*درس 032: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(وَأَمَّا) بَيَانُ مَا يُسْتَنْجَى مِنْهُ

فَالِاسْتِنْجَاءُ مَسْنُونٌ مِنْ كُلِّ نَجَسٍ يَخْرُجُ مِنْ السَّبِيلَيْنِ لَهُ عَيْنٌ مَرْئِيَّةٌ كَالْغَائِطِ، وَالْبَوْلِ، وَالْمَنِيِّ، وَالْوَدْيِ، وَالْمَذْيِ، وَالدَّمِ

ان وجوہات کا بیان جن کے سبب استنجاکرنا سنت ہے۔

استنجا سنت ہے، ہر اس نجاست کے بعد جو سبیلین (اگلے یا پچھلے مقام) سے خارج ہو، جسم رکھتی ہو اور جسے دیکھا جاسکتا ہو، جیسے پاخانہ، پیشاب، منی، ودی، مذی اور خون۔

لِأَنَّ الِاسْتِنْجَاءَ لِلتَّطْهِيرِ بِتَقْلِيلِ النَّجَاسَةِ

اس لئے کہ استنجاکا مقصد نجاست کو کم کرکے طہارت حاصل کرناہے۔

وَإِذَا كَانَ النَّجِسُ الْخَارِجُ مِنْ السَّبِيلَيْنِ عَيْنًا مَرْئِيَّةً تَقَعُ الْحَاجَةُ إلَى التَّطْهِيرِ بِالتَّقْلِيلِ

اور جب نجاست سبیلین میں سے کسی ایک مقام سے خارج ہو، جسم رکھتی ہو اور دیکھی جاسکتی ہو تو اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ اسے کم کرکے طہارت حاصل کی جائے۔

وَلَا اسْتِنْجَاءَ فِي الرِّيحِ؛ لِأَنَّهَا لَيْسَتْ بِعَيْنٍ مَرْئِيَّةٍ.

اور ریح خارج ہونے کی وجہ سے استنجا نہیں کیا جاتا، اس لئے کہ ریح نہ ہی جسم رکھتی ہے اور نہ ہی اسے دیکھا جاسکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

معلوم ہوا استنجا مخصوص حالات میں سنت ہے۔ علامہ کاسانی نے ان کی شرائط اس طرح بیان کی ہیں:

1- نجاست ہو۔

2- سبیلین یعنی اگلے یا پچھلے مقام سے خارج ہو۔

3- جسم والی ہو۔

4- دیکھی جاسکتی ہو۔

*لہذا جب تک نجاست نہیں نکلے استنجا لازم نہیں ہے، کیونکہ استنجا نجاست سے طہارت حاصل کرنے کے لئے مشروع ہوا ہے۔

*نجاست تو نکلی مگر سبیلین سے نہیں بلکہ کسی اور مقام سے، مثلا ہاتھ یا پیر سے خون نکل آیا تو یہاں استنجا سنت نہیں ہے۔

* استنجا اسی وقت سنت ہے جب سبیلین سے نکلنے والی نجاست کاجسم (Physical Body) ہو اوراسے دیکھا جاسکتا ہو، مثلا پاخانہ، پیشاب وغیرہ۔۔

اگر جسم نہیں ہے یا اوراسے دیکھا بھی نہیں جاسکتا تو اس کے نکلنے پر استنجا سنت نہیں ہے۔

ہم نے پچھلے دروس میں علامہ شامی کے حوالے سے بیان کیا تھا کہ ریح کے بعد استنجا *بدعت* ہے۔

علامہ کاسانی نےنجاست کی مثال میں چھ چیزیں بیان کی ہیں، غائط، بول، منی، مذی، ودی، دم۔۔

ان کی تعریف وضو توڑنے والی چیزوں کے تحت بیان کی جائیں گی۔

اسکے بعد علامہ کاسانی نے سنتِ مسواک کا ذکر کیا ہے اور آگے پانی سے استنجا کو الگ سنت شمار کرکے مسائل ذکر کئے مگر ہم اگلے درس میں ان مسائل کو ذکر کرکے استنجا کے تمام مسائل کو سمیٹ کر اگلی سنت کا بیان شروع کریں گے۔

*ابو محمد عارفین القادری*