أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ‌ؕ لَيَجۡمَعَنَّكُمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ لَا رَيۡبَ فِيۡهِ‌ؕ وَمَنۡ اَصۡدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِيۡثًا  ۞

ترجمہ:

اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے وہ ضرور تم سب کو قیامت کے دن جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں ہے اور کون ہے جس کی بات اللہ سے زیادہ سچی ہو۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے وہ ضرور تم سب کو قیامت کے دن جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں ہے اور کون ہے جس کی بات اللہ سے زیادہ سچی ہو۔ (النساء : ٨٧) 

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے سلام کا احسن طریقہ سے جواب دینے کا حکم دیا تھا ‘ اس کا تقاضا یہ ہے کہ جو اجنبی شخص تم کو سلام کرے تم اس کو مسلمان جانو ‘ اور یہ نہ سمجھو کہ اس نے جان بچانے کے لیے سلام کیا ہے اور اس کے دل میں کفر ہے کیونکہ باطن کا حال صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے ‘ اور جس نے اسلام کو ظاہر کیا اور باطن میں وہ کافر تھا اس کا حساب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لے گا ‘ اس لیے اس کے بعد قیامت کا ذکر کیا اور فرمایا اور کون ہے جس کی بات اللہ سے زیادہ سچی ہو ‘ لہذا ہم یہاں اللہ تعالیٰ کے صدق کے متعلق گفتگو کرنا چاہتے ہیں۔ 

امتناع کذب کا بیان :

اللہ تعالیٰ واجب بالذات ہے اور اس کی تمام صفات قدیم اور واجب بالذات ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ کا صدق بھی قدیم اور واجب بالذات ہے اور کذب صدق کی نقیض ہے جب کذب آئے گا تو صدق نہیں رہے گا اور کذب آ نہیں سکتا لہذا صدق جا نہیں سکتا ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ کا کذب ممتنع بالذات ہے۔ 

امتناع کذب پر امام رازی کے دلائل : 

امام فخرالدین محمد عمر رازی متوفی ٦٠٦ لکھتے ہیں : 

اس آیت سے مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا صدق واجب ہے اور اس کے کلام میں کذب اور خلف محال ہے ‘ ہمارے اصحاب کی دلیل یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کاذب ہو تو اس کا کذب قدیم ہوگا اور جب اس کا کذب قدیم ہوگا تو اس کا زوال ممتنع ہوگا ‘ کیونکہ قدیم کا عدم ممتنع ہے ‘ اور جب کذب کا زوال ممتنع ہوگا تو اس کا صدق ممتنع ہوگا ‘ کیونکہ ایک ضد کا وجود دوسری ضد کے وجود سے مانع ہے ‘ اس لیے اللہ کو کاذب مانا جائے تو اس کا صادق ہونا ممتنع ہوگا ‘ لیکن اس کا کذب ممتنع ہے کیونکہ ہم بالبداہت جانتے ہیں کہ جس شخص کو کسی چیز کا علم ہو وہ اس علم کے مطابق اس چیز کی خبر دے سکتا ہے اور یہی صدق ہے اور جب اللہ تعالیٰ کا صادق ہونا ثابت ہوگیا تو اس کا کاذب ہونا ممتنع ہوگیا۔ (تفسیر کبیر ج ٣ ص ٢٨١‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨) 

نیز ہم یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں کذب ممکن بھی نہیں ہے کیونکہ کذب کا امکان صدق عدم کے امکان کو مستلزم ہے اور اللہ تعالیٰ کا صدق واجب ہے اور قدیم ہے اس کا عدم اور سلب ممکن نہیں ہے لہذا اس کے کلام میں کذب بھی ممکن نہیں ہے۔ 

امتناع کذب پر علامہ تفتازانی کے دلائل : 

علامہ سعد الدین مسعود بن عمر رازی تفتازانی متوفی ٧٩٣ ھ لکھتے ہیں : 

اللہ تعالیٰ کا کلام ازل میں ماضی ‘ حال اور استقبال کے ساتھ متصف نہیں تھا ورنہ لازم آئے گا کہ ازل میں اللہ کا کلام مثلا فعصی فرعون ” فرعون نے معصیت کی “ کاذب ہو کیونکہ ازل میں فرعون تھا نہ اس نے معصیت کی تھی ‘ اور اللہ تعالیٰ کا کذب محال ہے اولا ‘ اس لیے کہ اس پر علماء کا اجماع ہے ‘ ثانیا اس لیے کہ معجزہ کی دلالت سے انبیاء (علیہم السلام) کی خبروں کا صدق تواتر سے ثابت ہے اور ان کا صدق اللہ کے کلام پر موقوف نہیں ہے چہ جائیکہ وہ اللہ کے کلام کے صدق پر موقوف ہو ‘ ثالثا اس لیے کہ تمام عقلاء کا اس پر اتفاق ہے کہ کذب نقص ہے اور نقص اللہ پر محال ہے کیونکہ نقص عجز ‘ جہل یا عبث کو مستلزم ہے ‘ رابعا ‘ اس لیے کہ اگر ازل میں اللہ تعالیٰ کی خبر کاذب ہو تو ازل میں اس کا صدق ممتنع ہوگا ‘ کیونکہ جس چیز کا قدم ثابت ہو اس کا عدم ممتنع ہوتا ہے ‘ جب ازل میں اللہ تعالیٰ صادق ہے تو ازل میں کذب محال ہوگا۔ (شرح المقاصد ملخصا ج ٤ ص ١٥٩۔ ١٥٨‘ مطبوعہ ایران) 

امتناء کذب پر میر سید شریف کے دلائل :

علامہ میر سید شریف علی بن محمد جرجانی متوفی ٨١٢ ھ لکھتے ہیں : 

ہمارے نزدیک اللہ تعالیٰ پر کذب کے محال ہونے کی تین دلیلیں ہیں :

(١) پہلی دلیل یہ ہے : کہ کذب نقص ہے اور نقص اللہ تعالیٰ پر محال ہے نیز اگر اللہ تعالیٰ کے کلام میں کذب واقع ہو تو لازم آئے گا کہ بعض اوقات ہم اللہ تعالیٰ سے زیادہ کامل ہوں یعنی جس وقت ہمارا کلام صادق ہو (اور اس کا کلام کاذب ہو) 

(٢) دوسری دلیل یہ ہے : کہ اگر اللہ تعالیٰ کذب سے متصف ہو تو اس کا کذب قدیم ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ حوادث قائم نہیں ہوسکتے اور جب اس کا کذب قدیم ہوگا تو اس کا صدق سے متصف ہونا محال ہوگا جو کذب کا مقابل ہے ورنہ اس کی صفت کذب کا زوال ممکن ہوگا اور ہم پہلے اس کے زوال کو محال فرض کرچکے ہیں کیونکہ اس کی صفات قدیم ہیں اور جس کا قدم ثابت ہو اس کا عدم ممتنع ہوتا ہے اور لازم باطل ہے یعنی اللہ پر صدق کا ممتنع ہونا باطل ہے کیونکہ ہم بالبداہت جانتے ہیں کہ جس کو کسی چیز کا علم ہو اس کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ اس علم کے مطابق خبر دے۔ 

(٣) اور تیسری اور متعمد دلیل جو کلام لفظی اور کلام نفسی دونوں میں کذب بالبداہت معلوم ہے اور اس پر کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے ‘ لہذا ہم یہ کہتے ہیں کہ تواتر سے منقول ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے کلام میں صادق ہے ‘ جس طرح تواتر سے یہ منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ متکلم ہے ‘ اگر اس دلیل پر یہ اعتراض کیا جائے کہ انبیاء (علیہم السلام) کے صادق ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تصدیق کی اور ان کو صادق فرمایا اب اگر اللہ کا صادق ہونا اور اس پر کذب کا ممتنع ہونا انبیاء (علیہم السلام) کے قول اور ان کی خبر سے ثابت ہو تو یہ دور ہوجائے گا انبیاء کا صادق ہونا اللہ کی خبر پر اور اللہ کا صادق ہونا انبیاء کی خبر پر موقوف ہوا اور یہ کسی شے کا اپنے نفس پر موقوف ہونا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کا صدق اللہ کی تصدیق پر موقوف نہیں ہے بلکہ معجزہ کی دلالت پر موقوف ہے ‘ انبیاء (علیہم السلام) اپنے دعوی نبوت پر معجزہ خارق عادت پیش کرتے ہیں جس سے ان کا صدق ثابت ہوتا ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ کا صادق اور متکلم ہونا انبیاء (علیہم السلام) کی خبر پر موقوف ہے ‘ وہ خبر دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ متکلم اور صادق ہے۔ (شرح موافق ج ٨ ص ١٠٣۔ ١٠١‘ مطبوعہ ایران) 

شرح مواقف کے دلائل پر علامہ میر سید شریف کے اعتراضات 

صاحب مواقف نے امتناع کذب پر پہلی دلیل یہ قائم کی کہ کذب نقص ہے اور نقص اللہ پر محال ہے ‘ پھر اس پر یہ اعتراض کیا کہ کلام نفسی میں کذب نقص ہے کلام لفظی میں کذب نقص نہیں ہے ‘ کیونکہ جائز ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی جسم میں کلام کاذب پیدا کردے ‘ اس کا جواب یہ دیا کہ کلام کاذب کو پیدا کرنا بھی نقص ہے اور وہ اللہ پر محال ہے ‘ ثابت ہوا کہ اللہ کے کلام میں کذب مطلقا محال ہے ‘ اس پر علامہ میر شریف نے یہ اعتراض کیا کہ اشاعرہ افعال کا حسن اور قبح شرعی مانتے ہیں اور قبح عقلی کے قائل نہیں ہیں اور قبح عقلی اور نقص میں کوئی فرق نہیں ہے اور جب اللہ پر قبح عقلی جائز ہے تو اس پر نقص بھی جائز ہونا چاہیے اور جب اللہ پر نقص جائز ہوگیا تو اس کے کلام میں کذب کا ممتنع ہونا ثابت نہیں ہوا۔ (شراح المواقف ج ٨ ص ١٠٣ مطبوعہ ایران) 

علامہ میر سید شریف کے اعتراضات کے جوابات :

ماتریدیہ یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جس چیز کا حکم دیا ہے وہ فنی نفسہ حسن ہے اور جس چیز سے منع کیا ہے وہ فی نفسہ قبیح ہے مثلا منعم کا شکر ادا کرنا حسن ہے اگر اللہ تعالیٰ اس کا حکم نہ بھی دیتا تب بھی فی نفسہ حسن ہی رہتا اور قتل ناحق فی نفسہ قبیح ہے اگر اللہ تعالیٰ اس سے منع نہ بھی فرماتا تب بھی یہ قبیح ہی رہتا ‘ کیونکہ اول الذکر کے حسن اور ثانی الذکر کے قبح کا ادراک کرنے میں عقل مستقل ہے اور یہ معنی ہے ان کے اس قول کا کہ افعال کا حسن اور قبح عقلی ہے ‘ اور اشاعرہ یہ کہتے ہیں کہ حسن اور قبح شرعی ہے یعنی جس کا شارع نے حکم دیا ہے وہ حسن ہے اور جس سے منع کیا ہے وہ قبیح ہے عقل کا اس میں کوئی دخل نہیں ‘ اگر بالفرض شارع قتل ناحق کا حکم دیتا تو وہ حسن ہوتا اور شکر منعم یا عبادت کرنے سے منع کرتا تو ہو قبیح ہوتی۔ اور اس بحث میں حسن کا معنی ہے جس کام کی وجہ سے انسان دنیا میں مدح کا اور آخرت میں ثواب کا مستحق ہو اور قبیح کا معنی ہے جس کام کی وجہ سے انسان دنیا میں مذمت کا اور آخرت میں عذاب کا مستحق ہو ‘ اس حسن اور قبح کو اشاعرہ کہتے ہیں کہ شرعی سے عقلی نہیں ہے یعنی عقل اس کے ادراک میں مستقل نہیں ہے مثلا عقل کیسے جان سکتی ہے کہ تیمم سے طہارت حاصل ہوجاتی ہے یا موزہ کے اوپر کے حصے پر مسح کرنے سے طہارت ہوجاتی ہے یا سونے اور ہوا خارج ہونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ اس لیے ان کا حسن اور قبح شرعی ہے اور ماتریدیہ یہ کہتے ہیں کہ افعال کا حسن اور قبح عقلی ہے یعنی عقل ‘ ان کے حسن اور قبح کی ادراک میں مستقل ہے۔ اشاعرہ اور ماتریدیہ کا افعال کے حسن اور قبح کے عقلی ہونے یا نہ ہونے کا اختلاف اسی معنی میں ہے۔ 

حسن کا دوسرا معنی ہے صفت کمال جیسے علم اور صدق ‘ قبح کا دوسرا معنی ہے صفت نقصان جیسے جہل اور کذب اس میں ماتریدیہ اور اشاعرہ سمیت تمام عقلاء کا اس پر اتفاق ہے کہ ان کا حسن اور قبیح عقلی ہے اور جب یہ واضح ہوگیا تو مواقف میں جو یہ لکھا ہے کہ کذب نقص ہے اور یہ اللہ تعالیٰ پر محال ہے پھر اس پر یہ اعتراض کیا ہے کہ کذب کا نقص ہونا تو قبح عقلی ہے اور اس کو اشاعرہ نہیں مانتے یہ اعتراض صحیح نہیں ہے کیونکہ اشاعرہ حسن اور قبح جس معنی کو شرعی کہتے ہیں اور اس کے عقلی ہونے کی نفی کرتے ہیں وہ اور معنی ہے ‘ وہ یہ ہے کہ جس کام کی وجہ سے انسان دنیا میں مذمت اور آخرت میں عذاب کا مستحق ہو وہ قبیح ہے اور جس کیوجہ سے دنیا میں میں تعریف اور آخرت میں ثواب کا مستحق ہو وہ حسن ہے اور ظاہر ہے کہ اللہ کے لیے اس معنی کے لحاظ سے نہ کوئی فعل حسن ہے نہ قبیح ‘ اللہ تعالیٰ کے لحاظ سے حسن وہ فعل ہے جس میں کمال ہو اور قبیح وہ ہے جس میں نقص ہو اور اس معنی کے لحاظ سے حسن اور قبح کا عقلی ہونا اشاعرہ سمیت سب کے نزدیک مسلم ہے اس لیے کذب صفت نقص ہے اور نقص اللہ پر محال ہے اور اس دلیل پر کوئی اعتراض نہیں ہے ‘ مسلم الثبوت اور اس کی شروحات میں بھی یہی لکھا ہے لیکن ہم نے قارئین کی سہولت کے لیے اس کو بہت آسان ‘ سہل اور واضح کرکے پیش کیا۔ (شرح مسلم الثبوت للخیر آبادی ص ٨٣۔ ٥٢ ملخصا مطبوعہ کوئٹہ ‘ فوتح الرحموت مع المتصفی ج ١ ص ٤٦۔ ٢٦‘ ملخصا مطبوعہ مصر) 

صاحب مواقف نے دوسری دلیل یہ قائم کی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ کذب سے متصف ہو تو اس کا کذب قدیم ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ حوادث قائم نہیں ہوسکتے اور جب اس کا کذب قدیم ہوگا تو اس کا صدق سے متصف ہونا محال ہوگا ‘ جو کذب کا مقابل ہے اور اگر کذب قدیم نہ ہو تو اس کا زوال ممکن ہوگا اور ہم پہلے فرض کرچکے ہیں کہ کذب اس کی صفت ہے اور قدیم ہے اور جس کا قدم ثابت ہو اس کا عدم ممتنع ہوتا ہے پس اگر کذب کو اللہ کی صفت مانا جائے تو اس کا صادق ہونا محال ہوگا اور یہ باطل ہے کیونکہ ہم بداھۃ جانتے ہیں کہ جس کو کسی چیز کا علم ہو وہ اس کے مطابق خبر دے سکتا ہے۔ 

علامہ سید شریف نے اس دلیل پر یہ اعتراض کیا ہے کہ اس دلیل سے یہ لازم آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کلام نفسی میں کذب محال ہو ‘ کیونکہ قدیم کلام نفسی ہے ‘ رہا کلام لفظی تو وہ مخلوق اور حادث ہے اور کلام لفظی جو صادق ہو وہ ممکن اور حادث ہونے کی وجہ سے زائل بھی ہوسکتا ہے اور کلام لفظی میں صدق کے زوال کا امکان بعینہ کذب کا امکان ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ ہم مانتے ہیں کہ اللہ کا کلام لفظی صادق اور حادث ہے اور حادث کا زوال بھی ممکن ہے لیکن کلام صادق کے زوال سے کلام کاذب کا امکان لازم نہیں آتا ‘ کیونکہ کذب کا معنی ہے ایسی خبر جو واقع کے خلاف ہو اور کلام صادق کے زوال اور عدم کے امکان سے یہ کب لازم آتا ہے کہ ایسی خبر وجود میں آجائے جو واقع کے خلاف ہو ‘ خلاصہ یہ ہے یہ کلام لفظی صادق کے زوال کا امکان عام ہے اور کلام کاذب کا ثبوت خاص ہے اور عام کا ثبوت خاص کے ثبوت کو مستلزم نہیں ہوتا ‘ عام کی خاص پر دلالت نہ مطابقی ہوتی ہے نہ تضمنی نہ التزامی ‘ اس لیے یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ کلام صادق لفظی کے زوال کا امکان بعینہ کذب کا امکان ہے۔ 

امتناع کذب پر علامہ میرسید شریف کی تصریحات : 

علامہ میر سید شریف علی بن محمد جرجانی متوفی ٨١٦ ھ لکھتے ہیں :

(فرق باطلہ میں سے) مزداریہ نے کہا اللہ تعالیٰ جھوٹ بولنے اور ظلم کرنے پر قادر ہے ‘ علامہ میر سید شریف اس کا رد فرماتے ہیں : اگر اللہ تعالیٰ ایسا کرے گا تو وہ جھوٹا خدا ہوگا ‘ اللہ تعالیٰ اس سے بہت بلند ہے۔ (شرح مواقف ج ٨ ص ٣٨١‘ مطبوعہ ایران)

امتناع کذب کے متعلق دیگر علماء کی تصریحات اور دلائل :

علامہ محمد عبدالحکیم سیالکوٹی متوفی ١٠٦٧ ھ لکھتے ہیں : 

اللہ تعالیٰ کی ذات پر جہل اور کذب دونوں محال ہیں۔ (حاشیہ عبدالحکیم علی الخیالی ص ٢٥٧‘ مع مجموعہ الحواشی السجھیہ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ١٣٩٧ ھ) 

قاضی عبداللہ بن عمر بیضاوی متوفی ٦٨٥ ھ نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ سے زیادہ صادق نہیں ہوسکتا اور کذب اللہ پر محال ہے کیونکہ کذب نقص ہے اور نقص اللہ پر محال ہے۔ 

علامہ احمد شہاب الدین خفاجی متوفی ١٠٦٩ ھ اس عبارت کی شرح میں لکھتے ہیں : زیادہ صادق ہونے کی نفی کا معنی یہ ہے کہ کوئی شخص صدق میں اللہ کے مساوی بھی نہیں ہوسکتا ‘ اللہ تعالیٰ کے حق میں کذب عقلا اور شرعا محال ہے کیونکہ جھوٹ یا تو کسی ضرورت کی بناء پر بولا جائے گا یا بلاضرورت ‘ کسی ضرورت کی بناء پر جھوٹ بولنا اللہ پر اس لیے محال ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز سے مستغنی ہے اور بلاضرورت جھوٹ عدم علم کی وجہ سے بولا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا علم ہے ‘ کوئی چیز اس سے غائب نہیں ‘ یابلاضرورت قصدا جھوٹ بولا جائے گا اور یہ حماقت ہے اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اس دلیل سے تو کلام نفسی میں جھوٹ محال ہوگا اور کلام لفظی میں تو جھوٹ ممکن رہے گا کہ اللہ تعالیٰ کسی مخلوق میں ایسی خبر پیدا کردے جو واقع کے خلاف ہو بایں طور کہ وہ اس مخلوق کا کلام نہ ہو بلکہ اللہ کا کلام ہو اور غیر کی طرف منسوب ہو بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہو جیسے قرآن کلام لفظی ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بھی نقص ہے کیونکہ اس سے جہل تو لازم نہیں آتا لیکن اس میں تجہیل ہے اور دوسروں کو جاہل بنانا ہے اور یہ بھی اللہ کے لیے نقص ہے اور نقص اللہ پر عقلا محال ہے ‘ علاوہ ازیں یہ محال شرعی بھی ہے۔

زیر تفسیر آیت میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور کون ہے جس کی بات اللہ کی بات سے زیادہ سچی ہو۔ “ اس کا معنی ہے ‘ اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ سچا ہے نہ کوئی صدق میں اس کے برابر ہے اور نہ کوئی صدق میں اس سے زیادہ ہے ‘ مخلوق میں سب سے زیادہ سچے انبیاء (علیہم السلام) ہیں لیکن ان کا صدق واجب بالغیر ہے اور ان کے کلام میں کذب ممکن بالذات اور ممتنع بالغیر ہے ‘ اگر اللہ کا صدق بھی اسی طرح ہو اس کے کلام میں بھی کذب ہو ممکن بالذات اور ممتنع بالغیر ہو تو انبیاء (علیہم السلام) اور اللہ تعالیٰ صدق میں مساوی ہوجائیں گے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور کون ہے جس کی بات اللہ سے زیادہ سچی ہو ‘ یعنی وہ سب سے زیادہ سچا ہے جس کا تقاضا ہے کہ اس کا صدق قدیم اور واجب بالذات ہو اور اس کا کذب ممتنع بالذات ہو۔ 

مفتی احمد یار خاں نعیمی متوفی ١٣٩١ ھ لکھتے ہیں : 

اللہ تعالیٰ کا جھوٹ ممتنع بالذات ہے کیونکہ پیغمبر کا جھوٹ ممتنع بالغیر اور رب تعالیٰ تمام سے زیادہ سچا تو اس کا سچا ہونا واجب بالذات ہونا چاہیے ورنہ اللہ کے صدق اور رسول کے صدق میں فرق نہ ہوگا۔ (نور العرفان ص ١٤٤‘ مطبوعہ دارالکتب الاسلامیہ گجرات)

امتناع کذب کے متعلق علماء دیوبند کا عقیدہ : 

شیخ رشید احمد گنگوہی متوفی ١٣٢٣ ھ لکھتے ہیں : 

آپ نے مسئلہ امکان کذب کو استفسار فرمایا ہے مگر امکان کذب بایں معنی کہ جو کچھ حق تعالیٰ نے فرمایا ہے اس کے خلاف پر وہ قادر ہے مگر باختیار خود اس کو وہ نہ کرے گا یہ عقیدہ بندہ کا ہے اور اس عقیدہ پر قرآن شریف اور احادیث صحاح شاہد ہیں اور علماء امت کا بھی یہی عقیدہ ہے۔ مثلا فرعون پر ادخال نار کی وعید ہے مگر ادخال جنت فرعون پر بھی قادر ہے اگرچہ ہرگز اس کو نہ دیوے گا ‘ اور یہی مسئلہ مبحوث اس وقت میں ہے بندہ کے جملہ احباب یہی کہتے ہیں اس کو اعداء نے دوسری طرح پر بیان کیا ہوگا اس قدرت اور عدم ایقاع کو امکان ذاتی وامتناع بالغیر سے تعبیر کرتے ہیں۔ فقط : (فتاوی رشیدیہ کامل مبوب ص ٨٥۔ ٨٤ مطبوعہ قرآن محل کراچی)

ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں کذب ممتنع اور محال بالذات ہے اور محال بالذات تحت قدرت نہیں ہوتا ‘ مثلا اللہ تعالیٰ کا عدم محال بالذات ہے اور یہ تحت قدرت نہیں ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کا جہل اور کذب بھی محال بالذات ہے اور یہ تحت قدرت نہیں ہے۔ اس کی تفصیل حسب ذیل عبارت میں ہے۔ 

خلف وعید کا اختلاف اللہ تعالیٰ کے کذب کو مستلزم نہیں ہے۔ 

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں : 

امام قرافی اور ان کے متبعین نے کہا ہے کہ کافر کی مغفرت کی دعا کرنا اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کو طلب کرنا ہے اور یہ کفر ہے۔ (الی قولہ) کیا خلف فی الوعید جائز ہے ؟ مواقف اور مقاصد کی ظاہر عبارت کا تقاضایہ ہے کہ اشاعرہ خلف فی الوعید کے قائل ہیں کیونکہ خلف فی الوعید جود اور کرم ہے نقص نہیں ہے ‘ اور علامہ تفتازانی وغیرہ نے تصریح کی ہے کہ خلف فی الوعید جائز نہیں ہے ‘ علامہ نسفی نے کہا ہے کہ یہی صحیح ہے کیونکہ خلف فی الوعید محال ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” مایبدل القول لدی “۔ اور فرمایا ہے (آیت) ” لن یخلف اللہ وعدہ ای وعیدہ “ اور اشبہ بالحق یہ ہے کہ مسلمانوں کے حق میں خلف فی الوعید جائز ہے۔ اور کفار کے حق میں جائز نہیں ہے تاکہ دونوں طرف کے دلائل میں تطبیق ہوجائے ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (آیت) ” ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر مادون ذالک لمن یشآء “۔ اس میں یہ تصریح ہے کہ مشرک کی مغفرت نہیں ہوگی ‘ اور مسلمان نے خواہ کبیرہ گناہ کیا ہو اس کی مغفرت ہوجائے گی ‘ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ دعا کی : (آیت) ” ربنا اغفرلی ولوالدی وللمؤمنین یوم یقوم الحساب “۔ ان آیتوں کا تقاضا یہ ہے کہ کافر کی مغفرت نہیں ہوگی اور اللہ تعالیٰ نے اس کے عذاب کی جو وعید فرمائی ہے اس کا خلاف محال ہے اور گنہگار مسلمانوں کے لیے جو عذاب کی وعید ہے اس کا خلاف ہوجائے گا کیونکہ مسلمان کے حق میں وعید کا یہ معنی ہے کہ اگر تم نے فلاں گناہ کیا تو میں تم کو عذاب دوں گا بشرطیکہ میں نے چاہا یا میں نے تم کو معاف نہ کیا اور اس سے کذب لازم نہیں آتا کیونکہ گناہ گار مسلمانوں کے لیے آیات وعید عدم عفو یا مشیت کے ساتھ مقید ہیں۔ (رد المختار ج ١ ص ‘ ٣٥١ ملخصا وموضحا مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

شیخ خلیل احمد ایبیٹھوی متوفی ١٣٤٦ ھ لکھتے ہیں : 

امکان کذب کا مسئلہ تو اب جدید کسی نے نہیں نکالا بلکہ قدماء میں اختلاف ہوا ہے کی خلف وعید جائز ہے یا نہیں ؟ (براھین قاطعہ ص ٢ مطبوعہ مطبع بلالی ہند) 

ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ اشاعرہ جو خلف وعید کے قائل ہیں وہ گناہ گار مسلمانوں کے حق میں خلف وعید کے قائل ہیں اور عذاب کی آیات کو عدم عفو کے ساتھ مقید کرتے ہیں اور کفار کے حق میں خلف وعید کے قائل نہیں ہیں اور اللہ تعالیٰ کے کذب کے لزوم سے برات کا اظہار کرتے ہیں۔ 

علامہ کمال الدین بن ابی شریف اشعری المذہب متوفی ٩٠٥ ھ لکھتے ہیں :

اشعریہ اور ان کے غیر کے درمیان اس بات میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ ہر وہ شے جو بندوں کے حق میں نقص ہو وہ اللہ پر محال ہے اور کذب بندوں کے حق میں وصف نقص ہے سو وہ اللہ تعالیٰ پر محال ہے۔ (مسامرہ ج ١ ص ١٨٤‘ مطبوعہ مکران) 

اور علامہ بحرالعلوم عبدالعلی بن نظام الدین لکھنوی متوفی ١٢٢٥ ھ لکھتے ہیں : 

حق یہ ہے کہ حقیقت سے عدول کرنے کا موجب موجود ہے اور وہ گنہ گار مسلمانوں ‘ نہ کہ مشرکوں کے لیے جو از عفو کا ثبوت ہے اور یہ ثبوت آفتاب نیم روز کی طرح قطعی اور یقینی ہے پس کفار کے غیر (گناہ گار مسلمانوں) کی وعیدوں میں ظاہر سے عدول کرنا ضروری ہے پس یا تو آیات وعید کو عدم عفو کے ساتھ مقید کیا جائے گا ‘ (یعنی اگر اللہ ان کو معاف نہ کرے تو یہ سزا دے گا) یا ان کو انشاء تخویف پر محمول کیا جائے گا (یعنی اللہ تعالیٰ نے گنہ گار مسلمانوں کو عذاب دینے کی خبر نہیں دی بلکہ ان کو عذاب سے ڈرانے کے لیے ایسا فرمایا ہے) رہا وعد تو اس میں حقیقت سے عدول کرنے کا کوئی موجب نہیں تو وہ آیات اپنی حقیقت پر ہیں۔ (فواتح الرحموت مع المستصفی ص ٦٢‘ مطبوعہ مصر ‘ ١٢٩٤ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 87