حضرت عبداللہ بن عمروبن العاص کی روایتوں کے مجموعے

آپ پڑھ چکے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو کو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ سے کتابت حدیث کی کامل طور پر اجازت بلکہ حکم مل چکا تھا ۔لہذا آپ نے جو بھی سنا اسکو لکھا ۔ آپ نے اپنے صحیفہ کانام ’’الصادقہ ‘‘ رکھاتھا ،آپ نے بلا واسطہ روایات کو اس میں جمع کیاتھا۔

خودفرماتے ہیں :۔

ہذہ الصادقۃ فیہا ماسمعتہ من رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ولیس بینی وبینہ فیہااحد ۔ 

یہ صحیفہ صادقہ ہے ، اس میں وہ احادیث درج ہیں جو میں نے خود حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے سنی ہیں ، اسکی روایت کیلئے میرے اورحضور کے درمیان کوئی واسطہ نہیں ۔

آپ کو یہ صحیفہ بہت عزیز تھا ،فرماتے تھے ۔

مایرغبنی فی الحیوۃ الاالصادقۃ والوہط ۔

زندگی میں میری دلچسپی جن چیزوں سے ہے ان میں ایک یہ صحیفہ ہے اور دوسری ’’وھط‘‘ نامی میری زمین ہے ۔

حفاظت کیلئے آپ اس صحیفے کو ایک صندوق میں بند رکھتے تھے ۔ آپ کے بعد آپ کے اہل خانہ نے بھی اس صحیفے کی حفاظت کی ۔اغلب یہ ہے کہ آپ کے پوتے حضرت عمرو بن شعیب اس صحیفے سے روایت کرتے تھے ۔ گو حضرت عمرو بن شعیب سے ساراصحیفہ مروی نہیں لیکن امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں اسکے مندرجات کو روایت کردیا ہے ۔احادیث کی دوسری کتابوں میں بھی اس صحیفے کی احادیث ملتی ہیں ۔

اس صحیفے کی علمی اہمیت بہت زیادہ ہے ،کیونکہ یہ ایک تاریخی دستاویز ہے اور اس سے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے سامنے احادیث لکھنے کا واضح ثبوت بھی ملتاہے ۔(ضیاء النبی ۷/۱۳۳)

کہتے ہیں اس میں ایک ہزار حدیثیں تھیں ۔