مولا علی پاک رضی اللہ عنہ فرماتے تھے:

” اپنے دوست پر 20 درہم خرچ کرنا ، فقیروں میں 100درہم بانٹنے سے بہتر ہے ۔ “

حجة الاسلام امام غزالی رحمہ اللہ کہتےہیں:

دوستی کے دس حقوق ہیں ؛ پہلا حق مال سے تعلق رکھتاہے ، جس کا درجہ سب سے بڑا ہے ۔

دوست کو چاہیے اپنے دوست کا حق اپنےسے بڑھ کرسمجھے ، اور اپناحصہ بھی اسے دے دے ۔

جو چیز اپنی ضرورت سے زیادہ ہو ، بغیر مانگے دوست کو پیش کردے ۔

اگر دوست کو مانگ کر لینی پڑے تو یہ دوستی کے درجے سے باہر ہے ، کیوں کہ اِس کا دل ہمدردی سے محروم ہے ۔

دیکھیے: کیمیائے سعادت فارسی ، رکن دوم معاملات ، پیدا کردن حقوق صحبت و دوستی ، حق اول، ص 315 ، 316 ، مطبوعہ تہران ۔

لقمان شاہد

21/2/2019 ء