أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَا لَـكُمۡ لَا تُقَاتِلُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَالۡمُسۡتَضۡعَفِيۡنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآءِ وَالۡوِلۡدَانِ الَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡ هٰذِهِ الۡـقَرۡيَةِ الظَّالِمِ اَهۡلُهَا‌ ۚ وَاجۡعَلْ لَّـنَا مِنۡ لَّدُنۡكَ وَلِيًّا ۙۚ وَّاجۡعَلْ لَّـنَا مِنۡ لَّدُنۡكَ نَصِيۡرًا ۞

ترجمہ:

اور (اے مسلمانو ! ) تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں جنگ نہیں کرتے حالانکہ بعض کمزور مرد ‘ عورتیں اور بچے یہ دعا کر رہے ہیں۔ اے ہمارے رب ! ہمیں اس بستی سے نکال لے جس کے رہنے والے ظالم ہیں ‘ اور ہمارے لئے اپنے پاس سے کوئی کارساز بنا دے اور کسی کو اپنے پاس سے ہمارا مددگار بنا دے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور (اے مسلمانو ! ) تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں جنگ نہیں کرتے حالانکہ بعض کمزور مرد ‘ عورتیں اور بچے یہ دعا کر رہے ہیں۔ اے ہمارے رب ! ہمیں اس بستی سے نکال لے جس کے رہنے والے ظالم ہیں ‘ اور ہمارے لئے اپنے پاس سے کوئی کارساز بنا دے۔ (النساء : ٧٥) 

مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لیے جہاد کرنا : 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے جہاد کی مزید ترغیب دی اور جہاد کے خلاف حیلوں اور بہانوں کو زائل فرمایا ہے ‘ اللہ کی راہ میں اور اس کے دین کی سربلندی کے لیے جہاد سے تمہیں کیا چیز روکتی ہے ‘ جہاد کی وجہ سے شرک کے اندھیروں کی جگہ توحید کا نور پھیلتا ہے ‘ شر اور ظلم کے بجائے خیر اور عدل کا دور دورہ ہوتا ہے اور مکہ میں تمہارے جو مسلمان بھائی مرد ‘ عورتیں اور بچے کفار کے ظلم کا شکار ہیں ‘ کفار ان کو ہجرت کرنے نہیں دیتے اور اسلام قبول کرنے کی وجہ سے ان کو طرح طرح کی اذیتیں پہنچا رہے ہیں ‘ اور تم خود مکہ کی زندگی میں ان کے مظالم کا مشاہدہ اور تجربہ کرچکے ہو بلال ‘ صہیب اور عمار بن یاسر پر کس کس طرح مشق ستم کی جاتی تھی ‘ سو کفار کے خلاف جہاد کر کے تم اپنے مسلمان بھائیوں کو کفار کی دست برد سے بچا سکتے ہو۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 75