أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَئِنۡ اَصَابَكُمۡ فَضۡلٌ مِّنَ اللّٰهِ لَيَـقُوۡلَنَّ كَاَنۡ لَّمۡ تَكُنۡۢ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَهٗ مَوَدَّةٌ يّٰلَيۡتَنِىۡ كُنۡتُ مَعَهُمۡ فَاَ فُوۡزَ فَوۡزًا عَظِيۡمًا‏ ۞

ترجمہ:

اور اگر تمہیں اللہ کا فضل (مال غنیمت) مل جائے تو ضرور (اس طرح) کہے گا گویا کہ تمہارے اور اس کے درمیان کوئی دوستی ہی نہ تھی کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو بڑی کامیابی حاصل کرلیتا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : پس اللہ کی راہ میں ان لوگوں کو لڑنا چاہیے جو آخرت (کے ثواب) کے عوض دنیا کی زندگی فروخت کرچکے ہیں۔ اور جو اللہ کی راہ میں جنگ کرے پھر وہ قتل کردیا جائے یا غالب آجائے تو ہم عنقریب اسے اجر عظیم عطا فرمائیں گے۔ (النساء : ٧٤) 

اخروی اجر وثواب کے لیے جہاد کرنا : 

اس سے پہلی آیتوں میں جہاد سے منع کرنے والوں کی مذمت کی تھی اور اس آیت سے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو جہاد کی طرف راغب کر رہا ہے ‘ اس آیت میں فرمایا ہے مسلمانوں کو اللہ کی راہ میں لڑنا چاہیے جو اخروی ثواب کے بدلہ میں اپنی دنیا کی زندگی فروخت کرچکے ہیں ‘ انسان طبعا اپنی زندگی خرچ کرنے کو بھاری سمجھتا ہے لیکن جب اس کو یقین ہوگا کہ یہ زندگی خرچ کرنے سے اس کو آخرت کی نعمتیں ملیں گی تو وہ بہت خوشی سے اس راہ میں زندگی خرچ کرے گا ‘ اور یہ ایسا ہی ہے جیسے اللہ نے فرمایا ہے اللہ نے مسلمانوں سے ان کی جانوں اور مالوں کو جنت کے بدلہ میں خرید لیا ہے اور اخیر میں فرمایا پس تم نے جو اللہ سے بیع کی ہے ‘ اس بیع پر خوش ہوجاؤ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا اگر تم اس جنگ میں شہید ہوگئے تو اللہ کی راہ میں شہادت کا بڑا اجر ہے اور اگر تم غالب آگئے تو اخروی اجر کے ساتھ دنیاوی منفعت بھی حاصل ہوگی۔ خلاصہ یہ ہے کہ کفار کے خلاف جنگ کرنے میں تمہارا سراسر فائدہ ہے خواہ تم غالب ہو یا مغلوب۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 73