*درس 033: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مَطْلَبٌ فِي الِاسْتِنْجَاءِ

(وَمِنْهَا): الِاسْتِنْجَاءُ بِالْمَاءِ لِمَا رُوِيَ عَنْ جَمَاعَةٍ مِنْ الصَّحَابَةِ مِنْهُمْ عَلِيٌّ، وَمُعَاوِيَةُ، وَابْنُ عُمَرَ، وَحُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا يَسْتَنْجُونَ بِالْمَاءِ بَعْدَ الِاسْتِنْجَاءِ بِالْأَحْجَارِ، حَتَّى قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَعَلْنَاهُ فَوَجَدْنَاهُ دَوَاءً، وَطَهُورًا

استنجا کا بیان:

پانی سے استنجا کرنا( بھی) سنت ہے، اس لئے کہ صحابہ کرام کی ایک جماعت سے مروی ہے جن میں حضرت علی، حضرت معاویہ، حضرت عبد اللہ بن عمر، حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہم شامل ہیں، یہ سب ڈھیلوں سے استنجا کے بعد پانی سے بھی استنجا کیا کرتے تھے، حتی کہ حضرت عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نے ایسا کیا اور اس طریقہ کو دوا اور طہارت کا ذریعہ پایا۔

وَعَنْ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ النَّاسَ بِالِاسْتِنْجَاءِ بالماءِ بَعْد الإستنجاءِ بِالْأَحْجَارِ، وَيَقُولُ: إنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانَ يَبْعَرُ بَعْرًا، وَأَنْتُمْ تَثْلِطُونَ ثَلْطًا فَأَتْبِعُوا الْحِجَارَةَ الْمَاءَوَهُوَ كَانَ مِنْ الْآدَابِ فِي عَصْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

اور حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ لوگوں کو حکم دیا کرتے تھے کہ ڈھیلوں سے استنجا کے بعد پانی سے بھی استنجا کیا کریں اور فرماتے تم سے پہلے کے لوگ مینگنیوں کی طرح (سخت) فضلہ خارج کرتے تھےاور تم لوگ پتلا فضلہ خارج کرتے ہو، تو ڈھیلوں کے بعد پانی سے استنجا کیا کرو۔

اور رسول اللہ ﷺ کے زمانہ مبارکہ میں یہ طریقہ آداب میں سے شمارہوتا تھا۔

وَرُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ، وَغَسَلَ مَقْعَدَهُ بِالْمَاءِ ثَلَاثًا»، وَلَمَّا نَزَلَ قَوْله تَعَالَى {فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ} [التوبة: 108] فِي أَهْلِ قِبَا سَأَلَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَأْنِهِمْ، فَقَالُوا: إنَّا نُتْبِعُ الْحِجَارَةَ الْمَاءَ.

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہابیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے وضو فرمایا اوراپنے مقعد شریف (بیٹھنے کی جگہ) کا پانی سے تین بار استنجافرمایا۔

پھر جب اہلِ قبا کے حق یہ آیت نازل ہوئی: “اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں اور اللہ پاک رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے” (التوبہ، 108) تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے اس کا سبب دریافت فرمایا، تو انہوں نے کہا: ہم ڈھیلوں سے استنجا کے بعد پانی سے استنجا کرتے ہیں۔

ثُمَّ صَارَ بَعْدَ عَصْرِهِ مِنْ السُّنَنِ بِإِجْمَاعِ الصَّحَابَةِ كَالتَّرَاوِيحِ

پھررسول اللہ ﷺ کے بعد پانی سے استنجا کرنا صحابہ کرام کے اجماع کے سبب سنت قرار پایا، جیسے نمازِتروایح کی جماعت۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

*پانی سے استنجا*

جیسا کہ ہم نے پچھلے دروس میں ذکر کیا کہ نجاست سے پاکیزگی حاصل کرنا اصل مقصد ہے، جس کا سب سے بہترین ذریعہ پانی ہے۔۔لیکن نجاست تھوڑی لگی ہو تو اس کے لئے ڈھیلے کو بھی روا رکھا گیا ہے تاکہ نجاست کو پونچھ کر طہارت حاصل کی جاسکے۔

*استنجا ڈھیلے سے یا پانی سے۔۔؟*

نبی کریمﷺسے دونوں طریقے ثابت ہیں، آپ نے ڈھیلوں سے بھی استنجا فرمایا ہے اور پانی سے بھی استنجا فرمایا ہے۔

مسند امام احمد، ترمذی، نسائی وغیرہم میں حدیث موجود ہے کہ حضرت عائشہ نے عورتوں کو فرمایا کہ اپنے خاوندوں کو کہو کہ وہ قضاء حاجت اور پیشاب کا اثر پانی سے دھولیا کریں کیونکہ نبی کریمﷺ بھی یونہی کرتے تھے۔

ابوداؤد اور ابن ماجہ کی حدیث ہے فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کے لئے پانی لیکر کھڑے ہوگئے، بعد فراغت حضور ﷺ نے فرمایا: عمر یہ کس لئے؟ عرض کیا: تاکہ آپ اس سے طہارت حاصل کرسکیں، ارشادفرمایا: مجھے اس بات کا حکم نہیں دیا گیا کہ جب بھی پیشاب کروں تو پانی سے طہارت حاصل کروں۔

صحابہ کرام علیہم الرضوان کا طرزِعمل بھی مختلف تھا۔

*بعض صحابہ کرام ڈھیلے اور پانی دونوں کا استعمال فرماتے جیسے اہلِ قبا کے لوگ۔۔ علامہ عینی نے لکھا ہے کہ انصار صحابہ کرام ڈھیلوں اور پانی دونوں کا استعمال کیا کرتے تھے اور انہی کے حق میں سورہ توبہ کی آیت 108 نازل ہوئی۔

*بعض صرف ڈھیلوں کا استعمال فرماتے جیسے حضرت عمر فاروق۔

*بعض صرف پانی کا استعمال فرماتے جیسے حضرت عائشہ۔

رضی اللہ عنہم اجمعین۔

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ استنجا کے تین درجات ہیں:

*پہلادرجہ:* پہلے ڈھیلے سے استنجا کیا جائے پھر پانی سے استنجا کیا جائے، یعنی ڈھیلے اور پانی دونوں کوجمع کرلیا جائے، یہ طریقہ مسجدِ قبا کے نمازی صحابہ کرام علیہم الرضوان کا طریقہ تھا جس کی اللہ تبارک و تعالی نے تعریف فرمائی اور ان کے حق میں آیت نازل فرمائی جو اوپر مذکور ہے۔ لہذا یہ سب سے افضل طریقہ ہے۔ (حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح)

*دوسرا درجہ:* اس کے بعد پانی سے استنجا افضل ہے، اسلئے کہ اس سے بہت اچھے انداز پر طہارت حاصل ہوجاتی ہے۔ (الاختیارلتعلیل المختار)

*تیسرا درجہ:* سب سے آخری درجہ ڈھیلوں کا ہے، یہ رسول اللہ ﷺ سے منقول اور بہت سے صحابہ کرام کا اسی پر عمل تھا۔

*پانی سے استنجا سنت میں شامل ہے یا آداب میں۔۔؟*

مطالعہ کے دوران فقہاء کرام کی مختلف رائے میرے سامنے آئیں، بعض فقہاء نے ڈھیلے کو دائمی سنت (راتبہ) شمار کیا اور پانی کو ادب اور فضیلت والی چیز قراردیا ہے جیسے علامہ سرخسی نے المبسوط میں لکھا ہے۔

بعض نے مزید اضافہ کیا کہ صحابہ کرام کے زمانے میں ڈھیلوں سے استنجا سنت شمار کیا جاتا اور پانی آداب میں شمار کیا جاتا لیکن ہمارے زمانے میں پانی سے استنجا کرنا ہی سنت ہے، اسی کی طرف امام حسن بصری نے اشارہ کرتے ہوئے عقلی توجیہ بھی بیان کی کہ صحابہ کرام کے زمانے میں لوگوں کا فضلہ مینگنیوں کی طرح سخت ہوتا تھا لہذا انہیں پانی کی اتنی حاجت نہیں ہوتی اور کوئی کرلے تو آداب کا حصہ شمار ہوتی لیکن تم لوگوں کا فضلہ (غذا کی وجہ سے) پتلا ہوتا ہے لہذا پانی استعمال کرنا ہی سنت ہے۔۔ علامہ کاسانی نے اسی اختلاف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کلام فرمایا ہے۔

لیکن صحیح اور مفتی بہ قول یہی ہے کہ پانی سے استنجا ہر زمانے میں سنت رہا ہے کسی زمانے کے ساتھ خاص نہیں۔ (رد المحتاروغیرہ)

نفسِ سنت پانی یا ڈھیلے کسی سے بھی ادا ہوجائے گی۔ (فتاوی رضویہ)

ہاں فضیلت کے درجات ہم نے دلائل کے ساتھ اوپر ذکر کردئے ہیں۔

علامہ کاسانی نے ایک اور عمدہ توضیح پیش کردی اور پانی کو آداب میں شمار کرنے والوں کو جواب بھی دے دیا کہ اگرچہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ڈھیلوں سے استنجا رائج تھا اور پانی سے استنجا آداب سے شمار ہوتا تھا مگر بعد میں صحابہ کرام علیہم الرضوان پانی کے ساتھ استنجا پر عمل پیرا ہوگئے تو ان کے اجماع کے سبب اسے بھی سنت کا درجہ حاصل ہوگیا، جیسے تراویح کی جماعت کا مسئلہ تھا۔

*ابو محمد عارفین القادری*