجہ سے ہم پریشان ہیں کہ ڈالروں کے عوض ہمیں یمن کی جنگ میں نہ جھونک دیا جائے, ہمیں اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے ڈالرز ایک ٹول کے طور پر استعمال نہ کیے جائیں اور ہمیں کہیں اپنے برادر اسلامی ملک اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ نہ الجھا دیا جائے.یمن کی جنگ کے حوالے سے پاکستان نے ماضی میں ایک اعلی موقف اپنایا ہے امید ہے اسی موقف پر قائم رہے گا.ہم اسرائیل کو کبھی بھی تسلیم نہیں کریں گے اور ایران کے ساتھ جنگ کو ہم یہ سمجھیں گے کہ پاکستان اپنے خلاف جنگ کر رہا ہے.اس لیے یہ بڑے وثوق کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ ہماری قیادت کوئی ایسا فیصلہ نہیں کرے گی جو عوام کے جذبات کا خون کرے.ہم ایسے کسی غلط فیصلے کی اپنی قیادت سے توقع نہیں کرسکتے.

جہاں تک اقتصادی امداد کا تعلق ہے وہ.سعودی عرب کو ہر اسلامی ملک کی کرنی چاہیے.خون مسلم کو بہنے سے بچانے کے لیے سعودی عرب کو اہم اقدامات اٹھانے چاہییں.خطے میں اسلامی ممالک کی اسے نمائیندگی کرنی چاہیے.اگر سعودی عرب اسلام مخالف قوتوں کے مقابلہ میں کھڑا ہوجائے تو میں سمجھتا ہوں کہ ہر اسلامی ملک اسکی قیادت کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوگا.ہم سب کو اپنا قبلہ درست رکھنا چاہیے.

طالب دعاء.

گلزار احمد نعیمی