جہنم کی زنجیر

سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھوپڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:

“اگر اس کی مثل سیسے کا گولہ آسمان سے زمین کی طرف گرایا جائے، جو کہ 500 سال کی مسافت ہے، تو رات سے پہلے زمین پر پہنچ جائے، لیکن اگر جہنم کے سِرے سے ایک زنجیر لٹکا کر گرائی جائے تو 40 دن رات میں بھی اس کی تہہ تک نہ پہنچ سکے گا۔”

[الزواجر عن اقتراف الکبائر (مترجم) ج 2 ص 928]

اس حدیث کو امام احمد علیہ الرحمہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے [مسند احمد (ت شاکر) ج 6 ص 340 رقم الحدیث 6856] [ مسند احمد (ط الرسالۃ) ج 11 ص 443 رقم الحدیث 6856 ] اور امام ترمذی علیہ الرحمہ نے روایت کیا اور اسے “حسن” قرار دے دیا۔ [سنن الترمذی (ت شاکر) ج 4 ص 709 رقم الحدیث 2588] [ سنن الترمذی (ت بشار) ج 4 ص 290 رقم الحدیث 2588] اور سنن الترمذی کے بعض نسخوں میں “حسن صحیح” کے الفاظ بھی ہیں۔

اس روایت کو احمد شاکر نے صحیح قرار دے دیا ہے [مسند احمد (ت شاکر) ج 6 ص 340 رقم الحدیث 6856] اور شعیب الارنوؤط نے حسن قرار دے دیا ہے [مسند احمد (ط الرسالۃ) ج 11 ص 443 رقم الحدیث 6856]

جب کہ البانی صاحب نے تو اس روایت ضعیف قرار دے دیا ہے۔ [حاشیہ سنن الترمذی (ت شاکر)ج 4 ص 709 رقم الحدیث 2568]

میری تحقیق کے مطابق البانی صاحب کا اس روایت کو ضعیف کہنا غلط ہے کیونکہ دراج بن سمعان پر کچھ ائمہ کا کلام ہے لیکن امام ذہبی اور امام ابن حجر نے اس کلام کو صرف ابوالہیثم کی روایت تک مخصوص کر دیا ہے۔[ الکاشف رقم 1473] [تقریب التہذیب رقم 1824]۔ صرف ابو الہیثم کی روایت میں اختلاف ہے امام احمد اور امام داود وغیرہ تضعیف کے قائل ہیں جب کہ امام ابن معین، امام ابن شاہین اور امام حاکم وغیرہ تصحیح کے قائل ہیں۔

لیکن اس روایت کو دراج بن سمعان نے ابوالہیثم سے بیان نہیں ہے اس لیے اس پر اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ہے لہذا یہ روایت سندا حسن ہے۔

واللہ اعلم

✍رضاءالعسقلانی غفراللہ لہ

21 فروری 2019ء