أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا يُقَاتِلُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ‌‌ ۚ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُقَاتِلُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ الطَّاغُوۡتِ فَقَاتِلُوۡۤا اَوۡلِيَآءَ الشَّيۡطٰنِ‌ۚ اِنَّ كَيۡدَ الشَّيۡطٰنِ كَانَ ضَعِيۡفًا  ۞

ترجمہ:

جو ایمان والے ہیں وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور جو کافر ہیں وہ شیطان کی راہ میں لڑتے ہیں سو (اے مسلمانو ! ) تم شیطان کے مددگاروں سے لڑو ‘ بیشک شیطان کا مکر کمزور ہے ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : جو ایمان والے ہیں وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور جو کافر ہیں وہ شیطان کی راہ میں لڑتے ہیں سو (اے مسلمانو ! ) تم شیطان کے مددگاروں سے لڑو ‘ بیشک شیطان کا مکر کمزور ہے۔ (النساء : ٧٦) 

مسلمانوں اور کافروں کی باہمی جنگ میں ہر ایک کا ہدف اور نصب العین :

اس آیت میں یہ بتایا کہ جب مسلمانوں اور کافروں کے درمیان جنگ ہوتی ہے تو اس جنگ سے کافروں کی غرض کیا ہوتی ہے اور مسلمانوں کا ہدف کیا ہونا چاہیے ‘ کافر مادی مقاصد کے حصول کے لیے جنگ کرتے ہیں اور بت پرستی کا بول بالا کرنے کے لیے اور اپنے وطن اور اپنی قوم کی حمایت میں لڑتے ہیں ‘ ان کے پیش نظر زمین اور مادی دولت ہوتی ہے ‘ نام ونمود اور اپنی بڑائی کے لیے اور دنیا میں اپنی بالادستی قائم کرنے لیے لڑتے ہیں اور کمزور ملکوں کی زمین ‘ ان کی معدنی دولت اور ان کے ہتھیاروں کو لوٹنے کے لیے لڑتے ہیں ‘ اس کے برعکس مسلمانوں کے سامنے اخروی مقاصد ہوتے ہیں ‘ وہ اللہ کی بڑائی اور اس کے دین کی سربلندی کے لیے لڑتے ہیں ‘ وہ بت پرستی ‘ کفر ‘ شر اور ظلم کو مٹانے ‘ نظام اسلام کو قائم کرنے ‘ خیر کو پھیلانے اور عدل و انصاف کو نافذ کرنے کے لیے لڑتے ہیں ‘ ان کا مقصد زمین کو حاصل کرنا نہیں ہوتا بلکہ زمین پر اللہ کی حکومت قائم کرنا ہوتا ہے ‘ وہ اپنے استعمار اور آمریت قائم کرنے کے لیے اور دوسروں کی زمین اور دولت پر قبضہ کرنے اور لوگوں کو اپنا محکوم بنانے کے لیے نہیں لڑتے بلکہ انسانوں کو انسانوں کی بندگی سے آزاد کرا کر سب لوگوں کو خدائے واحد کے حضور سر بسجود کرانے کے لیے جہاد کرتے ہیں۔ 

قرآن مجید کی ترغیب جہاد کے نکات :

اپنے ملک کے دفاع اور کفار کے خلاف جہاد کے لیے اسلحہ کو حاصل کرنا توکل کیخلاف نہیں ہے ‘ کیونکہ توکل کا معنی ترک اسباب نہیں ہے بلکہ کسی مقصود کے حصول کے اسباب کو فراہم کرکے اور اس کے حصول کے لیے جدوجہد کرکے نتیجہ کو اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دینا توکل ہے۔ 

اسی طرح آلات حرب کو حاصل کرنا بھی تقدیر کے خلاف نہیں ہے بلکہ جہاد کی تیاری کرنا بھی تقدیر سے ہے۔ اس رکوع کی آیات میں بتایا گیا ہے کہ جہاد کیلیے پے درپے مجاہدوں کے دستے بھیجنا بھی جائز ہے اور یک بارگی مل کر حملہ کرنا بھی جائز ہے اور یہ کہ ہر دور میں کچھ لوگ اپنی بدنیتی یا بزدلی کی وجہ سے یا غداری اور منافقت کی وجہ سے جہاد سے منع کرنے والے بھی ہوتے ہیں ‘ لیکن مسلمان ان سے متاثر نہ ہوں بلکہ اخروی اجر وثواب کی وجہ سے جہاد کریں ‘ وہ جہاد میں غالب ہوں یا مغلوب ہر صورت میں ان کے لیے اجر ہے ‘ نیز یہ بتایا ہے کہ جہاد کا ایک داعیہ اور سب یہ ہے کہ جس خطہ زمین میں کافروں نے مسلمانوں کو غلام بنایا ہوا ہے یا انکے ملک پر قبضہ کر کے ان کے ساتھ ظالمانہ سلوک کیا ہوا ہے ‘ ان کو کافروں اور ظالموں سے آزاد کرانے کے لیے بھی جہاد کرنا چاہیے اور آخر میں یہ بتایا کہ کافروں کا جنگ میں کیا مطمح نظر ہوتا ہے اور مسلمانوں کا ہدف کیا ہونا چاہیے۔ 

ترغیب جہاد کی متعلق احادیث :

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :) جو شخص میرے راستہ میں جہاد کے لیے نکلا اور وہ شخص صرف مجھ پر ایمان رکھنے اور میرے رسول کی تصدیق کی وجہ سے نکلا ہو۔ میں اسکا ضامن ہوں کہ اس کو اجر یا غنیمت کے ساتھ لوٹاؤں یا جنت میں داخل کر دوں ‘ (آپ نے فرمایا :) اگر میری امت پر دشوار نہ ہوتا تو میں کسی لشکر میں شامل ہوئے بغیر نہ رہتا ‘ اور بیشک میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میں اللہ کی راہ میں قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں ‘ پھر قتل کیا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٣٦‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٨٧٦‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ٥٠٤٤‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢٧٥٣) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کرنا کسی عبادت کے برابر ہے ؟ آپ نے فرمایا تم اسکی طاقت نہیں رکھتے انہوں نے دو یا تین مرتبہ یہی سوال کیا آپ نے ہر بار یہی فرمایا کہ تم اس کی طاقت نہیں رکھتے ‘ تیسری بار آپ نے فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو دن کو روزہ رکھے ‘ رات کو قیام کرے اور اللہ کی آیات کی تلاوت کرے اور وہ روزے اور نماز سے تھکتا نہ ہو۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٨٧٧‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٦٢٥) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت فضالہ بن عبید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر شخص کا خاتمہ اس کے عمل پر کردیا جاتا ہے، ماسوا اس شخص کے جو اللہ کی راہ میں سرحد پر پہرہ دیتے ہوئے فوت ہوجائے اس کا عمل قیامت تک بڑھایا جاتا رہے گا۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٢٦٧‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٢٥٠٠‘ المعجم الکبیر ج ١٨ ص ٨٠٢‘ المستدرک ج ٢ ص ١٤٤‘ مشکل الآثار ج ٣ ص ١٠٢) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابو قتادہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا فی سبیل اللہ اور ایمان باللہ افضل اعمال ہیں ‘ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ! یہ بتلائیے اگر میں اللہ کی راہ میں قتل کردیا جاؤں تو کیا یہ میرے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا ؟ آپ نے فرمایا ہاں اگر تم اللہ کی راہ میں قتل کردیئے جاؤ درآں حالیکہ تم صبر کرنے والے ہو ‘ ثواب کی نیت کرنے والے ہو آگے بڑھ کر وار کرنے والے ہو پیچھے ہٹنے والے نہ ہو ‘ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے کیا کہا ؟ اس شخص نے کہا میں نے کہا یہ بتایئے اگر میں اللہ کی راہ میں قتل کردیا جاؤں تو کیا اس سے میرے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا ؟ آپ نے فرمایا ہاں بشرطیکہ تم صبر پر قائم ہو ‘ اور تمہاری نیت ثواب کی ہو ‘ تم آگے بڑھنے والے ہو پیچھے ہٹنے والے نہ ہو تو قرض کے سوا تمہارے سب گناہ معاف ہوجائیں گے ‘ مجھ سے ابھی جبرائیل نے یہ کہا ہے۔ 

(صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٨٨٥‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٧١٨‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ٣١٥٦) 

امام ابواحمد بن شعیب نسائی متوفی ٣٠٣ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شہید کو قتل ہونے سے صرف اتنی تکلیف ہوتی ہے جتنی تم میں سے کسی کو چیونٹی کے کاٹنے سے۔ (سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ٣١٦١‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٦٦٨‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢٨٠٢) 

حضرت معاذ بن جبل (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس مسلمان شخص نے اونٹنی کا دودھ دوہنے کے وقت کے برابر بھی جہاد کیا اس کیلیے جنت واجب ہوگئی ‘ اور جو شخص اللہ کی راہ میں زخمی ہوا یا اس کا خوان بہا وہ جب قیامت کے دن اٹھے گا تو اس کا بہت زیادہ خون بہہ رہا ہوگا اس خون کا رنگ زعفران کا ہوگا اور خوشبو مشک کی ہوگی۔ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٦٦٢‘ سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث : ٢٥٤١‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ١٣٤١‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢٧٩٢)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 76