کشمیر ہمارا ہے کشمیری ہمارے نہیں

پلوامہ حملے کے بعد ملک کے حالات جس تیزی کے ساتھ بدلے ہیں وہ قابل تشویش ہے، زعفرانی ذہنیت کے مالکان جو چاہ رہے تھے دھیرے دھیرے ملک اسی ڈگر پر چلا جا رہا ہے، پارلیمانی الیکشن کے دن جیسے جیسے نزدیک آ رہے ویسے ویسے ملک کے ماحول میں زہر گھولنے کا کام بھی تیز سے تیز تر ہوتا جا رہا ہے

مسئلہ کشمیر کو اگر نیک نیتی سے حل کرنے کی کوشش کی جاتی تو شاید کئی دہائیوں قبل ہی وہاں کے حالات معمول پر آ چکے ہوتے مگر کبھی بھی کشمیر کے مدے کو سنجیدگی سے حل کرنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی بلکہ کشمیر پر ہمیشہ سیاست کھیلی گئی اور لگ تو رہا ہے کہ ابھی نہ جانے کشمیر کو کتنی اور قربانیاں دینی پڑیں گے تب جا کر کچھ بھلا ہوگا

اصل مسئلہ جس سے آج تک صرف نظر کیا گیا وہ یہ کہ ہندوستانی حکومت نے کشمیر کو اپنا سمجھا اس پر دعویداری کی مگر کشمیریوں کو کبھی اپنا نہیں سمجھا ان کے ساتھ ویسا ہی سوتیلا رویہ برقرار رکھا گیا جیسا آج تک پاکستان کے ساتھ روا رکھا گیا کہ جس کے وجود کو آج تک ہضم کرنا ہمارے لیے کافی تکلیف دہ ہے

پلوامہ حملے کے بعد جس طرح ملک کے بیشتر حصوں میں کشمیریوں کو چن چن کر نشانہ بنایا گیا ان پر حملے کیے گئے، ان کو زد و کوب کیا گیا، انہیں اپنے علاقوں سے بھگایا گیا، ان کی تعلیم کو برباد کیا گیا ان سے ان کی وطنیت کا ثبوت مانگا گیا اور ایسا لگا کہ جیسے ان سارے حملوں کے قصور وار یہ کشمیری ہی ہیں جبکہ ایسا بالکل نہیں بار بار اس بات کا مطالبہ اٹھایا جا رہا ہے کہ پلوامہ حملے کی غیر جانبدارانہ جانچ پڑتال کی جائے تو شاید گہرائی میں کچھ اور نکلے گا مگر ہمارے وزیراعظم صاحب کو اپنی ریلیوں اور پارٹیوں سے ہی فرصت نہیں اوپر سے ہندوستانی خصیہ بردار میڈیا نے اس نفرت کی سیاست میں جو کردار ادا کیا ہے وہ قابل نفریں ہے

اگر ہم چاہتے ہیں کہ کشمیر کے حالات معمول پر آئیں تو وقت رہتے اپنا نظریہ تبدیل کریں کشمیر کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کو بھی اپنا سمجھیں اور انہیں جو حقوق دستور ہند نے دیے ہیں انہیں ان کو دیں تو بہت حد تک حالات معمول پر آ سکتے ہیں

ہمارے علما و مشائخ اور سیاست دانوں کو بھی اس تعلق سے آواز اٹھانے کی ضرورت ہے ورنہ کشمیر یوں ہی جلتا رہے گا اور ہم یوں ہی تماشہ دیکھتے رہیں گے

اختر نور