اطاعت امیرکی حدود:اسلام میں خلیفۂ برحق اور شرعی طور پر مجاز حاکم وامیر کی اطاعت بلاشبہ لازم ہے اور رعایا میں سے جو بھی فرد خلیفۂ برحق کی اطاعت سے عدول وخروج کرے‘ وہ باغی کہلاتا ہے‘ لیکن یہ اطاعت غیر محدود اور غیر مشروط (Unconditional)نہیں ہے‘ بلکہ یہ اطاعت صرف اسی صورت میں اور اس وقت تک لازم ہے جب تک خلیفہ یا امیر یا حاکم اعلیٰ کے احکام ‘اطاعتِ الٰہی اور اطاعت رسول کے دائرے میں ہوں اور اگر امیر خودہی اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول مکرم ﷺ کی مقررہ حدود کی حرمت کو پامال کرے‘ تو اس کی اطاعت ہرگز لازم نہیں ہے۔ اس سلسلے میں رسول اللہ ﷺنے ایک ابدی اور دائمی ضابطہ بیان فرمادیا ہے: ”کسی ایسے معاملے میں مخلوق (خواہ وہ سربراہ مملکت وحکومت ہی ہو)کی اطاعت تم پر لازم نہیں ہے‘ جس سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی لازم آتی ہو‘اطاعت تو صرف نیک کاموں میں لازم ہے‘‘(صحیح مسلم:1840)۔

اس سے معلوم ہؤا کہ اسلام میں مقتدر مطلق(Sovereign)نہ سربراہ مملکت وحکومت ہے‘ نہ قاضی القضاۃ (Chief Justice)‘ نہ پارلیمنٹ اور نہ عوام۔ مُقتدِرِ مُطلق(Absolute sovereign) صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور غیر مشروط مُطاع‘ یعنی جس کی اطاعت ہر حال اور ہرصورت میں لازم ہو‘صرف اﷲ تعالیٰ اور رسولﷺ کی ذات ہے‘ اسی کو قرآن نے ”حاکمیتِ الٰہیہ‘‘ سے تعبیر فرمایا ہے‘لہٰذا اس قسم کے تمام سلوگن کہ ”اقتدار کا سر چشمہ عوام ہیں یا اقتدارِ اعلیٰ (Sovereignty) پارلیمنٹ کو حاصل ہے‘‘درست نہیں ہیں۔ اسلام میں ہر سطح کا اقتدار واختیار مشروط‘ نیابتِ رسول اور خلافتِ الٰہی کی مقررہ حدود کا پابند ہے‘اسی اصول کو اللہ تعالیٰ نے سورۂ نساء آیت:59 میں بیان فرمایا ہے۔

عوام کی ذمہ داری: حضرت ابو بکر صدیق ؓنے فرمایا:”(بالفرض) میں غلط روش اختیار کروں تو تم مجھے سیدھاکردو‘‘۔ اس سے معلوم ہوا کہ عامّۃ المسلمین بالخصوص اہل الرائے اور اہل فکر ونظر پر یہ شرعی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو امور مملکت وحکومت سے الگ تھلگ نہ رکھیں‘ حاکمِ وقت پر کڑی نظر رکھیں‘ وہ شریعت کے جادئہ مستقیم پر رواں دواں ہے‘ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی ہدایات وحدود پر سختی سے کاربند ہے تو حمایت حق کے لیے اس کے دست و بازو بن جائیں ‘اگر خدانخواستہ و ہ راہ راست پر نہیں ہے‘ حق کو ٹھکرا رہا ہے ‘حدود الٰہی کو پامال کر رہا ہے ‘تو اسے اجتماعی قوت سے سیدھا کر دیں ‘لیکن اگر اصلاح و ہدایت کی آوازِ حق کے لیے وہ اندھا اور بہرا بن گیا ہے تو اسے معزول کر دیں ۔ کچھ لوگ اپنے تقوے اور پارسائی پر ناز کرتے ہیں اور گردو پیش میں کچھ بھی ہوتا رہے ‘ اس سے الگ تھلگ رہتے ہیں ‘ایسے لوگوں کی توجہ کے لیے احادیث پیش خدمت ہیں:

(1)”حضرت حذیفہ بیان کرتے ہیں:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قسم اس رب ذوالجلال کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے‘ تم پر لازم ہے کہ نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو‘ ورنہ بعید نہیں کہ اللہ تم پر اپنا عذاب نازل فرمائے‘ پھر تم ضرور دعائیں بھی کروگے ‘لیکن وہ اللہ کی بارگاہ میں قبول نہیں ہوگی‘‘(سُنن ترمذی:2169)۔ (2)حضرت جابربیان کرتے ہیں:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ نے جبریل علیہ السلام کو حکم فرمایا کہ فلاں بستی کو اس کے رہنے والوں سمیت الٹ دو‘جبریل امین نے عرض کیا:اے اللہ!اس بستی میں تیرافلاں(نیک اور پارسا) بندہ بھی ہے جس نے کبھی پلک جھپکنے کی مقدار بھی تیری نافرمانی نہیں کی‘توربّ تبارک وتعالیٰ فرمائے گا:ہاںاس شخص سمیت پوری بستی کو الٹ دو ‘کیونکہ(اس کے سامنے میری حدود پامال ہوتی رہیں‘ لیکن اس کی غیرتِ ایمانی کبھی نہ جاگی اورحدودِ الٰہی کو پامال ہوتا ہوا دیکھ کر)میری خاطراس کا چہرہ کبھی غضب آلود نہ ہوا‘‘(مشکوٰۃ :5152) ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی ذات کی حد تک تو پارسا تھا ‘ لیکن معاشرے میں فساد پیدا ہورہا تھا ‘ حدودِ الٰہی پامال ہورہی تھیں‘ وہ اس سے لاتعلق رہا‘نہ کبھی اس نے کسی ظالم کو ٹوکا‘ نہ ظلم سے اس کا ہاتھ روکا‘نہ مظلوم کی داد رسی کی ‘ تو مومن کا صرف خود متقی بن کر رہنا اخروی نجات کے لیے کافی نہیں ہے‘ اس سے گردوپیش کے بارے میں سوال ہوگا۔

اسلامی حکومت کے قیام کا مقصد: تاریخ کے اکثر ادوار میں یہ دیکھا گیا ہے کہ ظالم طاقت ور ہوتا ہے ‘ وہ طاقت کے نشے میں چُور ہوتا ہے‘ اثر ورسوخ کا مالک ہوتا ہے‘ اس کے سامنے قانون بے اثر ہوجاتاہے اور نظامِ عدل معطَّل و مفلوج ہو جاتاہے اور رقص ابلیس کرتا ہے۔ حکومت الٰہیہ ‘ خلافتِ ربّانی اور امارتِ اسلامی کے قیام کا اولین مقصد یہی ہے کہ ظلم کے بڑھتے ہوئے ہاتھ کو روکا جائے ‘ نہ رکے تو اسے کاٹ پھینکا جائے۔”طاقت ‘‘ کو معیار حق نہ بنایا جائے‘ بلکہ ” حق‘‘ کی قوت کو تسلیم کیا جائے۔مظلوم چونکہ حق پر ہوتا ہے اس لیے ریاست اپنی طاقت اس کے پلڑے میں ڈالے ‘تاکہ ظالم حق کی طاقت کو تسلیم کر کے اس کے آگے سرنگوں ہو جائے اور مظلوم کو اس کا حق دینے پر راضی ہو جائے۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے اولین خطبۂ خلافت میں اسی فلسفۂ حکمرانی کوعمل کے قالب میں ڈھال کر دکھا یا اورفرمایا: ”میرے نزدیک مظلوم طاقت ور ہے تا وقتیکہ میں ظالم سے اس کا حق چھین کر اُسے دلادوں‘‘ کیونکہ مظلوم کی فریاد میں اتنی تاثیر ہے کہ عرش الٰہی کو ہلا دیتی ہے‘ رسول اللہ ﷺ کاارشادہے:”مظلوم کی فریاد سے ڈرو ‘ کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہے‘‘(بخاری:1496)۔

حدیث مبارک ہے: ” قیامت کے دن مقتول مظلوم اپنے قاتل کوپیشانی سے پکڑ کر اللہ کی عدالت میںپیش کرے گااور عرض کرے گا : اے رب کریم!اس سے پوچھیے کہ اس نے مجھے (ظلماً) کیوں قتل کیا؟‘قاتل عرض کرے گا:(اے رب!)فلاں بادشاہ یا حکمراں کے دور میں‘ میں نے یہ قتل کیا ‘(یعنی وہ دور ہی ظلم کا تھا)‘‘ (نسائی:4010)۔ اور انسانیت اسی نظام عدل کے لیے ترس رہی ہے جس کا نمونۂ کامل سید المرسلین ﷺ نے قائم فرمایا اور پھر خلفائے راشدین نے اس”منہاج ِ نبوت‘‘پر نظام خلافت اور نظام عدل کو قائم کر کے دکھایا۔اسی عدل کی برکات تھیں کہ اس دور کی دونوں سپر پاورز‘ یعنی قیصر وکسریٰ ‘ عظمت اسلام کے آگے سرنگوں ہوگئیں۔

جہاد ہی میں بقاء ہے: رسول ﷺ کا فرمان ہے :”جہاد قیامت تک جاری رہے گا‘‘ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جو قوم جہاد کو ترک کردیتی ہے ‘ا للہ اس پر ذلّت و رسوائی مسلط فرما دیتاہے‘‘۔ لہٰذا اہل ایمان کی سربلندی اور عزت وسرفرازی کا راز جہاد میں مضمر ہے۔

فواحش نزول بلاء و وبا کا سبب ہے: حضرت ابوبکر نے اپنے خطبہ میں فرمایا : ”جب کسی قوم میں بے حیائی و بدکاری فروغ پاتی ہے تو اس پر ارضی وسماوی مصیبتیں نازل ہوتی ہیں‘‘۔رسول اللہﷺ نے فرمایا :”جب کسی قوم میں اللہ کی نافرمانی کا دور دورہ ہو ‘ معاصی عام ہوں اور وہ طاقت کے باوجو د ان کا سدِباب نہ کریں تو اللہ ان پر عمومی عذاب نازل فرماتاہے۔

مسئلۂ تکفیر:آج کل بہت سے لوگ اس مسئلے کو پوری قوت کے ساتھ اجاگر کرتے ہیں کہ ریاست کے علاوہ کسی شخص کو اس امر کی اجازت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ کفر کا فتویٰ جاری کرے یا کسی فعل کو کفر قرار دے اور اس کے مرتکب کو کافر کہے ۔ بلاشبہ کسی کو کافر کہنا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ ہمارے فقہائے کرام نے لکھا ہے: ”خلاصہ‘ وغیرہ میں ہے : جب ایک کلام میں کئی پہلو کفر کا اَحتمال رکھتے ہوں اورایک احتمال کفر سے مانع ہو‘تو مفتی پر لازم ہے کہ اس مسلمان کے ساتھ حسنِ ظنّ رکھتے ہوئے ‘اُس ایک احتمال کو ترجیح دے اور تکفیر سے احتراز کرے‘(عالمگیری‘جلد 2ص:283)‘‘ لیکن اگر کوئی شخص کفریہ معنیٰ کو سمجھ کر اس پر اصرار کرے ‘توپھر اس پر کفرکا حکم لگایاجائے گا۔

لیکن اگر حکومت اسلام سے لاتعلق ہوجائے تو اُس عہد کے علمائے حق پر لازم ہے کہ اسلامی عقائد کی حفاظت کریں اور کفر صریح کو کفر کہیں ۔ لوگ ہمارے پاس ایسے بے شمار سوال لے کرآتے ہیں کہ ایک شخص سرے سے اللہ کی ہستی کا منکر ہے ‘ معاذاللہ! اللہ تعالیٰ کو ظالم کہتاہے‘ قرآن کا‘ رسول کا انکار کرتاہے‘ تو ہمیں کیا کہنا چاہیے کہ وہ سچا اور پکامسلم ہے۔ فتویٰ کسی بھی دریافت طلب مسئلہ کے بارے میں فقہی رائے اور شرعی حکم بیان کرنے کا نام ہے۔ فتویٰ قضا نہیں ہے ‘ قضاعدالت کامنصب ہے۔ یہ قاضی اور جج کا منصب ہے کہ وہ کسی دعوے کی صداقت کو پرکھے ‘ اسے درست قرار دے ‘ اس کا حکم بیان کرے اور قانون کے مطابق سزا دے یا دعوے کو باطل قرار دے ۔ اگر ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرے ‘ تو یہ سب سے اَحسن طریقہ ہے اورحضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہی کیا‘ رسول اللہ ﷺ کے وصال فرمانے کے بعد انتہائی حساس اور نازک دور تھا‘ مگر جب انکارِ زکوٰۃ اور جھوٹے مُدعیانِ نبوت کا فتنہ برپاہوا تو خلیفۃ الرسول نے زکوٰۃ کی ادائیگی سے انکار کرنے والوں سے قتال کیایہاں تک کہ وہ زکوٰۃ دینے پر آمادہ ہوگئے‘ مُرتدین اور خصوصاً مُسَیلَمہ کذّاب کے خلاف جہاد کرکے فتنۂ انکارِ ختمِ نبوت کی سرکوبی کی۔ اِسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خارجیوں کے خلاف جہاد کیا اور اس فتنے کا خاتمہ کیا‘اُس زمانے کے خوارج کا فتنہ یہ تھاکہ وہ انارکسٹ تھے ‘ مذہبی انتہا پسند تھے‘اپنے نظریے سے اختلاف رکھنے والے مسلمانو ں کو کافر اور واجب القتل سمجھتے تھے۔

از مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان قبلہ

بشکریہ روزنامہ دنیا پاکستان