أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مَنۡ يُّطِعِ الرَّسُوۡلَ فَقَدۡ اَطَاعَ اللّٰهَ ‌ۚ وَمَنۡ تَوَلّٰى فَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ عَلَيۡهِمۡ حَفِيۡظًا ۞

ترجمہ:

جس نے رسول کی اطاعت کی تو بیشک اس نے اللہ کی اطاعت کرلی ‘ اور جس نے پیٹھ پھیری تو ہم نے آپ کو اس کا نگران بنا کر نہیں بھیجا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : جس نے رسول کی اطاعت کی تو بیشک اس نے اللہ کی اطاعت کرلی ‘ اور جس نے پیٹھ پھیری تو ہم نے آپ کو اس کا نگران بنا کر نہیں بھیجا، وہ آپ سے کہتے ہیں ہم نے اطاعت کی اور جب وہ آپ کے پاس سے اٹھ کر چلے جاتے ہیں تو ان میں سے ایک گروہ رات کو اس بات کے خلاف کہتا ہے جو وہ کہہ چکا تھا اور اللہ اس کو لکھتا ہے جو کچھ وہ رات کو کہتے ہیں تو آپ ان سے اعراض کیجئے اور اللہ پر توکل کیجئے اور اللہ (بطور) کارساز کافی ہے۔ (النساء : ٨١۔ ٨٠) 

منصب رسالت :

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا اس آیت کا معنی یہ ہے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے ‘  حسن بصری نے کہا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا ہے اور رسول کی اطاعت حجت ہے ‘ امام شافعی نے الرسالہ میں ذکر کیا ہے کہ ہر وہ کام جس کو اللہ تعالیٰ کتاب میں فرض کیا ہے مثلا حج ‘ نماز اور زکوۃ ‘ اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کا بیان نہ فرماتے تو ہم ان کو کیسے ادا کرتے اور کسی بھی عبادت کو انجام دینا ہمارے لیے کس طرح ممکن ہوتا ‘ اور جب احکام شرعیہ کا آپ کے بیان کے بغیر ادا کرنا ممکن نہیں ہے تو پھر آپ کی اطاعت کرنا حقیقت میں اللہ عزوجل کی اطاعت ہے۔ (الوسیط ج ٢ ص ٨٤‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری معصیت کی اس نے اللہ کی معصیت کی ‘ اور جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس امیر کی معصیت کی اس نے میری معصیت کی۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٨٣٥‘ صحیح بخاری ‘ رقم الحدیث : ٧١٣٧‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢٨٥٩‘ مسند احمد ج ٢ ص ٤٧١) 

قاضی عیاض نے لکھا ہے کہ اس پر اجماع ہے کہ امیر کی اطاعت غیر معصیت میں واجب ہے اور معصیت میں اس کی اطاعت حرام ہے۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حکم دینا اللہ کا حکم دینا ہے ‘ آپ کا منع کرنا اللہ کا منع کرنا ہے ‘ آپ کا وعدہ اللہ کا وعدہ ہے اور آپ کی وعید اللہ کی وعید ہے ‘ آپ کی رضا اللہ کی رضا ہے اور آپ کا غضب اللہ کا غضب ہے ‘ اور آپ کو ایذاء پہنچانا اللہ کو ایذا پہنچانا ہے۔ 

اس آیت میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معصوم ہونے کی دلیل ہے ‘ کیونکہ آپ کی اطاعت کو اللہ تعالیٰ نے اپنی اطاعت قرار دیا ہے اور سورة آل عمران : ٣١‘ میں آپ کی اتباع کو واجب قرار دیا ہے ‘ اگر آپ کے قول یا عمل میں معصیت اور گناہ آسکے تو پھر معصیت اور گناہ میں بھی آپ کی اتباع واجب ہوگی اور یہ محال ہے۔ 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور جس نے پیٹھ پھیری تو ہم نے آپ کو اس کا نگران بنا کر نہیں بھیجا۔ اس آیت کی دو تفسیریں کی گئی ہیں : 

(١) اگر کوئی شخص زبان سے اسلام کو قبول کرلیتا ہے اور دل سے ایمان نہیں لاتا تو آپ اس نگران نہیں ہیں کیونکہ آپ کے احکام صرف ظاہر پر ہیں۔ 

(٢) اگر کوئی شخص آپ کی تبلیغ کے باوجود ظاہرا بھی اسلام نہیں لاتا تو آپ غم نہ کریں ‘ کیونکہ آپ کسی کو جبرا مسلمان بنانے والے نہیں ہیں اس کے بعد فرمایا : وہ آپ سے کہتے ہیں ہم نے اطاعت کی اور جب وہ آپ کے پاس سے اٹھ کر چلے جاتے ہیں تو۔ الخ۔ 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ منافقین موافقت اور اطاعت کو ظاہر کرتے ہیں اور جب آپ کے پاس سے اٹھ کر چلے جاتے ہیں تو اس کے خلاف کہتے ہیں۔ حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں یہ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کہتے تھے کہ ہم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے تاکہ اپنی جان اور مال کو محفوظ کرلیں ‘ اور جب آپ کے پاس سے چلے جاتے تو اس کے خلاف کہتے تھے۔ (جامع البیان ج ٥ ص ١١٣) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کو سرزنش فرمائی ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور اللہ اس کو لکھ لیتا ہے جو کچھ وہ رات کو کہتے ہیں ‘ اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کے ساتھ جو کراما کاتبین مقرر کیے ہیں وہ انکی باتوں کو لکھ لیتے ہیں ‘ اس کے بعد فرمایا آپ ان اعراض کیجئے اور اللہ پر توکل کیجئے ‘ یعنی آپ ان سے درگزر فرمائیں اور ان کا مواخذہ نہ کریں اور نہ (ابھی) ان کے نفاق کو لوگوں کے سامنے ظاہر کریں اور اللہ پر توکل کریں اور تمام معاملات کو اللہ پر چھوڑ دیں ‘ اللہ تعالیٰ ان کے شر کو آپ سے دور کرنے کے لیے کافی ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 80