*سائنس و ٹیکنالوجی کا دوسرا رخ*

*سید خالد جامعی صاحب*

عام طور پر لوگوں کا خیال ہے کہ ٹیکنالوجی اور سائنس کی ایجادات نے دین پر عمل کو آسان کر دیا ہے حج کرنا عمرہ کرنا زیارتیں کرنا ایک دوسرے سے میل جول، عبادات میں سہولت سب کچھ ممکن ہوگیا ہے…

یہ تصویر کا صرف ایک رُخ ہے جس پر عالم اسلام کی اکثریت کو شدت سے اصرار ہے مگر اس تصویر کا دوسرا رُخ بھی ہے وہ یہ کہ

♥ آج سے چالیس سال پہلے کیا نیک سادہ زندگی بسر کرنا آسان تھا یا آج آسان ہے.

♥ کیا سائنس و ٹیکنالوجی کی بے تحاشہ ترقی کے باعث گناہ گار زندگی بسر کرنے کے مواقع ہر شخص کو ہر وقت میسر ہوگئے ہیں یا نیک زندگی کی خواہش نے ہر دل میں جگہ بنا لی ہے

♥ کیا آج گناہ سے بچنا ممکن ہے؟ بچنے کی شدید کوشش کے باوجود آپ کو گناہ سے گزرنا لازمی ہے ٹی وی انٹرنیٹ استعمال کرنے والے گناہگار نیکیوں کی فصلِ بہار سے خوب واقف ہوں گے. ایک ایسا نظام زندگی ترتیب دے دیا گیا ہے کہ ارتکاب گناہ کے بغیر نیک کام کرنا ممکن نہیں رہ گیا ہے.جب تک کاریں، اے سی، کولر، فریج، بوتلیں، فریزر نہیں تھے تو اکثر دین دار لوگ سنت پر عمل کرتے ہوئے پیر اور جمعرات کا روزہ رکھتے تھے لیکن اب گھر میں کار میں دفتر میں اے سی ہے لیکن دیندار لوگ روزے نہیں رکھتے حالانکہ اب تو زیادہ روزے رکھنے چاہیں جب لوگوں کے پاس فون کار موٹر سائیکل نہیں تھی تو لوگ سال میں کئی بار قبرستان بھی جاتے تھے اور اپنے عزیزوں کے پاس بھی لیکن جب سے یہ سہولتیں حاصل ہوئی ہیں لوگ رشتہ داروں سے سالانہ ملاقات کرتے ہیں سال میں ایک بار قبرستان جاتے ہیں.جب تیز رفتار سواریاں نہیں تھیں تو لوگوں کے پاس وقت تھا لیکن جب یہ سواریاں آگئیں تو نہ رشتہ داروں کے لیے وقت ہے نہ قبرستان کے لیے.

نہ ماں باپ کی خدمت کے لیے آخر یہ وقت جو گاڑیوں نے بچایا کہاں چلا گیا؟

ظاہر ہے گاڑی کو رکھنے کے لیے سرمایہ چاہیے جو وقت بچ گیا وہ سرمایہ کمانے کی نظر ہوگیا عصرِ حاضر میں بارہ گھنٹے کام کیے بغیر ضروریات زندگی کا حصول ممکن نہیں لہذا وقت اب مارکیٹ کی نذر ہوگیا ہے.اشیاء ٹیکنالوجی نے مہیا کردی ہیں مگر وقت چھین لیا ہے دیہاتوں میں وقت اسلیے ہوتا ہے کہ زندگی سادہ، روزگار گھر کی چوکھٹ پر میسر اور خاندانی زندگی کے ساتھ منسلک ہے مارکیٹ میں جاکر وقت خاندان کہاں.

جب تک گھروں میں قرآن کے قلمی نسخے تھے ہر گھر سے تلاوت کی صدا گونجتی تھی جب سے طبع شُدہ لاکھوں قرآنی نسخے آگئے ہر گھر میں چار چار پانچ مصحف جمع ہیں تو کسی گھر سے تلاوت کی آواز نہیں آتی حتی کہ گھروں میں ٹیپ ریکارڈ بھی نہیں چلائے جاتے کہ قرآن کی آواز تو سُنائی دے لیکن کاروباری لوگ صبح دوکان کھولتے ہی یہ کام کاروبار میں برکت کے لیے نہایت خشوع و خضوع سے پابندی کے ساتھ انجام دیتے دیتے ہیں حتی کہ عورتوں کے جسم بیچنے والا سی ڈی کا کاروباری بھی یہ کارِ خیر انجام دیتا ہے.ہر گھر اور گاڑی میں ٹیپ ریکارڈر ہے لیکن گھروں اور گاڑیوں میں ٹیپ پر قرآن چلانے کی روایت نہیں ہے انسان کی آواز نہ سہی ٹیکنیکل آواز ہی سہی.

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ عصرِ حاضر میں اندر کا انسان ہی مرگیا ہے تو تلاوت کی آواز کیسی…..

انسان زندہ ہے پر اس کا قلب بے نور ہے وہ دنیا میں مبتلا ہے اور ٹیکنالوجی اسے آخرت سے کاٹ کر دنیا سے جوڑنے کا فریضہ تن دہی سے انجام دے رہی ہے.انبیاء ع سب سے پہلے انسان کو زندہ کرتے اور اسے نئی روح عطا کرتے ہیں جو بظاہر زندہ اور فی الحقیقت مردہ ہے.کیا وجہ ہے کہ جدید ایجادات انسان کو اپنے دین مذہب روایت تاریخ رشتوں سے دور کر رہی ہے بیٹی ماں کو روزانہ چھ مرتبہ فون کرے گی لیکن ہفتے میں ایک دن بھی ماں کے گھر جانا پسند نہیں کرے گی فون نے رشتے بھی کاٹ دیے ہیں ہم اسے رشتے جوڑنا سمجھتے ہیں.بیٹی پہلے ہر ہفتے ماں کے گھر رہنے جاتی تھی اب سسرال ہی رہتی ہے کیوں کہ ماں کے گھر میں اے سی نہیں ہے نہ بیٹی کے پاس وقت.

یہ تبدیلیاں کس انقلاب کی طرف راہنمائی کر رہی ہیں تاریخ میں آتا ہے کہ مسلمان ہر سال ایک ریاست کے بادشاہ سے خراج لینے جاتے تھے ایک سال گئے تو اس نے خراج دینے سے انکار کردیا انہوں نے پوچھا کہ تم نے پہلے تو کبھی انکار کی جرات نہیں کی اب کیوں؟ اس نے کہا پہلے جو لوگ خراج لینے آتے تھے مجھے انکے چہروں سے خوف آتا تھا ان کو دیکھ کر میرے دل پر ہیبت طاری ہوجاتی تھی میں خراج ادا کرنے سے انکار کی جرات نہیں کرسکتا تھا ان کے چہرے خشک سوکھے ہوئے گال پچکے ہوئے پیٹ اندر دبے ہوئے آنکھیں دھنسی ہوئیں کپڑے پیوند زدہ،مگر انکے چہروں پر ایک نور اور جلال ہوتا تھا تم ان تمام صفات سے خالی نظر آتے ہو وہ لوگ کہاں چلے گئے تم ان کو لے آؤ میں ان کو خراج دے دوں گا تم کو ایک پائی نہ دوں گا.

کیا یہ سب تاریخ کے افسانے ہیں یا حقیقت بھی ہیں؟ اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ کفار کے دلوں پر اہل ایمان کا رعب دبدبہ قائم کردیں گے یہ وعدہ قرآن میں بار بار بیان ہوا ہے.عصر حاضر کہ مسلمان خوشحال ہیں انکے گال پچکے ہوئے نہیں انکے کپڑے شاندار ہیں گھر عالیشان مگر دنیا پر انکی کوئی ہیبت نہیں فارغ البالی،مرفع الحالی،عیش میں اضافہ خوشحالی،ترقی کی آرزو وہی ان کے دینی فہم کا حاصل ہے.عصر حاضر میں نیک کام بھی بدراہ سے ہوتا ہے؟ دینی پروگرام ٹی وی پر دیکھنے کیلیے آپ کو طوائفوں کے اشتہارات کے جھرمٹ سے گزرنا ہوتا ہے بد راہ سے گزر کر دین کا علم ملتا ہے آپ جدید ٹیکنالوجی کا کوئی بھی طریقہ اختیار کریں خیر کے حصول کیلیے آغاز یا انجام شر سے لازماً گزرنا پڑتا ہے کیا ایسا خیر خالص رہ سکتا ہے؟ کیا ایسے غیر خالص خیر سے ایمان کا نور پھوٹ سکتا ہے؟