آپ کو وضو و نماز سکھائی

حدیث نمبر :350

روایت ہے حضرت زید ابن حارثہ سے ۱؎ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی کہ حضرت جبریل پہلی وحی میں آپ کے پاس آئے ۲؎ تو آپ کو وضو و نماز سکھائی ۳؎ پھر جب وضو سے فارغ ہوئے تو پانی کا چلو لیا اورشرمگاہ پر چھڑکا ۴؎(احمدودارقطنی)

شرح

۱؎ آپ کی کنیت ابواسامہ ہے،آپ کی والدہ سعد بنت ثعلبہ ہیں،آپ کو آٹھ سال کی عمر میں قبیلہ بنی معن نے پکڑلیا،اور بازار عکاظ میں حکیم ابن خویلد کے ہاتھ چارسو درہم کے عوض فروخت کیا،حکیم نے آپ کو اپنی پھوپھی خدیجۃ الکبریٰ کے واسطے خریدا،جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بی بی خدیجہ رضی اللہ عنھا سے نکاح کیا تو انہوں نے حضرت زیدکوحضورصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نذرکردیا۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزادکرکے اپنا بیٹا بنالیا اور اپنی لونڈی ام ایمن سے نکاح کردیا،جس سے اسامہ ابن زید پیدا ہوئے پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کا نکاح زینب بنت جحش سے کردیا جو بعد میں حضور کے نکاح میں آئیں۔آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑے پیارےتھےحتی کہ آپ کا شمار اہل بیت پاک میں ہوتا ہے اور لوگ آپ کو زید ابن محمد کہا کرتے تھے۔تب یہ آیت اتری”اُدْعُوۡہُمْ لِاٰبَآئِہِمْ”تمام صحابہ رضی اللہ عنھم میں صرف آپ کا ہی نام قرآن پاک میں آیا ہے”فَلَمَّا قَضٰی زَیۡدٌ مِّنْہَا” آپ کی عمرپچپن سال ہوئی،جمادی الاولٰی ۸ھ ؁غزوۂ موتیٰ میں شہید ہوئے۔

۲؎ پہلی وحی سے مراد فرضیت نمازیعنی شبِ معراج کے بعد کی پہلی وحی ہے جو نبوت کے تیرھویں سال ہوئی،کیونکہ اس سے پہلے نہ نماز آئی تھی نہ وضو۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اجتہاد سے یہ سب کچھ کیا کرتے تھے۔لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ پہلی وحی”اِقْرَاۡ بِاسْمِ رَبِّکَ”ہے۔

۳؎ امت کی تعلیم کے لیئے ورنہ حضور خود تو پہلے ہی سب کچھ جانتے تھے،نبوت سے پہلے غارثور میں اعتکاف اور عبادت کرتے تھے،مگر اب یہ احکام شرعیہٍ بنے،لہذا جبرئیل امین نے سکھایا نہیں،بلکہ رب کی طرف سے پہنچایا،لہذا جبرائیل امین حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم ہیں،استاد نہیں،سکھانے والا رب ہے۔

۴؎ تاکہ حضور اپنی امت کو یہ سکھائیں۔اس کی شرح پہلے گزر چکی کہ یہ وسوسہ کا علاج ہے۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.