میٹھا کھانے سے پہلے سنت ھے یا بعد میں،یا درمیان میں سنت ھے

سوال:

میٹھا کھانے سے پہلے سنت ھے یا بعد میں، کچھ علماء کرام کہتے ہیں کہ میٹھا درمیان میں سنت ھے

جواب:

میٹھا کھانے سے پہلے ہو یا درمیان میں یا بعد میں، اس کا تعلق سنت سے نہیں ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میٹھا تناول فرمایا کرتے تھے لیکن یہ امور عادیہ میں سے ہے نہ کہ سنن شرعیہ میں سے۔

البتہ لیکن ایک موقع پر کھانے کے بعد میٹھی چیز نوش فرمانا بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔حضرت عکراش بن ذویب رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ انھوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا تناول فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا کے آخر میں کھجور تناول فرمائی۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کھانے کے آخر میں آپ ﷺ نے میٹھی چیز کھائی ہے.

بعض روایتوں میں ھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخر میں نمک استعمال فرماتے تھے ممکن ھے کبھی نمک استعمال فرماتے ہوں اور کبھی میٹھا، خلاصہ یہ امور عادیہ میں سے ھے نہ کہ امور شرعیہ میں سے،

جامع ترمذی میں ھے

عن عِكْرَاشِ بْنِ ذُؤَيْبٍ قَالَ بَعَثَنِي بَنُو مُرَّةَ بْنِ عُبَيْدٍ بِصَدَقَاتِ أَمْوَالِهِمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدِمْتُ عَلَيْهِ الْمَدِينَةَ فَوَجَدْتُهُ جَالِسًا بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ قَالَ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقَ بِي إِلَى بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَ هَلْ مِنْ طَعَامٍ فَأُتِينَا بِجَفْنَةٍ كَثِيرَةِ الثَّرِيدِ وَالْوَذْرِ وَأَقْبَلْنَا نَأْكُلُ مِنْهَا فَخَبَطْتُ بِيَدِي مِنْ نَوَاحِيهَا وَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ فَقَبَضَ بِيَدِهِ الْيُسْرَى عَلَى يَدِي الْيُمْنَى ثُمَّ قَالَ يَا عِكْرَاشُ كُلْ مِنْ مَوْضِعٍ وَاحِدٍ فَإِنَّهُ طَعَامٌ وَاحِدٌ ثُمَّ أُتِينَا بِطَبَقٍ فِيهِ أَلْوَانُ الرُّطَبِ أَوْ مِنْ أَلْوَانِ الرُّطَبِ عُبَيْدُ اللَّهِ شَكَّ قَالَ فَجَعَلْتُ آكُلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ وَجَالَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الطَّبَقِ وَقَالَ يَا عِكْرَاشُ كُلْ مِنْ حَيْثُ شِئْتَ فَإِنَّهُ غَيْرُ لَوْنٍ وَاحِدٍ ثُمَّ أُتِينَا بِمَاءٍ فَغَسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ وَمَسَحَ بِبَلَلِ كَفَّيْهِ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَرَأْسَهُ وَقَالَ يَا عِكْرَاشُ هَذَا الْوُضُوءُ مِمَّا غَيَّرَتْ النَّارُ،

(سنن الترمذي،ص7ج2)

اس حدیث میں کھانے کے آخر میں کھجور تناول فرمانے کاذکر ھے جو بلاشبہ میٹھی چیزھے

واللہ اعلم

محمد عرفان الحق نقشبندی

دارالعلوم حنفیہ رضویہ

سیمنٹ فیکٹری ڈیرہ غازیخان

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.