*درس 034: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وَالسُّنَّةُ فِيهِ أَنْ يَغْسِلَ بِيَسَارِهِ لِمَا رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ «الْيَمِينُ لِلْوَجْهِ، وَالْيَسَارُ لِلْمَقْعَدِ»،

استنجا میں سنت یہ ہے کہ الٹے ہاتھ سے دھویا جائے، کیونکہ نبی کریمﷺ ارشادفرماتے ہیں: دایاں ہاتھ چہرے کے لئے ہے اور بایاں ہاتھ مقعد (پچھلا مقام جہاں سے نجاست خارج ہوتی ہے) کے لئے ہے۔

ثُمَّ الْعَدَدُ فِي الِاسْتِنْجَاءِ بِالْمَاءِ لَيْسَ بِلَازِمٍ، وَإِنَّمَا الْمُعْتَبَرُ هُوَ الْإِنْقَاءُ، فَإِنْ لَمْ يَكْفِهِ الْغَسْلُ ثَلَاثًا يَزِيدُ عَلَيْهِ

پانی سے استنجا میں تعداد مقرر نہیں ہے بلکہ صفائی حاصل ہوجانے کا اعتبار ہے، تو اگر تین بار دھونے سے بھی صفائی حاصل نہ ہو تو اس سے زیادہ بار پانی استعمال کیا جائے۔

وَإِنْ كَانَ الرَّجُلُ مُوَسْوَسًا فَلَا يَنْبَغِي أَنْ يَزِيدَ عَلَى السَّبْعِ لِأَنَّ قَطْعَ الْوَسْوَسَةِ وَاجِبٌ، وَالسَّبْعُ هُوَ نِهَايَةُ الْعَدَدِ الَّذِي وَرَدَ الشَّرْعُ بِهِ فِي الْغَسْلِ فِي الْجُمْلَةِ كَمَا فِي حَدِيثِ وُلُوغِ الْكَلْبِ.

اور اگر کوئی وسوسے کا شکار ہو تو سات بار سے زیادہ پانی استعمال کرنا درست طریقہ نہیں ہے، اس لئے کہ وسوسہ کو دور کرنا واجب ہے اور سات کی تعداد آخری حد ہے جو شریعتِ مطہرہ میں بیان ہوئی ہے جیسا کہ کتے کے جوٹھے کا مسئلہ ہے۔

مَطْلَبٌ فِي كَيْفِيَّةِ الِاسْتِنْجَاءِ

(وَأَمَّا) كَيْفِيَّةُ الِاسْتِنْجَاءِ فَيَنْبَغِي أَنْ يُرْخِيَ نَفْسَهُ إرْخَاءً تَكْمِيلًا لِلتَّطْهِيرِ

(پانی سے) استنجا کا طریقہ

بہتر ہے کہ اپنے بدن کو مکمل طہارت حاصل کرنے کے لئے ڈھیلا چھوڑدے۔

وَيَنْبَغِي أَنْ يَبْتَدِئَ بِأُصْبُعٍ، ثُمَّ بِأُصْبُعَيْنِ ثُمَّ بِثَلَاثٍ أَصَابِعَ؛ لِأَنَّ الضَّرُورَةَ تَنْدَفِعُ بِهِ، وَلَا يَجُوزُ تَنْجِيسُ الطَّاهِرِ مِنْ غَيْرِ ضَرُورَةٍ

مناسب یہ ہےکہ پہلے ایک انگلی سے ابتدا کرے پھر دو اور تین انگلیوں سے استنجا کرے، اس لئے کہ ضرورت اسی سے پوری ہوجاتی ہے تو بلا ضرورت پاک چیز کو ناپاک کرنا جائز نہیں ہے۔

وَيَنْبَغِي أَنْ يَسْتَنْجِيَ بِبُطُونِ الْأَصَابِعِ لَا بِرُءُوسِهَا كَيْلَا يُشْبِهَ إدْخَالَ الْأُصْبُعِ فِي الْعَوْرَةِ، وَهَذَا فِي حَقِّ الرَّجُلِ.

اور بہتر یہی ہے کہ انگلیوں کے اندرونی حصے سے استنجا کرے نہ کہ انگلیوں کے سِروں سے تاکہ یہ صورت سِتر میں انگلی داخل کرنے سے مشابہ نہ ہو، اور یہ حکم مرد کے لئے ہے۔

وَأَمَّا الْمَرْأَةُ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: تَفْعَلُ مِثْلَ مَا يَفْعَلُ الرَّجُلُ وَقَالَ بَعْضُهُمْ يَنْبَغِي أَنْ تَسْتَنْجِيَ بِرُءُوسِ الْأَصَابِعِ

اور رہا عورتوں کے لئے حکم، تو بعض فقہاء نے فرمایا کہ عورتیں وہی طریقہ اختیار کریں جو مرد کرتے ہیں اور بعض فقہاء نے فرمایا کہ عورتوں کے لئے انگلیوں کے سِروں سے استنجا بہتر ہے۔

لِأَنَّ تَطْهِيرَ الْفَرْجِ الْخَارِجِ فِي بَابِ الْحَيْضِ، وَالنِّفَاسِ، وَالْجَنَابَةِ وَاجِبٌ، وَفِي بَابِ الْوُضُوءِ سُنَّةٌ، وَلَا يَحْصُلُ ذَلِكَ إلَّا بِرُءُوسِ الْأَصَابِعِ.

وجہ یہ ہے کہ فرجِ خارج (بیرونی شرمگاہ) کی صفائی حیض، نفاس اور جنابت میں واجب ہے اور وضوکے معاملے میں سنت ہے، اور یہ صفائی انگلیوں کے سِروں سے (اچھی طرح)حاصل ہوجاتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

* استنجا بائیں ہاتھ سے کرنا سنت ہے۔ اس پر پچھلے دروس میں گفتگو ہوچکی ہے۔

* جس طرح ڈھیلوں کی تعداد مقرر نہیں ہے اسی طرح پانی سے استنجا میں بھی پانی کی کوئی مقدار مقرر نہیں ہے بلکہ جتنی بارمیں طہارت حاصل ہوجائے اتنی بار پانی کااستعمال کرنا چاہیئے۔ ہاں اگر کوئی وسوسے میں مبتلا رہتا ہو تو فقہا نے اس کی حد سات بار بیان کی ہے کیونکہ حدیث مبارک میں کتے کا جوٹھا برتن پاک کرنے کی حد سات بیان فرمائی ہےاور یہ Maximum حد ہے جو احادیث میں بیان ہوئی ہے۔ بعض نے نو اور بعض نے دس بھی رکھی لیکن سات کی مقدار ہی مناسب ہے اور اتنے سے وسوسے کی جڑ کٹ جاتی ہے۔

*استنجا کاطریقہ*

استنجا عموما دوچیزوں سے کیا جاتا ہے۔

(1) ڈھیلے سے (2) پانی سے

علامہ کاسانی نے ڈھیلوں سے استنجا کا طریقہ بیان نہیں فرمایا لیکن پانی سے استنجا کا طریقہ بیان کیا ہے۔

ہم یہاں دونوں طریقے ذکر کر دیتے ہیں مگر یہ وضاحت بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ یہ طریقے واجب یا سنت نہیں ہیں بلکہ فقہاء کرام نے *’پاکیزگی کے عمل’* پر غور کرتے ہوئے یہ طریقے ذکر کئے ہیں تاکہ مکمل طور پر طہارت حاصل ہوجائے اور نجاست کا احتمال کم سے کم ہوجائے۔

*ڈھیلوں سے استنجا کا طریقہ*

پاخانہ کے بعد مرد کے لیے ڈھیلوں کے استعمال کا مستحب طریقہ یہ ہے کہ گرمی کے موسم میں پہلا ڈھیلا آگے سے پیچھے کو لے جائے اور دوسرا پیچھے سے آگے کی طرف اور تیسرا آگے سے پیچھے کو اور جاڑوں (سردیوں) میں پہلا پیچھے سے آگے کو اور دوسرا آگے سے پیچھے کو اور تیسر اپیچھے سے آگے کو لے جائے۔

عورت ہر زمانہ میں اسی طرح ڈھیلے لے جیسے مرد گرمیوں میں۔ (بہارِشریعت)

اس طریقہ کی وجہ کتبِ فقہ میں یہ بیان کی ہے کہ مرد کے خصیے (فوطے) گرمیوں میں جھکے ہوئے ہوتے ہیں لہذا پیچھے سے نجاست پونچھتے ہوئے آگے لائیں گے تو فوطے کے نجاست سے ملوث ہوجانے کا احتمال ہے لہذا بہتر یہ ہے کہ گرمیوں میں آگے سے پیچھے لے جانے سے ابتدا کی جائے۔۔۔ جب کہ سردیوں میں فوطے سُکڑے ہوئے ہوتے ہیں لہذا پیچھے سے آگے کی جانب ابتدا کی جائے، اسلئے کہ اقبال یعنی آگے کی جانب لاکر استنجا کرنے سے صفائی زیادہ حاصل ہوتی ہے۔ (تبیین الحقائق)

لِأَنَّ الْإِقْبَالَ أَبْلَغُ فِي التَّنْقِيَةِ (تبیین الحقائق)

*پانی سے استنجا کا طریقہ*

پاخانہ کے بعد پانی سے استنجے کا مستحب طریقہ یہ ہے کہ کشادہ ہو کر بیٹھے اور آہستہ آہستہ پانی ڈالے اور انگلیوں کے پیٹ سے دھوئے انگلیوں کاسِرا نہ لگے اور پہلے بیچ کی انگلی اُونچی رکھے، پھر وہ جو اس سے متصل ہے اس کے بعد چھنگلیا اُونچی رکھے اور خوب مبالغہ کے ساتھ دھوئے، تین انگلیوں سے زِیادہ سے طہارت نہ کرے اور آہستہ آہستہ ملے یہاں تک کہ چکنائی جاتی رہے۔

ہتھیلی سے دھونے سے بھی طہارت ہو جائے گی۔

عورت ہتھیلی سے دھوئے اور بہ نسبت مرد کے زیادہ پھیل کر بیٹھے۔ (بہارِ شریعت)

علامہ کاسانی نے جو لکھا ہے کہ بدن کو ڈھیلا چھوڑے یہ عام حالات میں ہے، اگر روزہ دار ہو تو بدن کو ڈھیلا نہ چھوڑے اور مبالغہ بھی نہ کرے کہ کہیں پانی مقعد میں نہ چلا جائے۔

علامہ کاسانی سمیت بعض فقہاء نے یہی لکھا ہے کہ عورتوں کو چاہئے کہ انگلیوں کے سِروں سے صفائی کرے تاکہ اچھے طریقے سے طہارت حاصل ہو۔۔۔ لیکن یہ اسی وقت ہے جب اس طریقے سے لذت آجانے کا خوف نہ ہو جیسا کہ تبیین اور رد المحتار میں اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور اگر لذت کا خوف ہو تو انگلیوں کے سِروں سے استنجا نہ کرے بلکہ ہتھیلی کے ذریعے استنجا کرے۔

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی نے لکھا ہے کہ *عورت ہتھیلی سے دھوئے*، غالبا آپ کے پیشِ نظر یہی حکمت ہوگی اور انہی خوبیوں کی بنا پر ہمارے علماء بہارِ شریعت کی جانب ترغیب دلاتے ہیں۔

قدوری کی مشہور شرح الجوہرۃ النیرۃ میں علامہ سرخسی کے حوالے سے لکھا ہے : وَقَالَ السَّرَخْسِيُّ لَا كَيْفِيَّةَ لَهُ وَالْقَصْدُ الْإِنْقَاءُ یعنی استنجا کا کوئی خاص طریقہ نہیں بلکہ مقصودصفائی ہے۔

لہذا اگر کوئی ان طریقوں پر عمل نہ کرے توکوئی قباحت نہیں ہے، اصل مقصود صفائی ہے وہ جس طرح اور بہتر انداز میں ہوسکے کافی ہے۔

یہاں استنجاکے بیان کا اختتام ہوا۔

*ابو محمد عارفین القادری*