قرآنی تعارض پر ایک سوال اور مسئلہ حساب و کتاب اور قضاء قدر:

اعتراض:

قرآن میں ہے:

“وما تشاؤون إلا أن يشاء الله..” (سورۃ انسان ، 30 )

یہ آیت بتارہی ہے کہ ہوتا وہی جسکو اللہ چاہتا ہے تو جب جو وہ چاہتا ہے وہی ہونا ہے تو ہمارا حساب کیوں ؟

پھر دوسری آیت میں ہے :

“وقل الحق من ربكم فمن شاء فليؤمن ومن شاء فليكفر..” ( سورۃ کھف ، 29 )

اس آیت میں اللہ مشیئت کی نسبت مخلوق کی طرف کررہا ہے اور پہلی آیت میں أپنی ذات کی طرف تو اس طرح قرآن کی دونوں آیات میں تعارض ہوا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب أز ابن طفیل الازہری ( محمد علی):

محترم دوست!

مختصراً یہ بتاتا چلوں کہ انسان کے مختلف مجالات ہیں ایک من مجال خلقت ، ایک مجال تکلیف ( شریعت کا پابند ہونا) ، ایک مجال عدم ( موت)

أب قضاء و قدر کو ان تین مجالات کی روشنی میں سمجھیں:

پہلا مجال خلقت:

انسان مجال خلقت میں آزاد نہیں ، یعنی اپنی ولادت ، أپنی جنڈر اپنی لمبائی و ہائٹ وغیرہ لہذا اس میں انسان مجبور ہے وہ چاہے جتنے بھی آزادی کے نعرے لگا لے وہ اس میں بے بس ہے اور مجبور ہے اسکو کوئی اختیار حاصل نہیں ، لہذا حریت مطلقہ کا خیال طبعی طور پہ باطل ہے۔

دلیل:

” لِّلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ ۚ يَهَبُ لِمَن يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَن يَشَاءُ الذُّكُورَ “

( سورۃ شوری ، 49 )

ترجمہ: زمین و آسمان اللہ کی ملکیت ہیں ، جو وہ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے ، جسے چاہے بیٹی عطاء کردے جیسے چاہے بیٹا دے دے۔ ( اور یہی آیت دیگر مخلوق کے لیے بھی ہے )

دوسرا مجال عدم:

اسی طرح انسان مجال عدم یعنی موت میں بھی مجبور ہے اور اسے کوئی آزادی حاصل نہیں وہ اپنے اختیار سے اپنی موت اور اسکے مکان و وقت کا تعین نہیں کرسکتا لہذا وہ تقدیر الہٰی میں مجبور ہے وہ اسی کے سامنے سر تسلیم خم ہے۔

دلیل:

” أَيْنَمَا تَكُونُوا يُدرِككُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنتُمْ فِي بُرُوجٍ مُّشَيَّدَةٍ۔۔”

( سورۃ نساء ، 78 )

ترجمہ:

تم جہاں بھی ہو موت تمہیں پالے گی اگر چہ تم كتنے ہی مضبوط قلعے ( محلات) میں ہوں۔

مجال خلقت و عدم پر خود بداہت دلیل جلی ہے۔

تیسرا مجال تکلیف:

مجال تکلیف یعنی مکلف ہونا مطلب یہ کہ اللہ کے أحکام کی اتباع کرنا ، اس مجال میں انسان آزاد ہے کیونکہ اسے اختیار حاصل ہے کہ وہ ظلم کرے یا عدل، جھوٹ بولے یا سچ ، قتل کرے یا جان کی حفاظت اس میں اسے اختیار حاصل ہے

اس مجال میں وہ تقدیر کے سامنے مجبور نہیں اور یہ منطقی طور پہ ثابت ہے کہ بعض اوقات انسان جھوٹ کو ترک کرکے سچ بولتا ہے ، قتل کو چھوڑ کر جان کی حفاظت کرتا ہے تو یہ دلیل ہے کہ وہ آزاد ہے مجبور نہیں ۔

اس پر کافی دلائل ذکر کیے ہیں قرآن نے کیوں محاسبہ کا مدار اسی پر ہے کچھ دلائل درج ذیل ہیں :

” وهديناه النجدين “

(بلد ،10 )

ترجمہ:

ہم نے اس ( انسان) کو واضح دو ( خیر وبد) رستوں ( میں فرق کرنے کی) ہدایت دی.

“فألھمھا فجورھا وتقواھا”

(شمس ، 8 )

ترجمہ:

أس ( اللہ رب العزت) نے أس ( نفس انسانی) کو بدی وہ نیکی کا إلہام کردیا.

“وقل الحق من ربکم فمن شاء فلیؤمن۔۔۔۔۔”

( اس آیت کا نمبر سؤال میں درج ہے)

ترجمہ:

آپ فرمادیں! حق تمہارے رب کی طرف سے ہے پس جو چاہے ایمان لے آئے اور جو چاہے کفر اختیار کرے۔

” لا إكراه في الدين قد تبين الرشد من الغي …..”

( بقرۃ ، 256 )

ترجمہ:

دین میں ( داخل ہونے کے لیے )کوئی جبر نہیں ، تحقیق ہدایت گمراہی سے واضح ہوچکی ہے۔

اب آپ کے سؤال کی طرف آتے ہیں کہ محاسبہ کیوں؟

آپ نے دیکھا کہ انسان مجال خلقت اور مجال عدم میں مجبور ہے

تو لہذا ان دونوں مجالات میں کوئی محاسبہ نہیں ،

اللہ آپ سے آپکے رنگ مکان ولادت قد و قامت کے متعلق سوال نہیں کرے گا اور نہ محاسبہ اور اسی طرح نہ ہی آپکی موت کے متعلق کہ اس وقت کیوں فوت ہوئے؟ اس جگہ کیوں فوت ہوئے؟

اس کا بھی سؤال نہیں ہوگا کیونکہ انسان مجبور ہے تو لہذا اس میں محاسبہ نہیں ہے ، اگر اس میں محاسبہ ہوتا تو پھر آپکا اعتراض بنتا تھا ،کیونکہ ان دو مجالات میں محاسبہ کرنا گویا کہ ظلم ہے ، اس لیے کوئی حساب کتاب نہیں۔

اب بچا تیسرا مجال وہ مجال تکلیف یعنی احکام شریعت کی پابندی تو اس میں انسان آزاد ہے جیسے ہم نے وضاحت کی تو جب وہ آزاد ہے تو شر و خیر کے متعلق بھی اسے بتادیا گیا تو اب اسکے خیر و شر کا حساب ہوگا ، اور یہ حساب اسکی آزادی کی وجہ سے ہے۔

اب اعتراض ہوگا کہ شر کو اللہ نے پیدا کیا تو پھر حساب کیسا؟

جواب:

پہلی بات تو اس میں اختلاف ہے کیونکہ شر ایک اضافی نسبت کا نام ہے،

اور اگر مان بھی لیں تو اس نے شر کو مستقل پیدا کیا ہے لیکن ہمیں اسی شرکو کرنے پر مجبور نہیں کیا بلکہ بتایا ہے کہ یہ شر ہے اور یہ خیر اور ہمیں آزادی دے دی کہ جو چاہو کرو کیونکہ شر و خیر مجال تکلیف میں آتے ہیں،

اور اس میں ہمیں آزادی ہے لیکن شر پر سزا ہے اور خیر پر جزاء تو لہذا جب ہم آزاد ہیں تو پھر حساب کرنا عدل کا تقاضا ہے ،

اور یہ حساب صرف مجال تکلیف میں ہے مجال خلقت و مجال عدم میں نہیں کیونکہ ان دونوں میں ہم مجبور ہیں لہذا محاسبہ سے آزاد ہیں۔

دوسرا:

آپ نے دو آیات کے تعارض کی بات کی۔

تو اگر اب آپ پہلے سؤال کے جواب میں غور فرمائیں تو آپکو معلوم ہوجائے گا کہ دونوں آیات میں کوئی تعارض نہیں مجال خلقت و مجال عدم اور مجال تکلیف کو دیکھتے ہوئے۔

دوسرا اس کا جواب یہ ہے کہ :

مجال تکلیف میں جو ہمیں مشیئت کی آزادی ہے یہ بھی اللہ کی مشیئت کی وجہ سے عطاء ہوئی تو جس میں مشیئت کی نسبت اللہ کی طرف ہے وہ مجال خلقت و عدم و مجال تکلیف میں ذاتی اعتبار سے ہے ،

اور جس آیت میں مشیئت کی نسبت مخلوق کی طرف ہے تو وہ مجال تکلیف میں عطائی ہے

تو جب اس نے ہمیں مجال تکلیف میں آزادی دی ہے تو ضروری ہے کہ اسکا محاسبہ بھی وہ کرے اور یہی عدل کا تقاضا ہے

لہذا دونوں آیات تعارض سے پاک ہیں اور حکمت بلیغ کی طرف اشارہ کررہی ہیں۔

واللہ أعلم.