بے عمل خطباء کے لیے وعید

سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:

“میں نے معراج کی رات ایسے لوگوں کو دیکھا جن کے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جارہے تھے, میں نے دریافت کیا: اے جبریل (علیہ السلام)! یہ کون لوگ ہیں؟ تو انہوں نے بتاتا: یہ آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی امت کے خطیب ہیں جو لوگوں کو تو نیکی کی دعوت دیتے تھے مگر اپنے آپ کو بھول جاتے تھے حالانکہ قرآن پڑھتے تھے کیا سمجھتے نہ تھے۔”

ایک اور حدیث میں اس طرح الفاظ بھی ہیں:

“حالانکہ وہ قرآن پڑھتے تھے مگر اس پر عمل نہیں کرتے تھے۔”

[الزواجر عن اقتراف الکبائر للھیتمی ج 2 ص 613]

میرے علم کے مطابق اس حدیث کو امام ابن حبان علیہ الرحمہ نے اپنی صحیح [ابن حبان ج 1 ص 135 رقم الحدیث 53] میں روایت کیا ہے اور اس حدیث کے سب راوی ثقہ ہیں سوائے مغیرہ بن حبیب ختن مالک بن دینار کے۔ لیکن اس کی توثیق کسی نے نہیں کی سوائے خود ابن حبان کے۔ لیکن اس کی متابعت حلیۃ الاولیاء [ ج 8 ص 43-44] میں بقیہ (صدوق اور حسن الحدیث) راوی نے کر رکھی ہے اس لیے یہ روایت سندا حسن ہے۔

اس کے باوجود اس حدیث کی اور اسناد بھی ہیں۔ جو مجموعی طور اس کو صحیح لغیرہ کے درجہ تک لے جاتی ہیں۔

دوسری روایت کو امام بیہقی علیہ الرحمہ نے شعب الایمان [رقم الحدیث 1637] میں روایت کیا ہے اور میرے علم کے مطابق اس کی سند صحیح ہے۔

واللہ اعلم

✍رضاءالعسقلانی غفراللہ لہ

25 فروری 2018ء