اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ النَّصٰرٰى وَ الصّٰبِـٕیْنَ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۶۲)

بےشک ایمان والے نیز یہودیوں اور نصرانیوں اور ستارہ پرستوں میں سے وہ کہ سچے دل سے اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لائیں اور نیک کام کریں ان کا ثواب ان کے رب کے پاس ہے اور نہ انہیں کچھ اندیشہ ہو اور نہ کچھ غم (ف۱۱۰)

(ف110)

شانِ نُزول : ابن جریر و ابن ابی حاتم نے سدی سے روایت کی کہ یہ آیت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے اصحاب کے حق میں نازل ہوئی۔ ( لباب النقول)

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَؕ-خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ(۶۳)

اور جب ہم نے تم سے عہد لیا (ف۱۱۱) اور تم پر طور کو اونچا کیا (ف۱۱۲) لو جو کچھ ہم تم کو دیتے ہیں زور سے (ف۱۱۳) اور اس کے مضمون یاد کرو اس امید پر کہ تمہیں پرہیزگاری ملے

(ف111)

کہ تم توریت مانو گے اور اس پر عمل کروگے پھر تم نے اس کے احکام کو شاق و گراں جان کر قبول سے انکار کردیا باوجودیکہ تم نے خود بالحاح حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ایسی آسمانی کتاب کی استدعا کی تھی جس میں قوانین شریعت اور آئین عبادت مفصل مذکور ہوں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تم سے بار بار اس کے قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے کا عہد لیا تھا جب وہ کتاب عطا ہوئی تم نے اس کے قبول کرنے سے انکار کردیا اور عہد پورا نہ کیا ۔

(ف112)

بنی اسرائیل کی عہد شکنی کے بعد حضرت جبریل نے بحکم الہی طور پہاڑ کو اٹھا کر ان کے سروں پر قدر قامت فاصلہ پر معلق کردیا اور حضرت موسٰی علیہ السلام نے فرمایا ،یاتو تم عہد قبول کرو ورنہ پہاڑ تم پر گرا دیا جائے گا اور تم کچل ڈالے جاؤ گے اس میں صورۃً وفا عہد پر اکراہ تھا اور درحقیقت پہاڑ کا سروں پر معلق کردینا آیت الہی اور قدرت حق کی برہان قوی ہے اس سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے کہ بے شک یہ رسول مظہر قدرت الٰہی ہیں۔ یہ اطمینان ان کو ماننے اور عہد پورا کرنے کا اصل سبب ہے۔

(ف113)

یعنی بکوشش تمام ۔

ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَۚ-فَلَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَكُنْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ(۶۴)

پھر اس کے بعد تم پھر گئے تو اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو تم ٹو ٹے(نقصان) والوں میں ہو جاتے (ف۱۱۴)

(ف114)

یہاں فضل و رحمت سے یا توفیق توبہ مراد ہے یا تاخیر عذاب (مدارک وغیرہ) ایک قول یہ ہے کہ فضل الہی اور رحمت حق سے حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات پاک مراد ہے معنی یہ ہیں کہ اگر تمہیں خاتم المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وجود کی دولت نہ ملتی اور آپ کی ہدایت نصیب نہ ہوتی تو تمہارا انجام ہلاک و خسران ہوتا۔

وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِیْنَ اعْتَدَوْا مِنْكُمْ فِی السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِـٕیْنَۚ(۶۵)

اور بےشک ضرور تمہیں معلوم ہے تم میں کے وہ جنہوں نے ہفتہ میں سرکشی کی (ف۱۱۵) تو ہم نے ان سے فرمایا کہ ہوجاؤ بندر دھتکارے ہوئے

(ف115)

شہرایلہ میں بنی اسرائیل آباد تھے انہیں حکم تھاکہ شنبہ کادن عبادت کے لئے خاص کردیں اس روز شکار نہ کریں اوردنیاوی مشاغل ترک کردیں ان کے ایک گروہ نے یہ چال کی کہ جمعہ کو دریاکے کنارے کنارے بہت سے گڈھے کھودتے اور شنبہ کی صبح کو دریا سے ان گڈھوں تک نالیاں بناتے جن کے ذریعہ پانی کے ساتھ آکر مچھلیاں گڈھوں میں قید ہوجاتیں یکشنبہ کو انہیں نکالتے اور کہتے کہ ہم مچھلی کو پانی سے شنبہ کے روزنہیں نکالتے چالیس یا ستر سال تک یہی عمل رہاجب حضرت داؤدعلیہ الصلٰوۃ والسلام کی نبوت کاعہدآیا آپ نے انہیں اس سے منع کیا اور فرمایا قید کرناہی شکارہےجوشنبہ کوکرتےہواس سے بازآؤورنہ عذاب میں گرفتار کیے جاؤ گے وہ بازنہ آئے آپ نے دعافرمائی اللہ تعالیٰ نے انہیں بندروں کی شکل میں مسخ کردیا عقل و حواس تو ان کے باقی رہے مگر قوت گویائی زائل ہوگئی بدنوں سے بدبو نکلنے لگی اپنے اس حال پر روتے روتے تین روز میں سب ہلاک ہوگئے ان کی نسل باقی نہ رہی یہ ستر ہزار کے قریب تھے بنی اسرائیل کا دوسرا گروہ جوبارہ ہزار کے قریب تھا انہیں اس عمل سے منع کرتا رہا جب یہ نہ مانے تو انہوں نے ان کے اور اپنے محلوں کے درمیان دیوار بنا کر علیحدگی کرلی ان سب نے نجات پائی بنی اسرائیل کا تیسرا گروہ ساکت رہا اس کے حق میں حضرت ابن عباس کے سامنے عکرمہ نے کہا کہ وہ مغفور ہیں کیونکہ امر بالمعروف فرض کفایہ ہے بعض کا ادا کرنا کل کا حکم رکھتا ہے ان کے سکوت کی وجہ یہ تھی کہ یہ ان کے پندپذیر ہونے سے مایوس تھے عکرمہ کی یہ تقریر حضرت ابن عباس کو بہت پسند آئی اور آپ نے سرور سے اٹھ کر ان سے معانقہ کیا اور ان کی پیشانی کو بوسہ دیا۔(فتح العزیز)

مسئلہ:اس سے معلوم ہوا کہ سرور کا معانقہ سنت صحابہ ہے اس کے لئے سفر سے آنا اور غیبت کے بعد ملنا شرط نہیں۔

فَجَعَلْنٰهَا نَكَالًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهَا وَ مَا خَلْفَهَا وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ(۶۶)

تو ہم نے اس بستی کایہ واقعہ اس کے آگے اور پیچھے والوں کے لیے عبرت کردیا اور پرہیزگاروں کے لیے نصیحت

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖۤ اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تَذْبَحُوْا بَقَرَةًؕ-قَالُوْۤا اَتَتَّخِذُنَا هُزُوًاؕ-قَالَ اَعُوْذُ بِاللّٰهِ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ(۶۷)

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا خدا تمہیں حکم دیتا ہے کہ ایک گائے ذبح کرو (ف۱۱۶) بولے کہ آپ ہمیں مسخرہ بناتے ہیں (ف۱۱۷) فرمایا خدا کی پناہ کہ میں جاہلوں سے ہوں (ف۱۱۸)

(ف116)

بنی اسرائیل میں عامیل نامی ایک مالدار تھا اس کے چچا زاد بھائی نے بطمع وراثت اس کو قتل کرکے دوسری بستی کے دروازے پر ڈال دیا اور خود صبح کو اس کے خون کا مدعی بنا وہاں کے لوگوں نے حضرت موسٰی علیہ السلام سے درخواست کی کہ آپ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ حقیقت حال ظاہر فرمائے اس پر حکم صادرہوا کہ ایک گائے ذبح کرکے اس کا کوئی حصہ مقتول کے ماریں وہ زندہ ہو کر قاتل کو بتادے گا۔

(ف117)

کیونکہ مقتول کا حال معلوم ہونے اور گائے کے ذبح میں کوئی مناسبت معلوم نہیں ہوتی۔

(ف118)

ایسا جواب جو سوال سے ربط نہ رکھے جاہلوں کا کام ہے۔ یا یہ معنی ہیں کہ محاکمہ کے موقع پر استہزاء جاہلوں کا کام ہے انبیاء کی شان اس سے برتر ہے القصہ جب ہی بنی اسرائیل نے سمجھ لیا کہ گائے کا ذبح کرنا لازم ہے تو انہوں نے آپ سے اس کے اوصاف دریافت کیے حدیث شریف میں ہے کہ اگر بنی اسرائیل بحث نہ نکالتے تو جو گائے ذبح کردیتے کافی ہوجاتی۔

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا هِیَ ؕ-قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا فَارِضٌ وَّ لَا بِكْرٌؕ-عَوَانٌۢ بَیْنَ ذٰلِكَؕ-فَافْعَلُوْا مَا تُؤْمَرُوْنَ(۶۸)

بولے اپنے رب سے دعا کیجئے کہ وہ ہمیں بتادے گائے کیسی کہا وہ فرماتا ہے کہ وہ ایک گائے ہے نہ بوڑھی اور نہ اوسر(بچھیا)بلکہ ان دونوں کے بیچ میں تو کرو جس کا تمہیں حکم ہوتا ہے

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا لَوْنُهَاؕ-قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ صَفْرَآءُۙ-فَاقِعٌ لَّوْنُهَا تَسُرُّ النّٰظِرِیْنَ(۶۹)

بولے اپنے رب سے دعا کیجئے ہمیں بتادے اس کا رنگ کیا ہے کہا وہ فرماتا ہے وہ ایک پیلی گائے ہے جس کی رنگت ڈہڈہاتی(گہری چمکدار) دیکھنے والوں کو خوشی دیتی

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا هِیَۙ-اِنَّ الْبَقَرَ تَشٰبَهَ عَلَیْنَاؕ-وَ اِنَّاۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ لَمُهْتَدُوْنَ(۷۰)

بولے اپنے رب سے دعاکیجئے کہ ہمارے لیے صاف بیان کرے وہ گائے کیسی ہے بےشک گائیوں میں ہم کو شبہ پڑگیا اور اللہ چاہے تو ہم راہ پا جائیں گے (ف۱۱۹)

(ف119)

حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر وہ ان شاء اللہ نہ کہتے تو کبھی وہ گائے نہ پاتے

مسئلہ: ہر نیک کام میں ان شاء اللہ کہنا مستحب و باعث برکت ہے

قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا ذَلُوْلٌ تُثِیْرُ الْاَرْضَ وَ لَا تَسْقِی الْحَرْثَۚ-مُسَلَّمَةٌ لَّا شِیَةَ فِیْهَاؕ-قَالُوا الْـٰٔنَ جِئْتَ بِالْحَقِّؕ-فَذَبَحُوْهَا وَ مَا كَادُوْا یَفْعَلُوْنَ۠(۷۱)

کہا وہ فرماتا ہے کہ وہ ایک گائے ہے جس سے خدمت نہیں لی جاتی کہ زمین جوتے اور نہ کھیتی کو پانی دے بے عیب ہے جس میں کوئی داغ نہیں بولے اب آپ ٹھیک بات لائے (ف ۱۲۰) تو اسے ذبح کیا اور ذبح کرتے معلوم نہ ہوتے تھے (ف۱۲۱)

(ف120)

یعنی اب تشفی ہوئی اور پوری شان و صفت معلوم ہوئی پھر انہوں نے گائے کی تلاش شروع کی ان اطراف میں ایسی صرف ایک گائے تھی اس کا حال یہ ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک صالح شخص تھے ان کا ایک صغیر السن بچہ تھا اور ان کے پاس سوائے ایک گائے کے بچے کے کچھ نہ رہا تھا انہوں نے اس کی گردن پر مہر لگا کر اللہ کے نام پر چھوڑ دیا اور بارگاہِ حق میں عرض کیا یارب میں اس بچھیا کو اس فرزند کے لئے تیر ے پاس ودیعت رکھتا ہوں جب یہ فرزند بڑا ہو یہ اس کے کام آئے ان کا تو انتقال ہوگیا بچھیا جنگل میں بحفظ الٰہی پرورش پاتی رہی یہ لڑکا بڑا ہوا اور بفضلہ صالح ومتقی ہوا ماں کا فرمانبردار تھا ایک روز اس کی والدہ نے کہا اے نورِ نظر تیرے باپ نے تیرے لئے فلاں جنگل میں خدا کے نام ایک بچھیا چھوڑ دی ہے وہ اب جوان ہوگئی اس کو جنگل سے لا اور اللہ سے دعا کر کہ وہ تجھے عطا فرمائے لڑکے نے گائے کو جنگل میں دیکھا اوروالدہ کی بتائی ہوئی علامتیں اس میں پائیں اور اس کو اللہ کی قسم دے کر بلایا وہ حاضر ہوئی جوان اس کو والدہ کی خدمت میں لایا والدہ نے بازار میں لے جا کر تین دینار پر فروخت کرنے کا حکم دیا اور یہ شرط کی کہ سودا ہونے پر پھر اس کی اجازت حاصل کی جائے اس زمانہ میں گائے کی قیمت ان اطراف میں تین دینار ہی تھی جوان جب اس گائے کو بازار میں لایا تو ایک فرشتہ خریدار کی صورت میں آیا اور اس نے گائے کی قیمت چھ دینار لگادی مگر اس شرط سے کہ جوان والدہ کی اجازت کا پابند نہ ہو جوان نے یہ منظور نہ کیا اور والدہ سے تمام قصہ کہا اس کی والدہ نے چھ دینار قیمت منظور کرنے کی تو اجازت دی مگر بیع میں پھر دوبارہ اپنی مرضی دریافت کرنے کی شرط کی جوان پھر بازار میں آیااس مرتبہ فرشتہ نے بارہ دینار قیمت لگائی اور کہا کہ والدہ کی اجازت پر موقوف نہ رکھو جو ان نے نہ مانا اور والدہ کو اطلاع دی وہ صاحب فراست سمجھ گئی کہ یہ خریدار نہیں کوئی فرشتہ ہے جو آزمائش کے لئے آتا ہے۔ بیٹے سے کہا کہ اب کی مرتبہ اس خریدار سے یہ کہنا کہ آپ ہمیں اس گائے کے فروخت کرنے کا حکم دیتے ہیں یا نہیں ۔ لڑکے نے یہی کہا فرشتہ نے جواب دیا کہ ابھی اس کو روکے رہو جب بنی اسرائیل خریدنے آئیں تو اس کی قیمت یہ مقرر کرنا کہ اس کی کھال میں سونا بھر دیا جائے جوان گائے کو گھر لایا اور جب بنی اسرائیل جستجو کرتے ہوئے اس کے مکان پر پہنچے تو یہی قیمت طے کی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ضمانت پر وہ گائے بنی اسرائیل کے سپرد کی مسائل اس واقعہ سے کئی مسئلے معلوم ہوئے۔(۱) جو اپنے عیال کو اللہ کے سپرد کرے اللہ تعالیٰ اس کی ایسی عمدہ پرورش فرماتا ہے۔(۲) جو اپنا مال اللہ کے بھروسہ پر اس کی امانت میں دے اللہ اس میں برکت دیتا ہے مسئلہ (۳) والدین کی فرمانبرداری اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔(۴) غیبی فیض قربانی و خیرات کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔(۵) راہ خدا میں نفیس مال دینا چاہئے ۔(۶) گائے کی قربانی افضل ہے۔

(ف121)

بنی اسرائیل کے مسلسل سوالات اور اپنی رسوائی کے اندیشہ اور گائے کی گرانی قیمت سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ وہ ذبح کا قصد نہیں رکھتے مگر جب ان کے سوالات شافی جوابوں سے ختم کردیئے گئے تو انہیں ذبح کرنا ہی پڑا۔