ملا علی قاری کی موضوعات کبری و موضوعات صغری

سؤال:

آپ نے أپنی تحریر میں ملا علی قاری کی موضوعات کبری و موضوعات صغری کا نام لیا تھا

یہ أنکی کونسی بکس ہیں؟

جواب أز ابن طفیل الأزہری ( محمد علی ):

ملا علی قاری رحمہ اللہ کی موضوعات کبری سے مراد:

” الأسرار المرفوعۃ فی الأخبار الموضوعۃ ” ہے

أور موضوعات صغری کا نام :

” المصنوع فی معرفة الحديث الموضوع ” ہے ،

یہ موجودہ متداولہ طبعات کے لحاظ سے ہے.

لیکن جب آپ أئمہ میں سے کسی کے ہاں ملا علی قاری کی ان دو کتابوں میں سے کسی إیک کا حوالہ پائیں تو أسکو اس قاعدہ پہ مطلقاً محمول نہیں کریں گے

کیونکہ بعض نے ” المصنوع فی معرفۃ الحدیث الموضوع ” سے موضوعات صغری و کبری مراد لی ہیں جیسے علامہ عبد الحی لکھنوی کے بعض رسائل میں حوالہ ” المصنوع ۔۔۔” کا ہوتا ہے لیکن وہ حدیث ” الأسرار المرفوعۃ۔۔ ” میں ملتی ہے

.

أور الأسرار المرفوعۃ کا نام” تذکرۃ الموضوعات ” بھی ذکر کیا جاتا ہے جیسے بحر علم و فنون علامہ عبد الحی لکھنوی فرماتے ہیں:

قال علی القاری في تذكرة الموضوعات … إلخ

ترجمہ: (ملا)علی القاری نے تذکرۃ الموضوعات میں فرمایا۔۔۔.

( الآثار المرفوعۃ فی الأخبار الموضوعۃ لعبد الحی لکھنوی ، ص :44 )

أور إسی طرح علامہ عجلونی نے بھی کشف الخفاء میں موضوعات کبری و صغری سے مراد إیک ہی نام لکھا ہے وہ ہے” الأسرار المرفوعۃ فی الأخبار الموضوعۃ “،

جیسے آپ فرماتے ہیں:

وحيث أقول : قال القاري فالمراد به الملا علي قاري في كتابه الموضوعات المسماة ” الأسرار المرفوعة في الأخبار الموضوعة ” وهي صفرى وكبرى ، وقد نقلت منهما .

ترجمہ:

أور جہاں میں ( أپنی إس کتاب میں) کہوں : قال قاری تو اس سے مراد ملا علی قاری نے أپنی موضوعات کی کتاب ” الأسرار المرفوعۃ فی الأخبار الموضوعۃ ” میں کہا ہے ،

أور یہ صغری و کبری پر مشتمل ہے ، أور تحقیق کہ مینے أن دونوں ( صغری و کبری) سے نقل کیا ہے.

( مقدمۃ کشف الخفاء للعجلونی ، 1/13 )

أور بعض مقامات پر علامہ عجلونی کشف الخفاء میں یوں بھی فرماتے ہیں:

قال القاري في موضوعاته الكبرى .

(ملا علی)قاری نے أپنی ( کتاب) موضوعات کبری میں فرمایا.

خود ملا علی قاری نے نخبۃ الفکر کی شرح میں أپنی موضوعات پر لکھی گئی کتاب کا نام ” المصنوع فی معرفۃ الموضوع ” ذکر کیا ہے ،

آپ فرماتے ہیں:

وقد اقتصرت في كراسة على أحاديث اتفقوا على وضعها وبطلان أصلها ، وسميته ” المصنوع في معرفة الموضوع ” ، ولا يستغني الطالب عنه.

ترجمہ:

مینے بھی إیک کاپی میں صرف أن أحادیث ( کو بیان کرنے) پہ اکتفاء کیا ہے جسکے موضوع أور أنکے أصلا باطل ہونے پر أن ( أئمہ ) کا اتفاق ہے ، أور أسکا نام مینے” المصنوع فی معرفۃ الموضوع ” رکھا ہے ، جس سے کوئی طالب ( علم) مستغنی نہیں ہوسکتا ( یعنی أس پر أسکا مطالعہ کرنا لازمی ہے).

( شرح نخبة الفكر لملا علي قاري ، ص : 447 )

لہذا ہمارے اس زمانے میں اب موضوعات کبری و صغری کے وہی نام ہیں جو شروع میں مینے ذکر کیے ہیں لیکن ہم سے پہلے أئمہ جب انکا ذکر کریں تو اس قاعدے پہ محمول نہیں کریں گے بلکہ تائید کریں گے کہ وہ مصنوع میں ہے یا الأسرار میں .

مزید وضاحت کے لیے موضوعات صغری میں عبد الفتاح أبو غدہ کا مقدمہ ، أور موضوعات کبری پہ محمد بن لطفی الصباغ کے مقدمۃ تحقیق کا مطالعہ فرمائیں .

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.