أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا خُذُوۡا حِذۡرَكُمۡ فَانْفِرُوۡا ثُبَاتٍ اَوِ انْفِرُوۡا جَمِيۡعًا‏ ۞

ترجمہ:

اے ایمان والو ! اپنی حفاطت کا سامان لے لو ‘ پھر (دشمن کی طرف) الگ الگ دستوں کی شکل میں روانہ ہو یا سب مل کر روانہ ہو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اے ایمان والو ! اپنی حفاطت کا سامان لے لو ‘ پھر (دشمن کی طرف) الگ الگ دستوں کی شکل میں روانہ ہو یا سب مل کر روانہ ہو۔ (النساء : ٧١) 

ربط آیات اور خلاصہ مضمون : 

اس سے پہلی آتیوں میں اللہ تعالیٰ نے منافقوں کے متعلق وعید نازل فرمائی تھی ‘ اور انکو اللہ اور رسول کی اطاعت کا حکم دیا تھا ‘ ان آیتوں میں مسلمانوں کو اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے جہاد کرنے کا حکم دیا ہے اور کافروں سے جہاد کے لیے سامان جنگ تیار رکھنے کا حکم دیا ہے تاکہ کہیں کفار اچانک حملہ نہ کردیں ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے ان منافقین کا حال بیان فرمایا جو جہاد کی راہ میں روڑے اٹکانے والے تھے ‘ اس سے پہلی آیات میں مسلمانوں کے ملک کے داخلی اور اندرون ملک کی اصلاح کے لیے آیات نازل فرمائی تھیں اور اب بیروں ملک اور میدان جنگ کے سلسلہ میں ہدایت نازل کی ہیں۔ 

جہاد کی تیاری اور اس کی طرف رغبت کا بیان : 

اس آیت میں مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ کفار کے دفاع اور اپنی حفاظت کے لیے اسلحہ اور ہتھیار فراہم کریں ‘ اور دشمن جس طرح کے ہتھیار استعمال کر رہا ہے ویسے ہی ہتھیار استعمال کریں ‘ حضرت ابوبکر (رض) نے جنگ یمامہ میں خالد بن ولید کو لکھا دشمنوں کے مقابلہ میں ان جیسے ہتھیار استعمال کرو۔ تلوار کے مقابلہ میں تلوار اور نیزہ کے مقاملہ میں نیزہ سے لڑو۔ اب دنیا میں اپنی بقاء کے لیے ایٹمی طاقت بننا ضروری ہے اور دشمنان اسلام سے مقابلہ اور جہاد کے لیے سائنس اور ٹیکنا لوجی میں مہارت حاصل کرنا ضروری ہے لیکن ہمارے طالب علم جدید ثقافت کے نام پر بین الاقوامی کھیلوں کے میدان میں ہیرو بننا چاہتے ہیں ‘ ڈسکو میوزک ‘ لڑکے لڑکیوں کے مخلوط رقص ‘ اور اچھل کود کے شوز میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ اور متوسط گھر ڈش انٹینا اور ٹی۔ وی اور وی۔ سی۔ آر کے سیلاب میں بہے جارہے ہیں۔ ایسے میں مسلمان نوجوانوں کے دلوں میں جذبہ جہاد کہاں سے پیدا ہوگا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 71