أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَمَا لَـكُمۡ فِىۡ الۡمُنٰفِقِيۡنَ فِئَـتَيۡنِ وَاللّٰهُ اَرۡكَسَهُمۡ بِمَا كَسَبُوۡا‌ؕ اَ تُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ تَهۡدُوۡا مَنۡ اَضَلَّ اللّٰهُ‌ ؕ وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَلَنۡ تَجِدَ لَهٗ سَبِيۡلًا ۞

ترجمہ:

تمہیں کیا ہوگیا کہ منافقوں کے متعلق تمہاری دو رائیں ہوگئیں حالانکہ اللہ نے ان (منافقوں) کو ان کے کرتوتوں کی وجہ سے اوندھا کردیا ہے، کیا تم چاہتے ہو کہ اس کو ہدایت پر چلاؤ جس میں اللہ نے گمراہی پیدا کردی ہے اور جس میں اللہ نے گمراہی کو پیدا کردیا، تم اس کے لیے (ہدایت پر چلانے کا) کوئی طریقہ نہیں پا سکو گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : تمہیں کیا ہوگیا کہ منافقوں کے متعلق تمہاری دو رائیں ہوگئیں حالانکہ اللہ نے ان (منافقوں) کو ان کے کرتوتوں کی وجہ سے اوندھا کردیا ہے۔ (النساء : ٨٨) 

اس آیت کے شان نزول میں دو قول ہیں ‘ پہلے قول کے متعلق یہ حدیث ہے : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت زید بن ثابت (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) احد کی طرف نکلے تو آپ کے لشکر میں سے کچھ لوگ واپس ہوگئے۔ آپ کے اصحاب میں سے ایک فریق نے کہا ہم ان کو قتل کریں گے اور دوسرے فریق نے کہا ہم ان کو قتل نہیں کریں گے۔ 

اس وقت یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) ” فمالکم فی المنافقین فئتین “۔ (النساء : ٨٨) اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مدینہ لوگوں کو اس طرح نکال دیتا ہے جسے لوہے سے زنگ نکال دیتی ہے۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١٨٨٤‘ مسند احمد ج ٨‘ رقم الحدیث : ٢١٦٥٥‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت) 

دوسرا قول یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کچھ لوگ مکہ سے مدینہ آگئے تھے ‘ انہوں نے مسلمانوں پر یہ ظاہر کیا کہ وہ مسلمان ہیں پھر وہ مکہ واپس چلے گئے اور مکہ والوں پر یہ ظاہر کیا کہ وہ مشرک ہیں : امام ابن جریر روایت کرتے ہیں : 

مجاہد اس آیت کے شان نزول میں بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگ مکہ سے نکل کر مدینہ پہنچ گئے اور انہوں نے یہ ظاہر کیا کہ وہ مہاجر ہیں ‘ پھر اس کے بعد وہ مرتد ہوگئے ‘ انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت مانگی کہ وہ مکہ سے اپنا مال لا کر تجارت کریں گے تو انکے متعلق مسلمانوں میں اختلاف ہوگیا ‘ بعض مسلمانوں نے کہا وہ منافق ہیں اور بعض نے کہا وہ مومن ہیں ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے نفاق کو بیان کردیا اور ان سے قتال کا حکم دیا وہ اپنا مال لے کر مدینہ جانے کا ارادہ کر رہے تھے تو ان سے ہلال بن عویمر اسلمی نے ملاقات کی ‘ اس کا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے معاہدہ تھا اور یہی وہ شخص تھا جس کا مسلمانوں سے لڑتے لڑتے دل تنگ ہوچکا تھا یا وہ اپنی قوم کے ساتھ لڑنے سے عاجز ہوچکا تھا ‘ اس نے ان لوگوں کی مدافعت کی اور کہا یہ مومن ہیں۔ (جامع البیان ج ٥ ص ‘ ٢٦٣۔ ٢٦٢‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٥ ھ) 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : کیا تم چاہتے ہو کہ اس کو ہدایت پر چلاؤ جس میں اللہ نے گمراہی پیدا کردی ہے اور جس میں اللہ نے گمراہی کو پیدا کردیا، تم اس کے لیے (ہدایت پر چلانے کا) کوئی طریقہ نہیں پا سکو گے۔ (النساء : ٨٨) 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان منافقوں کو ان کی سرکشی اور ان کے کفر کی وجہ سے دین سے گمراہ کردیا ہے ‘ مسلمان یہ چاہتے تھے کہ کسی طرح یہ منافق سچے اور مخلص مسلمان بن جائیں ‘ اس آیت کا دوسرا محمل یہ ہے کہ کیا تم ان لوگوں کو جنت کا راستہ دکھانا چاہتے ہو جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے جنت کے راستہ سے گمراہ کردیا ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کفار کو جنت کے راستہ کی ہدایت نہیں دے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 88