أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَدُّوۡا لَوۡ تَكۡفُرُوۡنَ كَمَا كَفَرُوۡا فَتَكُوۡنُوۡنَ سَوَآءً‌ فَلَا تَتَّخِذُوۡا مِنۡهُمۡ اَوۡلِيَآءَ حَتّٰى يُهَاجِرُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ‌ ؕ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَخُذُوۡهُمۡ وَاقۡتُلُوۡهُمۡ حَيۡثُ وَجَدتُّمُوۡهُمۡ‌ ۖ وَلَا تَتَّخِذُوۡا مِنۡهُمۡ وَلِيًّا وَّلَا نَصِيۡرًا ۞

ترجمہ:

وہ دل سے یہ چاہتے ہیں کہ تم بھی ان کی طرح کافر ہوجاؤ تاکہ تم سب برابر ہوجاؤ، لہذا تم ان کو دوست نہ بناؤ حتی کہ وہ ہجرت کرکے اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلیں پھر اگر وہ روگردانی کریں تو ان کو پکڑو اور ان کو جہاں پاؤ قتل کردو ‘ اور ان میں سے کسی کو نہ دوست بناؤ اور نہ مددگار

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : وہ دل سے یہ چاہتے ہیں کہ تم بھی ان کی طرح کافر ہوجاؤ تاکہ تم سب برابر ہوجاؤ، لہذا تم ان کو دوست نہ بناؤ حتی کہ وہ ہجرت کرکے اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلیں پھر اگر وہ روگردانی کریں تو ان کو پکڑو اور ان کو جہاں پاؤ قتل کردو ‘ اور ان میں سے کسی کو نہ دوست بناؤ اور نہ مددگار۔ (النساء : ٨٩) 

کفار اور بدعقیدہ لوگوں کے ساتھ دوستی رکھنے کی ممانعت : 

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے فرمایا تھا تم ان منافقوں کو ہدایت یافتہ بنانا چاہتے ہو ‘ اور آیت میں فرمایا : حالانکہ ان کا حال یہ ہے کہ یہ تم کو کافر بنانا چاہتے ہیں اس لیے تم ان کو دوست نہ بناؤ کفار کو دوست بنانے سے قرآن مجید اور احادیث میں منع کیا گیا ہے۔ 

(آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تتخذوا عدوی وعدوکم اولیآء تلقون الیھم بالمودۃ وقد کفروا بما جآء کم من الحق “۔ (الممتحنہ : ١) 

ترجمہ : اے ایمان والو ! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ‘ تم ان کو دوستی کا پیغام بھیجتے ہو حالانکہ انہوں نے اس حق کا انکار کیا ہے جو تمہارے پاس آیا ہے۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت کے آخر میں کچھ لوگ ظاہر ہوں گے ‘ جو تمہارے سامنے ایسی حدیثیں بیان کریں گے جن کو تم نے سنا ہوگا نہ تمہارے باپ دادا نے ‘ تم ان سے دور رہنا وہ تم سے دور رہیں۔ (مقدمہ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٦) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آخر زمانہ میں دجال اور کذاب ہوں گے ‘ جو تمہارے پاس ایسی حدیثیں لائیں گے جن کو تم نے سنا ہوگا نہ تمہارے باپ دادا نے، تم ان سے دور رہنا وہ تم سے دور رہیں کہیں وہ تم کو گمراہ نہ کردیں اور تم کو فتنہ میں نہ ڈال دیں۔ (مقدمہ صحیح مسلم) 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عمر بن الخطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : منکرین تقدیر کے ساتھ مت بیٹھو اور نہ ان سے پہلے مخاطب۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٤٧١٠) 

ہجرت کی تعریف اور اس کی اقسام : 

نیز اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے تم ان (منافقوں) کو دوست نہ بناؤ حتی کہ وہ ہجرت کر کے اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلیں ‘ اس کا معنی یہ ہے کہ وہ منافق پہلے خلوص قلب سے اسلام لائیں پھر ہجرت کریں کیونکہ ایمان اور اخلاص کے بغیر کوئی عمل مقبول نہیں ہے۔ 

ہجرت کا معنی ہے دارالحرب کو ترک کرکے دارالاسلام میں منتقل ہونا ‘ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ منورہ میں ہجرت کرکے آگئے تو مکہ کے مسلمانوں پر مدینہ منورہ کی طرف ہجرت واجب ہوگئی اور جب مکہ فتح ہوگیا تو اب یہ ہجرت منسوخ ہوگئی کیونکہ اب مکہ دارالاسلام بن گیا ‘ جو مسلمان کسی کافر ملک میں رہتے ہوں اور وہاں ایمان کے اظہار کی وجہ سے ان کی جان ‘ مال اور عزت کے ہلاک ہونے کا یقینی خطرہ ہو ان پر واجب ہے کہ وہ اس ملک کو چھوڑ کر دارالاسلام میں منتقل ہوجائیں ‘ النساء : ٩٧‘ میں انشاء اللہ ہم اس ہجرت کی فرضیت کو بیان کریں گے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہجرت کو سخت اور مشکل قرار دیا ہے اور فرمایا ہے یہ ہجرت قیامت تک باقی رہے گی ‘ ہجرت کی ایک اور قسم ہے دارالخوف سے دارالامن میں منتقل ہونا ‘ جیسے مسلمان مکہ سے حبشہ میں منتقل ہوگئے تھے یا جیسے مسلمان بھارت سے برطانیہ ‘ ہالینڈ ‘ جنوبی افریقہ اور جرمنی وغیرہ کافر ملکوں میں منتقل ہوجائیں ‘ اور ہجرت کی تیسری قسم ہے گناہوں سے ہجرت کرنا ‘ اس سلسلہ میں حسب ذیل احادیث ہیں۔ 

قیامت تک ہجرت کا مشروع ہونا : 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت معاویہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہجرت اس وقت تک منقطع نہیں ہوگی جب تک کہ توبہ منقطع نہ ہو ‘ اور توبہ اس وقت تک منقطع نہیں ہوگی جب تک کہ سورج مغرب سے طلوع نہ ہو۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٢٤٧٩‘ مسند احمد ج ١‘ رقم الحدیث : ١٦٧١‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت) 

بعض احادیث میں مذکور ہے کہ فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں رہی۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہجرت کے متعلق سوال کیا گیا آپ نے فرمایا فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے ‘ لیکن جہاد اور نیت ہے ‘ جب تم کو جہاد کے لیے طلب کیا جائے تو تم روانہ ہوجاؤ۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٨٦٤‘ ١٨٦٣‘ صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١٨٣٤‘ سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث : ٢٤٨٠‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٥٩٠‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ٤١٨٠) 

اس حدیث کا مطلب یہ ہے جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا کہ مکہ فتح ہونے کے بعد مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت منسوخ ہوگئی اور مطلقا دارالحرب سے دارالاسلام کی طرف ہجرت قیامت تک مشروع ہے۔ 

اصل ہجرت گناہوں کو ترک کرنا ہے۔ 

ہجرت کا دور معنی یہ ہے کہ برے کاموں کو چھوڑ کر توبہ کرنا اور نیک کاموں طرف منتقل ہونا ‘ اس سلسلہ میں حسب ذیل احادیث ہیں : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مہاجر وہ ہے جس نے اللہ کی منع کیے ہوئے کاموں سے ہجرت کی (یعنی ان کو ترک کردیا) (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١٠) 

امام احمد بن شعیب نسائی متوفی ٣٠٣ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن حبشی خثعمی (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا کون سی ہجرت افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا جس نے اللہ کے حرام کیے ہوئے کاموں سے ہجرت کرلی (سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ٢٥٢٥‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ١٤٤٩‘ سنن دارمی ‘ رقم الحدیث : ١٤٢٤) 

امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہجرت کے متعلق دریافت کیا ‘ آپ نے کچھ دیر توقف کیا پھر فرمایا سائل کہاں ہے ‘ اس نے کہا میں حاضر ہوں یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے فرمایا ہجرت یہ ہے کہ تم تمام بےحیائی کے کاموں کو چھوڑ دو خواہ وہ کام ظاہر کیے جائیں یا چھپ کر اور نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو پھر تم مہاجر ہو خواہ تم اپنے شہر میں مرجاؤ (مسند احمد ج ٢‘ رقم الحدیث : ٧١١٧‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٤ ھ) 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

عبید بن عمیر لیثی بیان کرتے ہیں ہم نے حضرت عائشہ (رض) سے ہجرت کے متعلق سوال کیا آپ نے فرمایا اب ہجرت نہیں رہی پہلے مسلمانوں میں کوئی شخص اپنے دین کی حفاظت کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی طرف بھاگ کرجاتا تھا ‘ اس کو یہ خطرہ ہوتا تھا کہ دین پر قائم رہنے کی وجہ سے وہ کسی فتنہ میں مبتلا نہ ہوجائے لیکن اب اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غالب کردیا ‘ اب انسان جہاں چاہے اپنے رب کی عبادت کرے لیکن جہاد اور نیت باقی ہے۔ (صحیح بخاری ‘ رقم الحدیث : ٣٩٠٠) 

ہجرت کے متعلق فقہاء اسلام کے نظریات : 

اس حدیث کی فقہ یہ ہے کہ اگر اب کسی جگہ اسلام کی وجہ سے مسلمان کو فتنہ کا خطرہ ہو تو اب بھی اس پر ہجرت فرض ہے۔ 

علامہ بدرالدین محمودبن احمد عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ لکھتے ہیں : 

علامہ خطابی نے کہا ہے کہ ابتداء اسلام میں ہجرت فرض تھی پھر فتح مکہ کے بعد ہجرت کرنا مستحب ہے ‘ علامہ ابن الاثیر نے کہا ہے کہ ہجرت کی دو قسمیں ہیں ایک ہجرت وہ ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے جنت کا وعدہ کیا ہے ایک مسلمان اپنے اہل مال اور گھر بار کو چھوڑ کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس چلا جاتا تھا فتح مکہ کے بعد یہ ہجرت منسوخ ہوگئی ‘ اور دوسری ہجرت وہ ہے جیسے اعراب ہجرت کرتے تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جہاد کرتے تھے اور اول الذکر کی طرح ہجرت نہیں کرتے تھے یہ ہجرت قیامت تک باقی ہے ‘ میں کہتا ہوں ہجرت کی ایک اور قسم بھی ہے وہ ہے گناہوں سے ہجرت کرنا ‘ امام احمد حضرت بن عمرو بن العاص (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہجرت کی دو قسمیں ہیں ایک قسم یہ ہے کہ تم برائیوں اور گناہوں سے ہجرت کرو اور دوسری قسم یہ ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرو اور اور جب تک توبہ منقطع نہ ہو یہ ہجرت منقطع نہیں ہوگی اور جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہو توبہ منقطع نہیں ہوگی۔ (عمدۃ القاری ج ١ ص ٣٠۔ ٢٩‘ مطبوعہ مصر)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 89