حکایت نمبر156: یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے

حضرت سیدنا ابو صالح رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے مروی ہے کہ حضرت سیدناہقل بن زیاد اوزاعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے دورانِ وعظ ارشاد فرمایا: ”اے لوگو ! تم اللہ عزوجل کی ان نعمتوں کا بہت شکر ادا کرو جن کی وجہ سے تم اللہ عزوجل کی بھڑکائی ہوئی اس آگ سے دور کر دیئے گئے جو دلوں تک چڑھ جاتی ہے ۔ تم ایسے گھر میں ہو جس میں تھوڑی ہی دیر ٹھہرنا ہے اورتم بہت ہی قلیل عرصہ کے لئے ان لوگوں کے نائب بن کرـآئے ہو جن کی عمر یں تم سے زیادہ تھیں ، ان کے جسم تم سے زیادہ لمبے تھے، انہوں نے پہاڑوں کو کھود کر پھاڑ ڈالااور چٹانیں توڑ ڈالیں ۔وہ ایسے جنگجو اور بہادر تھے کہ شہرو ں میں پہنچ کر شدید حملہ کرتے ، ان کے اجسام ستونوں کی مانند تھے ۔ انہوں نے اس فانی دنیامیں بہت کم وقت گزارا ۔گردش ایا م نے ان کی طویل عمریں گھٹادیں، ان کے نشانات مٹادیئے، ان کے گھر وں کو ویران کردیا اور ان کے ذکر کو بھلادیا ۔ ان میں سے کوئی بھی باقی نہ رہا،جولوگ بہت گرجدارآواز میں باتیں کرتے تھے مرنے کے بعد کبھی ان کی دھیمی سی آواز بھی سنائی نہ دی ۔
وہ فضول امیدوں میں پڑے عیش وعشرت سے زندگی بسر کر رہے تھے۔ انہوں نے لوگوں کے انجام سے عبرت حاصل نہ کی اور غفلت کی وادیوں میں بھٹکتے رہے۔ پھر اچانک رات کے وقت ان پر اللہ عزوجل کاعذاب نازل ہو ا تو ان میں سے اکثر اپنے گھروں میں سوئے ہی رہ گئے(یعنی موت کے منہ میں اُتر گئے) ۔اور جو باقی رہ گئے تھے وہ عذاب کے آثار و نشانات ،زوالِ نعمت،اور تباہ وبرباد گھر وں کو دیکھنے لگے ۔ان باتوں میں ان لوگوں کے لئے عبرت و نشانیاں ہیں جو درد ناک عذاب سے ڈرتے ہیں ۔
ان کے بعد تمہاری عمریں کم ہوگئیں ہیں۔دنیا فناکی طرف بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔اب ہرطرف برائیوں کا دور دورہ ہے ۔ عفوو درگزر پیٹھ پھیر گیا ،خیر خواہی اور نرمی رخصت ہوگئی۔ اب عبرتناک ہولناکیاں ، مختلف قسم کی سزائیں ، فتنہ وفساد ، لغزشوں کی بھرمار اور گزرے ہوئے ان لوگوں کی بُر ی باتیں باقی رہ گئیں جن کی وجہ سے خشکی اور سمندر میں فساد برپا ہوا۔ اے لوگو! تم ان غافلوں کی طر ح نہ ہوجانا جنہیں طویل عمری کی جھوٹی امیدوں نے دھوکے میں ڈالے رکھا۔ ”
( اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اور تمہیں اطاعت گزاروں اور آخرت کی تیاری کرنے والوں میں شامل فرمائے۔ )
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبیالامین صلی اللہ تعالی علی وسلم)