أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِلَّا الَّذِيۡنَ يَصِلُوۡنَ اِلٰى قَوۡمٍۢ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَهُمۡ مِّيۡثَاقٌ اَوۡ جَآءُوۡكُمۡ حَصِرَتۡ صُدُوۡرُهُمۡ اَنۡ يُّقَاتِلُوۡكُمۡ اَوۡ يُقَاتِلُوۡا قَوۡمَهُمۡ‌ ؕ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَسَلَّطَهُمۡ عَلَيۡكُمۡ فَلَقٰتَلُوۡكُمۡ‌‌ ۚ فَاِنِ اعۡتَزَلُوۡكُمۡ فَلَمۡ يُقَاتِلُوۡكُمۡ وَاَلۡقَوۡا اِلَيۡكُمُ السَّلَمَ ۙ فَمَا جَعَلَ اللّٰهُ لَـكُمۡ عَلَيۡهِمۡ سَبِيۡلًا ۞

ترجمہ:

ما سوا اس کے کہ وہ اس قول تک پہنچ جائیں جس (قوم) کے تمہارے درمیان معاہدہ ہو یا وہ تمہارے پاس اس حال میں آئیں کہ تمہارے ساتھ لڑنے سے ان کے دل تنگ آچکے ہوں یا وہ اپنی قوم سے لڑیں۔ اور اگر اللہ چاہتا تو ضرور ان کو تم پر مسلط کردیتا پس بیشک وہ تم سے لڑتے ‘ سو اگر وہ تم سے کنارہ کش ہوجائیں اور تم سے نہ لڑیں۔ اور تمہارے پاس صلح کا پیغام پہنچائیں تو اللہ نے تمہارے لیے ان کے خلاف (لڑنے کا) کوئی طریقہ نہیں رکھا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ماسوا اس کے کہ وہ اس قول تک پہنچ جائیں جس (قوم) کے تمہارے درمیان معاہدہ ہو یا وہ تمہارے پاس اس حال میں آئیں کہ تمہارے ساتھ لڑنے سے ان کے دل تنگ آچکے ہوں یا وہ اپنی قوم سے لڑیں۔ اور اگر اللہ چاہتا تو ضرور ان کو تم پر مسلط کردیتا پس بیشک وہ تم سے لڑتے۔ (النساء : ٩٠) 

جن کافروں سے جنگ نہ کرنے کا معاہدہ ہو اس کی پابندی کی جائے گی۔ 

اس میں اختلاف ہے کہ جس قوم کو اللہ تعالیٰ نے جہاد کے حکم سے مستثنی فرمایا ہے وہ کون ہیں ‘ آیا وہ مسلمان ہیں یا کافر ‘ جمہور نے کہا وہ کافر ہیں اور اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کفار کے خلاف جہاد کو واجب قرار دیا ہے مگر جب کفار کے ساتھ معاہدہ ہو یا انہوں نے تم سے قتال کرنا ترک کردیا ہو تو پھر ان کے خلاف قتال واجب نہیں ہے ‘ اس تقدیر پر یہ آیت اس آیت سے منسوخ ہے۔ 

(آیت) ” فاذا انسلخ الاشھر الحرم فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم “ (التوبہ : ٥) 

(جب حرمت والے مہینے ختم ہوجائیں تو مشرکین کو جہاں پاؤ قتل کردو) البتہ جن مشرکوں سے مسلمان جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کرچکے ہوں ان کے حق میں یہ آیت منسوخ نہیں ہے ‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 

(آیت) ” الا الذین عاھدتم من المشرکین ثم لم ینقصوکم شیئا ولم یظاھروا علیکم احدا فاتموا الیھم عھدہم الی مدتھم “۔ (التوبہ : ٤) 

ترجمہ : مگر جن مشرکوں سے تم نے معاہدہ کیا تھا پھر انہوں نے تمہارے ساتھ اس عہد میں کوئی کمی نہیں کی اور تمہارے خلاف کسی کی پشت پناہی نہیں کی تو ان سے ان کا عہد ان کی مدت معینہ تک پورا کرو۔ 

(آیت) ” واوفوا بعھد اللہ اذا عاھدتم “۔ (النحل : ٩١) 

ترجمہ : اور جب تم عہد کرو تو اللہ کے عہد کو پورا کرو۔ 

خلاصہ یہ ہے کہ جن کافروں سے مسلمانوں نے جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کرلیا تو سورة النساء : ٩٠ کی اس آیت کے مطابق ان سے جنگ نہیں کی جائے گی اور جن کافروں نے مسلمانوں سے لڑنا چھوڑ دیا ہے اور وہ جنگ سے تنگ آچکے ہیں ان سے نہ لڑنے کا حکم التوبہ : ٥ کے حکم سے منسوخ ہے۔ 

ابو مسلم اصفہانی نے کہا یہ استثناء مسلمانوں کے متعلق ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام مسلمانوں پر ہجرت کو فرض کردیا تو جو لوگ ہجرت کرنے سے معذور تھے ان کو مستثنی کردیا یعنی جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کا قصد کریں لیکن ان کے راستہ میں کفار ہوں جن سے مسلمانوں کا معاہدہ ہو جس کی وجہ سے وہ ہجرت نہ کریں یا جو مسلمان اس لیے کفار سے جہاد نہ کریں اور وہاں سے ہجرت نہ کریں کہ ان کافروں کے درمیان انکے اہل اور رشتہ دار ہوں اور ان کو یہ خوف ہو کہ اگر انہوں نے وہاں سے ہجرت کی یا ان کافروں کے خلاف جہاد کیا تو وہ ان کے اہل اور رشتہ داروں کو قتل کردیں گے تو وہ بھی معذور ہیں اور ان مسلمانوں کے خلاف جنگ اور جہاد کرنے کا اللہ تعالیٰ نے کوئی طریقہ مقرر نہیں کیا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 90