کافر نے موجودہ مسلمانوں پر اس طرح قبضہ جمایا کہ علما کے جذبات ٹھنڈے کردیے اور عوام کو نرم کردیا ۔

بہ قول سیداکبرالٰہ آبادی ؎

سر تراشا اُن کا ، کاٹا اِن کا پاؤں

وہ ہوئے ٹھنڈے ، گئے یہ بھی پگَھل

شیخ کو یَخ کردیا ، مومن کو موم۔۔۔۔۔۔۔۔

دونوں کی حالت گئی آخر بدَل !!

لفظِ شیخ تین حروف کا مجموعہ تھا ، اس کا سر کاٹا ( یعنی پہلا حرف شین مٹایا ) تو یہ یخ ہو گیا ۔

مطلب: موجودہ شیخ ، شیخ نہ رہا ، اس کی قائدانہ صلاحتیں ختم ہوگئیں ، مجاہدانہ جذبات یخ ٹھنڈے ہوگئے ، یہ بزدل بن گیا ۔

اور مومن چار حروف کامجموعہ تھا ، اس کا پاؤں کاٹا

( یعنی آخری حرف نون کاٹا ) تو پیچھے موم رہ گیا ۔

مطلب: بندۀ مومن کے دینی جذبات کو ” امن “ وغیرہ کے نام پر نرم کیا ، پھر انھیں پگھلا کر اپنی مرضی کے سانچے میں ڈھال دیا —

لقمان شاہد

20/2/2019 ء