حدیث نمبر :343

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جب پاخانے سے آتے تو فرماتے تیری بخشش(چاہیئے) ۱؎(ترمذی،و ابن ماجہ،دارمی)

شرح

۱؎ ان تمام احادیث میں بیت الخلاءسے پاخانے پھرنے کی جگہ مراد ہے،جنگل میں ہو،یاچھت پر،یا گھر کے گوشہ میں،نہ کہ خاص کوٹھڑیاں کیونکہ اس زمانہ میں گھروں میں پاخانہ کی کوٹھڑیاں بنانے کا رواج نہ تھا۔اور پاخانہ سے فارغ ہوکرمغفرت مانگنے کی دو وجہ ہیں:ایک یہ کہ فراغت کا وقت اﷲ کے ذکر کے بغیر گزرا کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سوائے اس حالت کے تمام حالات میں ذکر اﷲ کرتے تھے خداوند اس کوتاہی کو معاف کر۔دوسرے یہ کہ خیریت سے پاخانہ ہوجانا خدا کی بڑی نعمت ہے جس کے شکریہ سے زبان قاصرہے خدایا اس قصور کو معاف کر۔خیال رہے کہ حضور کی استغفارہ امّت کی تعلیم کے لیے ہے۔