حکایت نمبر153: خون کے آنسو

حضرت سیدنا اسماعیل بن ہشام علیہ رحمۃ اللہ السلام فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت سیدنا فتح موصلی علیہ رحمۃ اللہ القوی کے ایک مرید نے بتایا :” ایک مرتبہ میں حضرت سیدنا فتح موصلی علیہ رحمۃ اللہ القوی کی خدمتِ بابر کت میں حاضر ہوا ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے دونوں ہاتھ دعا کے لئے اٹھائے ہوئے تھے، آنکھوں سے سیلِ اشک رواں تھا، ہتھیلیاں آنسوؤں سے تر بتر تھیں۔ مَیں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے قریب ہوا اور غور سے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی طرف دیکھا تو میں ٹھٹھک کر رہ گیا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے آنسوؤں میں خون کی آمیزش تھی جس کی وجہ سے آنسو سرخی مائل ہوگئے تھے ۔”

مَیں یہ دیکھ کر بہت پریشان ہوا اور عرض کی:” حضور! آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو اللہ عزوجل کی قسم! سچ سچ بتائیں؟کیا آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے آنسوؤں میں خون کی آمیزش ہے ؟”تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا :”اگر تُو نے مجھے قسم نہ دی ہوتی تو میں ہر گزنہ بتاتا لیکن اب مجبور اًبتا رہا ہوں کہ واقعی میری آنکھوں سے آنسوؤں کے ساتھ خون بھی بہتا ہے اسی وجہ سے آنسوؤں کی رنگت تبدیل ہوگئی ہے ۔”میں نے عرض کی: ”حضور! آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو کس چیز نے رونے پر مجبور کیا ہے اور آخرایسا کون سا غم آپ کو لاحق ہے کہ آپ خون کے آنسو روتے ہیں؟ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا: ”میں روتا تو اس لئے ہوں کہ میں اللہ عزوجل کے اَحکام پر عمل نہ کرسکا ، اس کی عبادت میں کوتا ہی کرتا رہا، مَیں اپنے مالک حقیقی عزوجل کی کَمَاحَقُّہٗ فرمانبردار ی نہ کرسکا اور آنسوؤں میں خو ن اس لئے آتا ہے کہ مجھے یہ خوف ہمیشہ دامن گیر رہتا ہے کہ میرا یہ رونا اللہ عزوجل کی بارگاہ میں مقبول بھی ہے یا نہیں ۔ میرے اعمال میرے مولیٰ عزوجل کی بارگاہ میں قبول بھی ہوئے ہیں یا نہیں؟” بس یہی خوف مجھے خون کے آنسو رُلاتا ہے ۔”اتنا کہنے کے بعد آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ دو بارہ رونے لگے ۔پوری زندگی آپ کی یہی کیفیت رہی او راسی حالت میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا انتقال ہوا۔وصال کے بعد میں نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو خواب میں دیکھا تو عرض کی: ”مَافَعَلَ اللہُ بِکَ یعنی اللہ عزوجل نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا ؟” آپ نے جواب دیا :” میرے رحیم وکریم پروردگا ر عزوجل نے مجھے بخش دیا ۔”پھر میں نے پوچھا: ”آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے آنسوؤں کا آپ کو کیاصلہ دیا گیا ؟”آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ”میرے پاک پرورگار عزوجل نے مجھے اپناقُرب خاص عطا فرمایا اور پوچھا: ”اے فتح مو صلی!تم دنیا میں آنسو کیوں بہایا کرتے تھے ؟” میں نے عرض کی: ”میرے رحیم وکریم پروردگار عزوجل! مَیں اس خوف سے آنسو بہاتا تھا کہ میں نے تیری عبادت کا حق ادا نہ کیا، تیری اطا عت نہ کرسکا، تیرے اَحکامات پر عمل پیرا نہ ہوسکا۔” پھر اللہ عزوجل نے مجھ سے پوچھا:” تمہارے آنسوؤں میں خون کیوں آتا تھا ؟” میں نے عرض کی:” اے میرے پاک پروردگار عزوجل !مجھے ہر وقت یہ خوف دامن گیر رہتا کہ نہ جانے میرے اَعمال تیری بارگاہ میں مقبول بھی ہیں یا نہیں؟ ایسا نہ ہو کہ میرے اعمال ا کارت ہوگئے ہوں، بس یہی خوف مجھے خون کے آنسورلاتا تھا ۔”یہ سن کرمیرے پاک پروردگار عزوجل نے ارشاد فرمایا: ”اے فتح موصلی !یہ تیرا گمان تھا کہ تیرے اعمال مقبول ہیں یا نہیں، مجھے میری عزت وجلال کی قسم !چالیس سال سے تمہارے نامہ اعمال میں تم پر نگہبان فرشتوں(یعنی کراماً کاتبین) نے ایک گناہ بھی نہیں لکھا۔”(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علی وسلم)