حدیث نمبر :355

روایت ہے حضرت عبدالرحمان بن حسنہ سے ۱؎ فرماتے ہیں ہمارے پاس رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے کہ آپ کے ہاتھ شریف میں ڈھال تھی آپ نے ڈھال زمین پر رکھی پھر بیٹھ کراس کے پیچھے پیشاب کیا ۲؎ تو بعض کفار بولے انہیں دیکھو تو عورتوں کیطرح پیشاب کرتے ہیں۳؎ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سن لی تو فرمایا افسوس تم پر کیا تمہیں خبر نہیں کہ بنی اسرائیل والے کو کیا آفت پہنچی تھی کہ جب انہیں پیشاب لگ جاتا تو قینچیوں سے جگہ کاٹ ڈالتے تھے اس نے انہیں منع کیا تو اپنی قبر میں عذاب دیا گیا۴؎ اسے ابوداؤد ابن ماجہ نے روایت کیا اور نسائی نے ان سے انہوں نے ابوموسی سے۔

شرح

۱؎ حسنہ ان کی والد ہ کا نام ہے،والد کا نام عبداللہ ابن مطاع ہے،آپ صحابی ہیں۔

۲؎ ورقہ چمڑے کی وہ ڈھال ہے جس میں لکڑی اور پٹھا استعمال نہ کیا جائے۔ہلکی ہوتی ہے،جنگ میں تلوار کا وار آسانی سے روک لیتی ہے۔ڈھال کی آڑمیں پیشاب کرنے سےمعلوم ہوا کہ پیشاب کے وقت پورے جسم کا چھپانا ضروری نہیں،صرف شرمگاہ کا چھپ جانا کافی ہے،کیونکہ ڈھال چھوٹی ہوتی ہے۔

۳؎ اسلام سے پہلے عربی مردبے دھڑک سب کے سامنے ننگے پیشاب پاخانہ کرلیا کرتے تھے۔ستر اور شرمِ حجاب اسلام نے سکھایا وہ لوگ اس تہذیب کا مذاق اڑاتے تھے،جیسے آج بعض بے دین جاہل بعض اسلامی احکام داڑھی،نماز وغیرہ کا مذاق اڑاتے ہیں۔یہ ایسے ہی ہے جیسے نکٹے ناک والوں کا نکو کہہ کر مذاق اڑائیں۔

۴؎ خلاصۂ جواب یہ ہے کہ بنی اسرائیل کے ہاں پیشاب کے احکام بہت سخت تھے کہ اگر کپڑے میں لگ جائے جلا ڈالو،اوراگر بدن پر لگ جائے تو اتنی کھال چھیل ڈالو۔ان میں ایک شخص نے بنی اسرائیل کو مشورہ دیا کہ ایسا نہ کرو۔اس مشورے پر وہ عذاب قبر میں گرفتار ہوا،حالانکہ اس نے ایسی چیزسے روکا تھا جو نفس پر سخت گراں تھی اور تو مجھے اس حجاب اور حیاسےمنع کررہا ہے جو نہ تکلیف دہ ہے نہ نفس پر بھاری،بتا تیرا کیا حال ہوگا؟اس سےمعلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص کوئی بنی اسرائیل ہوگا اور یہ واقعات اس زمانہ میں مشہور ہوں گے۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کریمانہ تو دیکھو کہ اس کے مذاق کا کوئی جواب نہ دیا،نرمی سے مسئلہ سمجھادیا۔